بلاگز

پی ٹی وی کا عینک والا جن سے لیکر ارطغرل غازی تک کا سفر

سمن خلیل

ایک زمانہ تھا کہ جب پاکستان میں  سرکاری  ٹیلی ویژن  پی ٹی وی  کی حکمرانی تھی  ، مجھے  یاد ہے کہ اس وقت ہمیں  ٹی وی پر صرف  ایک ہی  چینل دیکھنے کو ملتا تھا جب ہم صبح  سکول جاتے تھے تو  سب پہلے  ٹی وی پر قرآن پاک  کی تلاوت سنتے  تھے  اور جب ہم سکول سے واپس آکر تھوڑی دیر آرام کرتے تو  عصر کو  ہمیں اپنے پسندیدہ ڈرامہ عینک والا جن کا بے صبری سے انتظار ہوتا تھا۔ رات کو بھی  پرائم ٹائم  ڈرامے لگتے تھے ، امی بھی جلدی جلدی گھر کے کاموں کو ختم کرکے ہمارے ساتھ اپنی پسندیدہ ڈرامے دیکھتی تھی  جن میں  روزی، الف نوں ، حقیت ، اندھیرا اجالا اور  دھواں  شامل تھے ۔ نو بجے کے خبرنامے  میں ہم ملکی حالات سے باخبر ہوتے  تاہم کچھ حصہ کھیل  اور موسم  کی خبروں پر مشتمل ہوتا تھا۔

اس کے بعد نیلام گھر کے نام سے ایک پروگرام  شروع ہوتا تھا جس کی  میزبانی مرحوم طارق عزیر کرتے تھے  ،وہ صرف  نیلام گھر کے میزبان ہی نہیں بلکہ علم  و ادب کا خزانہ تھے، شاعری ، نثر، محاورے ، ضرب الامثال  اور سب سے بڑھ کر انداز بیان اتنا اچھا تھا کہ اس کی عام سی بات بھی خاص لگنے لگتی تھی۔ اس طرح شاندار موسیقی کا پروگرام  ہوتا تھا  جس میں  عابدہ پروین، نور جہاں اور فریدہ خانم کی غزلوں کی تو بات ہی الگ تھی اور تو اور حسن جہانگیر کا گانا ہوا ہوا کے پیچھے  لوگ پاگل ہوگئے اور پھر نازیہ حسن  اور زوبیب حسن آئیں اور دلوں پر راج کرنے لگے۔ اور نئ نسل جس میں ہم بھی شامل ہیں  ان کے موسیقی  اور انداز کے دیوانے  ہوگئے۔

یہ سال  2002 کی بات ہے کہ  جب  پرویز مشرف کے دور حکومت  میں پرائیوٹ میڈیا کو فرغ  دینے کا فیصلہ ہوا  اور پاکستان الیکٹرانک  میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی تشکیل پائی ، زیادہ سے زیادہ  لائسنس تقسیم کئے گئے  تو بہت کم وقت میں  نئے  نئے  ٹی وی چینلز سامنے  آنے لگے اور ساتھ میں  ہزاروں   نوکریوں  کے  مواقع پیدا ہوئے  مگر  ان کا اثر پی ٹی و ی پر پڑا اور لوگوں  نے پی ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئے چینلز آنے  کی وجہ سے  لوگوں   نے پی ٹی وی کو دیکھنا کم  کردیا  جبکہ پی ٹی وی اس وقت دیگر میڈیا چینلز سے بہتر تھا  جبکہ اجکل  ان چینلز پر ہر طرح کی مواد  نشر کی جاتی ہیں   اور بچے ، بوڑھے  سب ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے ہیں میرے خیال میں ہرقسم کا مواد بچوں کے سامنے لانا یہ درست نہیں ہے  پہلے نہ ہی کسی قسم کے مارننگ شوز ہوتے تھے اور ہی نہ فیشن شوز کے نام پر دِل خوش ہونےکا انتظام ہوتا تھا اور نہ ہی سیاسی ٹاک شوز میں ایک دوسرے کی پگڑی اُچھالنے کا تماشا ہوتا تھا۔

پاکستان کے پرائیوٹ چینلز  میں چند ایسے بھی ہیں جن کے درمیان مختلف ٹاک شوز  پرریٹنگ کا مقابلہ ہوتا ہے ، یہ شوز  زیادہ تر مرد اور خواتین  کی میزبانی میں نشر ہوتے ہیں جس میں وہ ہر طرح سے سیاستدانوں  کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک نجی ٹی وی کی خاتون میزبان جس کانام لکھنا  بھی میں پسند نہیں کرتی اپنے پروگرام میں  صحافتی اقدار کو پام کرتی ہیں اور انتہائی  غیر مہذب  الفاظ کا استعمال کرتی ہیں  جس کا مقصد اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھنا  اور لوگوں میں مشہور ہونا ہے۔

نتیجتا آپ روزانہ  اِن چینلوں پر شور شرابا ،بے لگام تقریر بازی اور الزام تراشی دیکھتے ہیں اس سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہیں  نیوز اینکرز کی تنخواہ  میں اضافہ ہوتا ہے ۔ وہ زمانہ بھی تھا جب ہمارے پی ٹی وی پر طزح و مزاح  کے خوشگوار پروگرام  ہوتے تھے جبکہ اب تو ریٹنگ زیادہ کرنے کے چکر میں ہر چینل کی یہ کوشش  ہوتی کہ وہ ایک مارننگ  شوکے ساتھ ساتھ ایک فیشن شو ضرور کریں ، ہمارا معاشرہ نازیبا رویے یا بات چیت کا فوراً اثر لیتا ہے۔

اگر ہم پی ٹی وی کا باقی چینلز کے ساتھ موازنہ کریں تو سب سے پہلے پی ٹی وی کی ویڈیو کوالٹی  دوسرے چینلز کے مقابلے میں کافی پرانی ہے بے شک یہ ایک حکومتی ادارہ ہے مگر اگر دیکھا جائے تو بی بی سی بھی ایک حکومتی ادارہ ہے پر وہ آزاد ہے ہر خبر کے اوپرکھول کر تنقید کرسکتا ہےکسی بھی با اثرافراد کو بے نقاب کرسکتا ہے جبکہ حکومت کو تقربیا تین سال  پورے ہونے کو ہے مگر عمران خان کے وعدے ہمیں وفا ہوتے نظر نہ آئے جو  کہ پی ٹی وی کو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ بنانے کیلئے کیے تھے گے لیکن افسوس آج تک ہمیں وہ تبدیلی دیکھنے کو نہ مل سکی ۔

پی ٹی وی کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہےکہ جب بھی حکمران اقتدار میں آئے ہیں  پی ٹی وی کو  ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے جس نے نہ صرف صحافتی تقاضوں کو پامال کیا بلکہ پی ٹی وی کی ساکھ  کو نقصان پہنچایا ہے۔

اگر ہم پی ٹی وی ڈراموں کی بات کریں میرے خیال سے پہلے دور کے اداکار دل سے کام  کیا کرتے تھے  لیکن آجکل اس مہنگائی کے دور میں معاوضہ کم ہونے کی وجہ سے پرانے اور نئے آنے والے اداکاروں نے نجی چینلز میں  کام کرنے رخ کرلیا ہیں ایسا نہیں کہ پی ٹی وی نے کبھی کچھ نیا اور انوکھا کرنے کی کوشش نہیں کی، مگر تیزی سے بدلتی اس دنیا میں جہاں اب الیکٹرانک میڈیا بھی سوشل میڈیا کے زیر اثر آگیا ہے پی ٹی وی بہرحال وقت سے پیچھے دکھائی دیتا ہے۔آجکل پی ٹی وی پر چلنے والے ترکی کے ایک مشہور ڈرامہ ارطغل کی وجہ سے پی ٹی وی کی فیلوشپ میں کافی زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جہاں عوام نے اس کو کافی پسند کیا ہے وہی دوسری جانب  کچھ لوگوں نے اس پر کڑئی تنقید بھی کی ہے۔

سینئر اداکار جاوید بابر نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیرون ممالک کے ڈرامے آج کل سرکاری ٹیلی ویژن پر اردو زبان میں ترکی کے ڈرامے چل رہے ہیں، جس نے فنکاروں کے روزگار کو نقصان پہنچایا ، "اب پی ٹی وی پر اردو زبان میں ترکی کا ارطغرل ڈرامہ چلایا جا رہا ہے لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے کئی گنا بہترین پروڈکشن ہم کرسکتے ہیں اگر کوئی موقع دیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button