پشاور، صحافی کو ”سچی یاری” بہت ”بھاری” پڑ گئی

سلمان یوسفزے

وہ مجھ سے انتہائی مہذب انداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔ ”سر! سہولیات کی سروس کو بہتر بنانے کے لئے آپ کی کال کو ریکارڈ کیا جائے گا۔” میں نے ٹھیک ہے کہہ کر اسے بات کرنے کا موقع دیا۔

”سر! ہمیں آپ کی شکایت موصول ہوئی ہے ہم معذرت چاہتے ہیں کہ آپ کی بھیجی گئی رقم متعلقہ شخص کو نہیں مل سکتی اور آگر آپ چاہتے ہیں تو ہم آپ کی بھیجی گئی رقم آپ کو واپس کر دیں گے۔”

میں نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے ویسے بھی پچھلے پانچ دنوں سے میں شکایت کرتے کرتے تھک چکا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ”لیکن سر اس کے لئے آپ کو ہمیں اپنا ایزی پیسہ اکاونٹ نمبر دینا پڑے گا۔”

میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا ”بھائی میرا کوئی اکاونٹ نہیں ہے، کیا یہ رقم کسی دوسرے شخص کے اکاونٹ پر بھیجی جا سکتی ہے؟” میں نے پوچھا۔

”ہاں ہاں کیوں نہیں سر، آپ کسی دوسرے شخص کا اکاونٹ نمبر دو ہم آپ کی رقم اس اکاونٹ کو ٹرانسفر کر دیں گے” اس نے جواب دیا۔ ”ایاز ۔ ۔ ۔” میں نے آواز لگاتے ہوئے اپنے آفس بوائے کو بلایا اور کہا ”بھائی ایک خدمت ہے۔” وہ جلدی میں تھا میں نے سیدھا اس سے ایزی پیسہ اکاونٹ نمبر لیا اور عمران کو فون پر بتا دیا۔

عمران نے نمبر نوٹ کرنے کے بعد کہا کہ آپ کے فون پر ایک کوڈ بھیجا ہے مہربانی کر کے وہ اونچی آواز میں بتائیں تاکہ ہمارا سسٹم کوڈ وصول کرے اور اس کے بعد ہم آپ کو رقم بھجوائیں۔

میں نے تقریباً چار پانچ مرتبہ اسے فون پر کوڈ بتانے کی کوشش کی لیکن میری آواز سسٹم تک نہیں پہچ پاتی تھی۔ اسی دوران عمران کے لہجے میں تبدیلی آئی اور کہا اگر آپ کو اپنی رقم چاہئے تو آپ کو اونچی آواز میں یہ کوڈ بتانا ہو گا۔

پتہ نہیں کیوں، عمران کی یہ بات مجھ سے برداشت نہ ہو سکی اور میں نے انتہائی غصہ میں کہا ”نہیں چاہیے مجھے یہ پیسے اپنے پاس رکھ لو آپ کے کام آ جائیں گے” اور فون رکھ دیا۔

آیاز میرے سامنے کھڑا مجھ پر ہنس رہا تھا کہ بھائی کیوں اتنا غصہ ہو گئے ہو، ہم دونوں کی بات جاری تھی کہ اس نمبر سے پھر کال آئی جس پر میں نے عمران سے بات کی۔ آیاز نے میرا فون لے کر عمران سے بات شروع کی اور اونچی آواز میں کوڈ بتا دیا اور ساتھ میں میرے غصہ ہونے پر اس سے معذرت بھی کی۔

میں نارمل نہیں تھا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا لیکن پھر بھی چپ چاپ آفس کے کام میں لگ گیا۔ پانچ منٹ گرزنے کے بعد آیاز میرے پاس آیا اور کہا بھائی میرے اکاونٹ سے تو 15000 کی رقم نکال لی گئی ہے۔

”کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟” میں نے آیاز سے پوچھا۔ ”ہاں ہاں بھئی مذاق نہیں کر رہا یہ دیکھ لو۔ اب کیا ہو گا؟” آیاز نے پریشانی کے عالم میں پوچھا، میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا آپ فکر نہ کریں آپ کی رقم میں آپ کو دے دوں گا اور اگلے روز میں نے اپنی جیب سے آیاز کو رقم واپس کر دی لیکن مجھے یہ رقم کب واپس ملے گی یہ معلوم نہیں۔ آیاز کو  رقم دینے کے بعد میں خود الجھن میں پڑ گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اور اگر ہو بھی سکتا ہے تو ہمارے ساتھ کیوں؟

تھوڑی دیر بعد ہم ٹیلی نار بوتھ سنٹر گئے اور وہاں پر موجود آپریٹر کو سارا قصہ سنایا۔ انہوں نے ہماری شکایت درج کی اور کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کے 18 کیسز آئے ہیں۔

یہ سننے کے بعد رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی اور پکا یقین ہو گیا کہ چلو پیسے تو گئے۔ بوتھ سنٹر سے نکلتے وقت میں نے ایک بار پھر پوچھا کہ کوئی طریقہ تو ہو گا؟

انہوں جواب دیتے ہوئے کہا ”آپ 3737 پر کال کرو وہ آپ کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کریں گے۔” جس کے بعد ہم نے 3737 پر بھی اپنی شکایت درج کی لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

چلو جی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔ فراڈ والے بھیا! آپ جو کوئی بھی ہو، میں آپ کو نہیں جانتا اور نہیں میں جانتا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ کی اس حرکت پر ترس آ رہا ہے، میں مانتا ہوں کہ ماں باپ نے آپ کی پرورش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہو گی لیکن پھر بھی آج آپ کی اس نیچ حرکت کی وجہ سے میرا ٹیلی نار کی سروس سے ہی اعتماد اٹھ گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں سب سے بڑا نیٹ ورک چلانے کا دعوی کر رہے ہیں لیکن آج میں ان کو زیرو مارکس دیتا ہوں، بالکل زیرو۔ مجھے آج معلوم ہوا کہ سچی یاری مجھے کتنی بھاری پڑی ہے۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close