قبائلی شخص کا کورونا مریض سے پلازما ڈونر تک کا سفر کیسا رہا؟

ناہید جہانگیر
قبائلی ضلع خیبر کے رہائشی عبدالرحیم افریدی نے کورونا سے صحتیابی کے بعد ایک خاتون کو اپنا پلازمہ عطیہ کردیا جس پر ان کے بقول انہیں دلی سکون ملا لیکن اس کے باؤجود بھی چند دن بعد اس خاتون کا انتقال ہوگیا۔
عبدالرحیم کے مطابق پلازما عطیہ کرنے کے بعد انہیں پورا یقین تھا کہ خاتون وائرس کو شکست دے دیں گی کیونکہ ڈاکٹروں نے دو دن میں ان کی 70 فیصد ریکوری کی نوید سنائی تھی لیکن پھر تیسرے دن فشار خون تیز ہونے سے ان کی اچانک موت نے ان کے خاندان کے علاوہ مجھے بھی کافی افسردہ کردیا۔
میرے پلازما دینے کے باوجود خاتون بچ تو نہ سکی جسکا مجھے بہت دکھ ہے لیکن ساتھ میں یہ دلی اطمینان بھی ہے کہ میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔
میں جب خود کورونا سے متاثر ہوا تو بہت تکالیف جھیلیں اور میری خواہش تھی کہ اگر اس مرض میں مبتلا دوسرے افراد کی کسی بھی قسم کی مدد کرسکوں تو ضرور کروں گا۔
کورونا سے متاثر ہونے کے بعد عبدالرحیم کے تکالیف اس لئے بھی دوسرے لوگوں سے مختلف تھی کہ ان کے فورا بعد ان کی بیوی میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوگئی اور دونوں کے قرنطینہ میں چلے جانے کے بعد ان کا 12 سالہ بیٹا اور 9 سالہ بیٹی اکیلے رہ گئے۔
عبدالرحیم اور ان کی بیوی کورونا سے کیسے متاثر ہوئے؟
رمضان کے مہینے میں، میں راولپنڈی گیا تھا اس سے پہلے بھی احتیاط نہیں کرتا تھا اور اپنے علاقے میں نماز جنازہ سمیت ہر قسم کے اجتماع و تقریبات میں شرکت کرتا تھا اور ساتھ میں ہاتھ ملانے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ پنڈی سے واپسی پر طبیعت خراب ہوگئ، گلے میں تکلیف اور بدن میں درد شروع ہوگیا ،سخت بخار اور کانسی کے بعد ہسپتال گیا، ڈاکٹر نے سب سے پہلے ایکسرا کیا تو وہ کلیئر آنے کے بعد کورونا کا ٹیسٹ کیا گیا جسکا نتیجہ مثبت آیا، ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ابھی فلحال چونکہ سانس کی تکلیف نہیں ہے تو آپ گھر میں ہی خود کو آئسولیٹ کردیں اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اگر گھر پر سانس لینے میں دشواری پیش آئے تو فورا ہسپتال پہنچ جایا کریں۔


ڈاکٹر کے کہنے پر گھر والوں کے بھی ٹیسٹس کروائیں تو دونوں بچوں کا نتیجہ کلیئر جبکہ بیوی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔
میاں بیوی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دونوں نے خود کو گھر میں آئیسولیٹ کردیا اور ڈاکٹر کے ہدایت کے مطابق پیناڈول،زتھرومائسن، اینٹی الرجیک اور گرم پانی سے غراروں کا استعمال باقاعدگی سے کرتے رہیں۔
قرنطینہ میں کیا بڑی مشکلات پیش آئی اور کیسے نبرد ازما ہوئیں؟
ان کے بقول میاں بیوی الگ الگ کمروں میں آئسولیٹ ہوگئے تو پہلے ہم دونوں اور بچوں کو بہت مشکلات پیش آ رہی تھی۔ گھر میں کھانا بنانے والا اور گھر کے دوسرے کام کاج کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ میرا کاروبار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔
اگر ایک طرف ہم میاں بیوی کو اپنی بیماری کی فکر لاحق تھی اور طرح طرح کے خیالات ذہن میں آ رہے تھے کہ خدانخواستہ کچھ ہو نہ جائے تو دوسری طرف بچوں سے ملنے اور انہیں گلے لگانے کے لئے بھی ترس رہے تھے۔ اس معاملے میں چونکہ ماں زیادہ حساس ہوتی ہے تو وہ اکثر اوقات افسردہ ہوجاتی تھی کہ بچوں کو چھو نہیں سکتی اور ایسا نہ ہو کہیں بچے اکیلے میں ڈر جائے اور انہیں کوئی نقصان پہنچے تو پھر کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘کورونا کا شکار ہوا تو گاؤں میں یہ پروپیگنڈا تھا کہ رقم بٹورنے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہوں’

‘کورونا ٹسٹ مثت آیا تو ایسے لگا مجھ سے کوئی غیراخلاقی کام سرزد ہوا ہو’ 

جب بونیر کا ہسپتال کورونا مریض کو حوالات اور ڈاکٹر تھانیدار لگا

ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ گھریلو کام کاج نبھانے والا کوئی نہیں تھا۔ چونکہ میری بیوی میں کورونا کے واضح علامات نہیں تھے تو ان کی طبیعت بھی میرے نسبت کافی اچھی تھی۔ ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد میری بیوی نے کھانا بنانے سمیت گھریلو کام کاج کرنا شروع کردئے لیکن اس دوران گلوز اور ماسک استمال کرنے سمیت تمام ایس او پیز کا بہت خیال رکھتی تھی۔
شروع کے ایک دو دن مشکل میں گزاریں اس لئے کہ اپنے گھر اور کاروباری امور کو بیماری کے دوران ترتیب دینا پہلا تجربہ تھا لیکن بعد میں سب نارمل ہوگی۔
ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھتے ہوئے میں اپنا کاروباری لین دین کرسکتا ہوں، فون پر کاروباری لین دین تو ہوتا رہا لیکن اسی طرح نہ ہوسکا جسطرح بندہ خود جاکر دیکھ لیتا ہے جس کی وجہ سے تھوڑا بہت کاروبار میں بھی نقصان ہوا۔
مجھ سے زیادہ میری بیوی کا حوصلہ تھا، کوئی پریشانی یا ڈر اس نے محسوس نہیں کیا، معمول کے مطابق گھر کے کام کاج کرتی رہی، بچوں اور انکی خدمت میں کوئی کمی نہیں نظر نہیں آئی، بچے بھی سمجھدار تھے اور بہت آسانی کے ساتھ اپنی ماں سے 14 دن تک الگ رہے۔
کچھ دوست احباب تو سمجھ رہے تھے کہ عبدالرحیم کورونا کا شکار ہوکر بستر مرگ تک پہنچ چکا ہے اور اب شاید کبھی صحت یاب نہ ہو لیکن اللہ کا کرم ہے تمام خدشات غلط ثابت ہوگئے۔
14 دن گھر پر آئسولیشن میں گزارنے کے بعد ہم دونوں میاں بیوی ہسپتال گئے اور اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا تو دونوں کا نتیجہ منفی آیا۔ نتیجہ منفی آنے کےبعد ہمارے آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے اور سیدھا گھر کی راہ لے لی جہاں بچے ہماری صحت کی دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے انتظار کر رہے تھے۔
پلازما عطیہ کرنے کا مرحلہ
صحتیابی کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ کورونا میں مبتلا ان کی والدہ کی حالت کافی خراب ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں پلازما تھراپی تجویز کی ہے۔ چونکہ میرا خون گروپ ان کی والدہ کے خون گروپ کے ساتھ میچ کر رہا تھا اس لئے میں نے فورا پلازما عطیہ کرنے کی حامی بھرلی۔
میں پلازما صرف اللہ کی رضا اور ثواب کی نییت سے عطیہ کیا دل میں یہی خواہیش تھی کہ پلازما سے کسی دوسرے مریض کی جان بچا سکوں۔
پلازما عطیہ کرنے سے پہلے دل میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا کیونکہ اکثر لوگوں سے اس حوالے سے سن رکھا تھا، پھر ڈاکٹر نے بھی کہ دیا کہ کوئی بھی صحت مند کورونا سے صحت یاب مریض جنکی عمر 18 سال سے 60 سال کے درمیاں ہو وہ پلازمہ دے سکتا ہے اور مزید یہ کہ ایک صحتیاب انسان کے پلازمہ سے دو ایسے مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے جو کہ انتہائی نازک حالت میں ہوں۔
میں ہسپتال چلا گیا تو سب سے پہلے میرے اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کیا گیا، پھرایچ بی اے،ایچ سی وی اور آر پی ایس وغیرہ کا ٹیسٹ کیا گیا جب یہ تمام کلیئر آئے تو پھر کہا گیا کہ میں پلازمہ عطیہ کرسکتا ہوں۔
میرے ذہن میں یہ تھا کہ جسطرح خون کا عطیہ دیا جاتا ہے خون کا بیگ لگایا اور 10 منٹ میں بھر گیا ویسے ہی پلازمہ کا بھی ہوگا لیکن اس دوران نئے تجربے کا سامنا ہوا۔ پلازمہ دینے کے عمل میں 70 منٹ لگے اور ایک خاص طریقے سے عمل پورا کیا گیا۔ خون نکالنے کے بعد پلازمہ ان سے الگ کیا جاتا ہے، جبکہ وہ خون واپس آپ کے بدن میں داخل کردیا جاتا ہے اور اپکے خون کا ایک قطرہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ میرا تجربہ شاندار رہا۔
پلازما کو عطیہ کرنے کے بعد کسی قسم کی کمزوری محسوس نہیں کی، 48 گھنٹوں میں اسکی ریکوری ہوجاتی ہے اور 10 دن بعد آپ دوسرے مریض کو بھی اپنا پلازما عطیہ کرسکتے ہوں۔
میرا عطیہ کئے ہوئے پلازمہ کا دوسرا حصہ کس کو لگایا ہے مجھے نہیں معلوم لیکن یہ ہے کہ اللہ نے مجھے دوسرے انسانوں کی جان بچانے کی توفیق عطا فرمائی ہے جس پر مجھے بے حد خوشی اور دلی اطمینان ہے اور میں کورونا سے صحتیاب تمام افراد سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ بھی پلازمہ عطیہ کریں اور لوگوں کی زندگیاں بچائیں کیونکہ ایک انسان کی جان بچانا اللہ کے نزدیک تمام انسانیت کی جانیں بچانے کے برابر ہے۔

Show More
Back to top button