جب بونیر کا ہسپتال کورونا مریض کو حوالات اور ڈاکٹر تھانیدار لگا

عثمان خان

”کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد میں جیسے ہی ہسپتال پہنچا تو وہاں موجود ڈاکٹر کا رویہ بہت ہی عجیب تھا۔ ڈاکٹر نے کہا نزدیک آنے کی زحمت نہ کرو اور دور ہی سے اپنی فائل مجھے پھینک دو۔ مجھے ایسے لگا کہ میں ہسپتال نہیں بلکہ کسی سنگین جرم میں تھانے پہنچ چکا ہوں اور میرے سامنے ڈاکٹر نہیں بلکہ رعب و دبدبہ رکھنے والا پولیس افسر ہو جو مجھے ابھی حوالات میں بند کرنے کے ساتھ ہی میری پٹائی شروع کر دے گا۔”

ضلع بونیر کے مشہور علاقے پیر بابا کے رہائشی جوان آفتاب خان اب مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں لیکن اپنی تکالیف بھولے نہیں۔ مزید تفصیلات انہی کی زبانی سنیے۔

"”جب میں سوات میں کورونا کا ٹیسٹ کروا کر بونیر کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈگر بونیر پہنچا تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔ ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آنے کے بعد میں اور میرا چچازاد ہسپتال انتظامیہ سے رابطے میں تھے اور جیسے ہی کورونا کے مخصوص وارڈ پہنچے تو ڈاکٹر اور ہسپتال انتظامیہ کے رویے نے مجھے حیران و پریشان کر دیا۔ میں چونکہ پہلے ہی مسلسل بخار اور کھانسی سے کافی کمزوری محسوس کر رہا تھا ادھر ہسپتال انتظامیہ نے میرے آنے والوں دنوں کی ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھا دی جس سے میں اور بھی دباؤ میں آ گیا۔

کاعذات دیکھنے کے بعد بغیر حفاظتی کٹ کے موجود ڈاکٹر نے معائنے کی زحمت نہ کی اور کہا وارڈ میں کئی کمرے خالی ہیں بس جلدی سے اندر جاؤ اور کسی کمرے میں لیٹ جاؤ۔ مگر مجھ میں چلنے کی ہمت بلکل نہیں تھی کیونکہ مسلسل بارہ دن تیز بخار اور کھانسی نے مجھے بے حال کر دیا تھا۔

وارڈ کے دروازے پر موجود چوکیدار نے انتہائی خوف کے عالم میں دو انگلیوں سے دروازہ کھولا اور کہا جاؤ اندر لیکن میرے اعصاب نے جواب دے دیا تھا۔ میں گرتے پڑتے جیسے تیسے بمشکل نزدیک پڑی کرسی تک پہنچا اور پھر رینگتے ہوئے پہلے والے کمرے میں داخل ہو گیا لیکن خدا کی قسم یہ مرحلہ میرے لئے پل صراط طے کرنے سے کم نہ تھا۔

میری طبیعت ستائیس رمضان سے ہی خراب ہوئی تھی، تیز بخار کے ساتھ ساتھ متلی بھی آ رہی تھی۔ گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ٹیسٹ کرنے پر پتا چلا کہ ٹائیفائیڈ ہوا ہے جس کے بعد اسی کا علاج شروع کیا لیکن کئی دن گزرنے کے بعد بھی تھوڑا سا بھی افاقہ نہ ہوا بلکہ طبیعت مزید خراب ہوتی گئی۔

آخر کار گھر والے علاقے کے مشہور میڈیکل سپشلسٹ کے پاس لے گئے اور وہاں پر بھی ٹیسٹ میں ٹائیفائیڈ ہی تشخیص ہوئی اور ایکسرے سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ میرا سینہ کافی خراب ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ میرے خون میں پلیٹلٹس بھی کافی حد تک کم ہو گئے ہیں اور دیگر علامات بھی کورونا جیسی ہیں اس لئے پہلی فرصت میں سوات لیبارٹری سے ٹیسٹ کر آؤ۔

ایک چچا زاد کو لے کر سیدو شریف گیا تو ٹیسٹ سے معلوم ہوا کے مجھے کرونا وائرس ہوا ہے۔ نتیجہ دیکھتے ہی میرے اوسان خطا ہو گئے اور بخار مزید چڑھ گیا۔

سوات سے واپسی کے وقت شام کے سات بجے تھے بخار کے ساتھ مجھ پر کھانسی کا دورہ پڑا جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھا۔ نزدیک میڈیکل سٹور سے کھانسی کا شربت لیا تو کچھ حد تک افاقہ ہوا۔

ٹیسٹ نتیجہ آنے کے بعد اپنے ڈاکٹر کو صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے پشاور پولیس سروسز ہسپتال جانے کا مشورہ دیا، وہاں پر گآں کا ایک ڈاکٹر کرونا وارڈ کا انچارج ہے، ان سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کے وہاں پر جگہ خالی نہیں ہے، لہذا فیصلہ کیا کہ اپنے ضلع بونیر کے ہیڈکواٹر ہسپتال جاتے ہیں، عملہ جاننے والا ہو گا تو علاج معالجے میں بھی زیادہ خیال رکھیں گے اور دن رات بھی اچھے گزر جائیں گے لیکن یہاں پہنچا تو ساری خوش فہمی دور ہو گئی اور پتہ چلا کہ کورونا کا مریض ہونا صرف عام معاشرے کے لئے نہیں بلکہ میڈیکل شعبے کے بعض اراکین بھی ایسے مریضوں کو کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اپناتے ہیں۔

رات ایک ڈیڑھ بجے مجھے ایک بار پھر شدید قسم کی کھانسی شروع ہوئی، میرے پاس اپنی موجود دوا ختم ہو گئی تھی، چوکیدار اور ڈاکٹر کو بہت آوازیں دیں لیکن انھوں نے تو جیسے نہ آنے کی ٹھان لی تھی۔ رینگتے ہوئے دروازے تک پہنچا اور کھانسی کا شربت مانگا، دو بجے انہیں شائد تھوڑا رحم آیا اور دور سے شربت کی بوتل میری طرف پھینک دی۔
رات تین بجے ڈاکٹر نے ٹیلی فون کال پر بتایا کہ آکسیجن لیول معلوم کرنے کے لئے ایک ٹیسٹ کرنا ہے۔

ڈاکٹر نے کمرے کے اندر آنے کے بجائے مجھے دروازے تک آنے کا کہا لیکن رات بھر کھانسی نے مجھے بے حال کر دیا تھا اور مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔ ڈاکٹر نے مجبور کیا تو رینگتے رینگتے دروازے تک آیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ باہر مت آؤ صرف اپنا ہاتھ باہر نکال دو۔

جب آکسیجن کا ٹیسٹ ہوا تو معلوم ہوا کے میرا کسیجن لیول بھی تشویشناک حد تک گر چکا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ گھر کے کسی بندے کا نمبر دو, میں نے نمبر تو دے دیا لیکن ساتھ میں میری تشویش بڑھ گئی کہ خدا نخواستہ میری آخری گھڑی آں پہنچی ہے اس لئے میرے گھر والوں کو بلایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نے جب میرے گھر والوں سے رابطہ کیا تو ان کا بھی میرے جیسا ہی حال تھا اور سارے بہت سہمے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے میرے چچا کو بتایا کہ میرا سینہ بہت زیادہ خراب ہے اور مزید چند گھنٹے میں یہ نہ سنبھلا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ان کے پاس آکسیجن نہیں ہے اس لئے مجھے مردان منتقل کر دینا چاہئے۔

اس دوران میں مسلسل اپنے اہل و عیال کے بارے میں سوچتا رہا۔ مجھے زیادہ فکر اپنے ڈھائی سالہ بیٹے اور نو ماہ کی بیٹی کی تھی۔ روز میرے بانہوں میں کھیلتے تھے۔ بار بار یہ خیال کہ آج خدانخواستہ وہ یتیم تو نہیں ہونے والے۔

گھر والے آگئے تو مردان میڈیکل کمپلیکس جانے کا فیصلہ ہوا۔ پورے راستے پر سخت بخار اور کھانسی نے حالت اور خراب کر دی۔ کسی پر ہو نہ ہو مجھ پر تو قیامت تھی۔

صبح چھ بجے مردان میڈیکل کمپلیکس پہنچے تو وہاں ڈاکٹر نے انتہائی خوش اخلاقی سے ہمارا استقبال کیا، فوری طور پر پرائیویٹ کمرہ دیا گیا انتہائی صاف، اے سی اور ٹی وی تک کی سہولت موجود تھی، ڈاکٹرز او نرسز نے حوصلہ دیا، ہنگامی بنیادوں پر علاج شروع کیا گیا۔ سینے سے بلغم صاف کرنے کی مشین لگائی گئی اور اس کے بعد آکسیجن لگایا گیا، چونکہ سینہ بہت متاثر تھا اس لئے اینٹی بائیوٹک انجکشنز شروع کئے گئے جس سے طبیعت میں بتدیج بہتری آتی گئی۔ سات دن علاج کے بعد تندروست ہوا اور ڈاکٹرز نے گھر جانے کا مشورہ دیا۔

میری طبیعت تو سنبھل گئی لیکن میرے وجہ سے خاندان کے اور سات افراد وائرس سے متاثر ہوئے تھے جن میں میری بیوی، چھوٹی بہن، بڑے چچا اور ان کا بیٹا بھی شامل تھا۔

اب مشکل یہ تھی میرے دو بچے تھے، ایک شیر خوار بیٹا اور دوسرا بھی انتہائی کم عمر، بیوی قرنطین ہوئی تو وہ چند دن میرے اور دیگر گھر والوں کے لئے بہت مشکل تھے۔ چھوٹے بچوں کو پالنا ماں کے بغیر بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جس دن ہمارے گھر والوں کے کرونا ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو ہم سے پہلے وہ گاؤں کے لوگوں تک پہنچ گیا تھا اور پورے گآں میں ہمارے گھرانے پر تبصرے شروع ہو چکے تھے جیسے ہمارا خاندان دہشت گردی کے بڑے واقع میں ملوث ہے۔ رشتہ داروں اور ہمسائیوں کی طرف سے ہمیں حوصلہ دینے کے بجائے ہمارے خلاف پروپیگینڈہ شروع کرنے پر بہت افسوس ہوا۔

کوئی شک نہیں کہ ہم تمام گھر والوں نے بہت اذیتیں سہیں لیکن بالاخر کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہم سب سرخرو ہو گئے اور مجھے امید ہے ایک دن ہمارا سارا ملک بلکہ ساری دنیا اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔”

Show More
Back to top button