وزیرستان میں خاتون تعلیم آفیسر کیا تبدیلی لا سکتی ہیں؟

 

خالدہ نیاز

‘قبائلی اضلاع میں بندوبستی علاقوں کی نسبت تعلیم کے مسائل زیادہ ہیں، چیلنجز درپیش سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ ان علاقوں کے باشندے تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ چکے ہیں’

ان خیالات کا اظہار حال ہی میں جنوبی وزیرستان میں نو تعینات ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرنور خدیجہ نے ٹی این این کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ نور خدیجہ کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے۔

نور خدیجہ نے بات چیت کے دوران بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں سکولوں کی حالت اتنی اچھی نہیں ہے اس کے ساتھ وہاں بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے اس کے علاوہ پیرنٹ ٹیچرز کونسل کو بھی فعال بنانے کی ضرورت ہے اور وہ کوشش کرے گی کہ ان ساری چیزوں پرکام کرسکیں۔

نور خدیجہ نے بتایا کہ اب قبائلی اضلاع میں سکیورٹی کے حالات قدرے بہتر ہوچکے ہیں جس سے انکو بھی تسلی ہے کہ سکیورٹی سے متعلق انکو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا لیکن چونکہ وہاں پر ایک نیا سیٹ اپ بنانا ہے تو اس میں ان کو چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔

‘دس سال تک میں مختلف پوسٹوں پررہ چکی ہوں جہاں سے میں نے بہت تجربہ حاصل کیا ہے تو میں بہت پرجوش ہوں کہ اپنے تجربے کو بروئے کارلاتے ہوئے جنوبی وزیرستان میں معیاری تعلیم کے لیے کام کروں’ نورخدیجہ نے وضاحت کی۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کا سب سے بڑا مسئلہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے سے حل ہوگیا ہے اب وہاں ترقیاتی کام بھی ہونگے اور قبائلی عوام کو وہ تمام حقوق بھی حاصل ہوگئے ہیں جو ملک کے دیگر باشندوں کو حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نور خدیجہ نے بتایا کہ جب جنوبی وزیرستان میں حالات خراب ہوئے تو لوگوں نے دوسرے علاقوں کو نقل مکانی کی جس کی وجہ سے قبائلی لوگ تعلیم کی اہمیت کی روشناس ہوئے اور اب قبائلی عوام بھی تعلیم کو اہمیت دے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انکے بچے اور بچیاں بھی علم کے نور سے منور ہوسکیں۔

نورخدیجہ نے بتایا کہ انکے والد کرم، باجوڑ اور باقی قبائلی اضلاع میں ایجنسی ایجوکیشن افیسررہ چکے ہیں تو اس وجہ سے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم انہیں قبائلی اضلاع سے حاصل کی ہے اور اعلی تعلیم پشاور سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے ہسٹری میں ایم اے کررکھا ہے اور ساتھ میں ایم ایڈ بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں لڑکیوں کی تعلیم پرخصوصی توجہ دیں گی، سکولز کو بنیادی سہولیات فراہم کریں گی، اساتذہ کی حاضری کو بہتر بنائیں گی جس سے شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا اورجب شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا تو اس سے جنوبی وزیرستان کی لڑکیوں کو ہرشعبے میں اپنا لوہا منوانے کا موقع ملے گا۔

نور خدیجہ اس سے پہلے بھی جنوبی وزیرستان میں کام کرچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2007 میں جنوبی وزیرستان میں اسسٹنٹ ایجنسی ایجوکیشن افیسررہ چکی ہیں جس کے بعد پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منیجمنٹ کیڈر میں آئیں اور 2010 سے اب تک اے ایس ڈی او، ای ڈی او اسٹیبلشمنٹ اور باقی پوسٹوں پرکام کرچکی ہیں۔ ‘ 2007 میں جب میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر تھی تو میں ایس ایس ٹی پوسٹ سے آفس میں ایڈجسٹ کی گئی تھی اس وقت منیجمنٹ کیڈر نہیں تھا، منیجمنٹ کیڈر 2011 سے متعارف ہوا، میں منیجمنٹ میں پی سی ایس کے ذریعے آئی ہوں’

نور خدیجہ نے بتایا کہ اب پی ایم ایس اور سی ایس ایس کے ذریعے بہت ساری لڑکیاں امتحان پاس کرکے اچھے اچھے عہدوں پرفائز ہورہی ہیں جوکہ بہت خوش آئند بات ہے اور یہ خواتین بہت قابل ہیں جبکہ خواتین کے ان شعبوں میں آنے سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور تبدیلی آئے گی۔

نورخدیجہ نے کہا کہ ایک خاتون کی کامیابی میں اس کے خاندان کی جانب سے تعاون کا بڑا کردار ہوتا ہے کیونکہ خاندان والوں کی سپورٹ کے بغیر کوئی بھی خاتون مشکل سے کامیابی حاصل کرتی ہیں، ‘ اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے ہمیشہ گھر والوں کی سپورٹ حاصل رہی ہیں جس کی وجہ میں آج اس مقام پر ہوں، اگر کسی خاتون کو گھر والوں کی جانب سے تعاون حاصل نہ ہو تو وہ کسی بھی شعبے میں آگے نہیں جاسکتی’

انہوں نے بتایا کہ انضمام کے بعد اب قبائلی اضلاع میں تعلیم پربھی بہت توجہ دی جارہی ہیں جس سے واقعی ایک مثبت تبدیلی آئے گی کیونکہ جب اساتذہ صحیح طریقے سے اپنا کام کریں گے اور چھٹیاں نہیں کریں گے تو ایسے میں والدین کی بھی اب کوشش ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو باقاعدگی سے سکول بھیجیں اور انکی تعلیم پر توجہ دیں۔

 

 

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close