مہرین عابد

 

پشاور میں رہتے ہوئے اگر آپ نے بھی میری طرح روزمرہ زندگی میں مختلف لوکل سواریوں پر سفر کیا ہے تو یقیناً آپ کے بھی ان کے ساتھ اپنے تجربات ہوں گے۔ میرے لیے بھی پشاور کی سڑکوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا سفر مختلف سواریوں کے ذریعے گزرا ہے۔

 

 خواتین کے لیے سفر کا مطلب صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ راستے میں وہ خود کو کتنا آرام دہ، پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ میرے تجربے میں ہر سواری کی اپنی سہولت اور اپنی مشکل رہی ہے۔

 

سوزوکی: رش اور انتظار کی مشکلات

 

سب سے پہلے سوزوکی کی بات کروں تو یہ پشاور کی عام لوکل سواریوں میں سے ایک ہے۔ اس میں خواتین اور مردوں کے لیے الگ نشستوں کا انتظام ہوتا ہے، لیکن رش کے وقت اس تقسیم پر عمل کرنا ہمیشہ آسان نہیں رہتا۔

 

 

 کبھی خواتین والی نشستوں پر رش کم ہوتا ہے، جبکہ مردوں کی طرف زیادہ رش ہونے کی وجہ سے مرد مسافر خواتین والی طرف آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب سواری میں گنجائش سے زیادہ مسافر ہوں تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سفر کرتے ہیں، اور کبھی کبھار رش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ لوگ چھت پر بھی سفر کرتے نظر آتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایڈیشنل ایس ایچ او جاں بحق

 

 ایک خاتون کے لیے ایسے ماحول میں اپنی جگہ برقرار رکھنا اور سکون سے سفر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ میرے اپنے تجربے میں بھی ایسی صورت حال کے دوران بے سکونی اور بے آرامی محسوس ہوئی ہے۔

 

 

 اوپر سے جب تک مسافروں کی تعداد پوری نہ ہو جائے، ڈرائیور صاحب روانہ نہیں ہوتے۔ یعنی آپ کو جلدی ہو یا دیر، سفر شروع ہونے کے لیے مسافروں کی گنتی پوری ہونا بھی ضروری ہے۔

 

رکشہ: ذاتی جگہ اور زیادہ کرایہ

 

رکشے کا تجربہ سوزوکی سے کچھ مختلف ہے۔ اس میں ایک شخص بھی اکیلا سفر کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ دوسرے مسافروں کے ساتھ جگہ شیئر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مجھے رکشے میں ذاتی جگہ اور پرائیویسی کا احساس نسبتاً بہتر لگتا ہے۔ لیکن اس کی اپنی مشکلات بھی ہیں۔ 

 

 

روزانہ اکیلے رکشے پر سفر کرنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں، کیونکہ اس کا کرایہ دوسری لوکل سواریوں کے مقابلے میں زیادہ پڑ سکتا ہے۔ رش کے اوقات میں رکشہ ملنا بھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ سڑکوں کے جھٹکے اور راستوں کی صورت حال سفر کو ہمیشہ آرام دہ نہیں رہنے دیتے۔ یوں رکشے میں جگہ اپنی ہوتی ہے، لیکن اس سہولت کے لیے جیب کو بھی کچھ زیادہ خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

 

چینگچی: محدود جگہ اور ذاتی حدود کا مسئلہ

 

چینگچی میں سفر کا تجربہ میرے لیے اس سے بھی مختلف رہا ہے۔ اس میں کئی لوگ ایک ساتھ سفر کرتے ہیں اور جگہ محدود ہوتی ہے، اس لیے کبھی اجنبی لوگوں کے ساتھ بہت قریب بیٹھنا پڑتا ہے اور اپنی ذاتی جگہ بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ 

 

 

مجھے خود چینگچی میں سفر کرتے ہوئے کئی مرتبہ تکلیف کے ساتھ جھجھک اور شرمندگی بھی محسوس ہوئی۔ خاص طور پر رش زیادہ ہو تو ایک خاتون کے لیے اس ماحول میں خود کو مکمل طور پر آرام دہ محسوس کرنا آسان نہیں ہوتا۔

 

 کبھی کبھی محدود جگہ میں بیٹھنے کے لیے مناسب انداز تلاش کرنا بھی ایک الگ مسئلہ بن جاتا ہے۔ البتہ چینگچی کی اچھی بات یہ ہے کہ یہ سوزوکی کے مقابلے میں تیز رفتار ہوتی ہے۔ یعنی منزل تک جلدی پہنچنے کی سہولت تو ہے، بس راستے میں اپنی جگہ سنبھالنے کی مشق بھی ساتھ جاری رہتی ہے۔ 

 

 

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ روزمرہ سفر سے جڑا ایک احساس ہے جسے شاید بہت سی خواتین بھی سمجھ سکتی ہیں۔

 

بی آر ٹی: بہتر سفری نظام اور رش کے مسائل

 

پھر جب پشاور میں بی آر ٹی کا نظام آیا تو میرے لیے یہ سفر کے حوالے سے ایک مثبت تبدیلی تھی۔ دوسری لوکل سواریوں کے مقابلے میں بی آر ٹی زیادہ منظم محسوس ہوتی ہے۔ مخصوص اسٹاپس، نسبتاً بہتر بسیں اور کم کرایہ روزمرہ سفر کرنے والوں کے لیے اچھی سہولت ہیں۔ 

 

 

میرے لیے بھی یہ ایسا ذریعہ بنا جس سے روزانہ کے سفر میں کافی آسانی محسوس ہوئی۔ لیکن اس سہولت کے باوجود بی آر ٹی میں بھی کچھ مسائل ہیں جو خواتین کے سفر کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ خاص طور پر رش کے اوقات میں خواتین کے لیے مخصوص جگہ محدود محسوس ہوتی ہے۔ 

 

بعض اوقات رش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ مرد مسافر خواتین کے لیے مخصوص داخلی راستے یا حصے کی طرف بھی آ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خواتین کو اپنی جگہ اور ذاتی حدود برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

 

 

 اس کے علاوہ بھیڑ میں ہراسمنٹ کا خدشہ رہتا ہے اور بعض اوقات چوری یا جیب کتروں جیسے مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ مسائل بی آر ٹی کی سہولت کی اہمیت کم نہیں کرتے، لیکن یہ ضرور واضح کرتے ہیں کہ خواتین کے لیے صرف اچھی بس اور کم کرایہ کافی نہیں؛ محفوظ اور آرام دہ ماحول بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

 

پنک بس: خواتین کے لیے نسبتاً محفوظ اور پُرسکون سفر

 

اسی دوران ایک دن مجھے پنک بس میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اس بس میں صرف ایک بار سفر کیا، لیکن اس ایک سفر کا تجربہ میرے لیے کافی مختلف تھا۔ 

 

 

بس میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی، پھر بھی میں کھڑے ہو کر خود کو عجیب طور پر زیادہ آرام دہ محسوس کر رہی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ بس میں صرف خواتین تھیں۔ مجھے یہ احساس نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی غیر متعلقہ شخص مجھے گھور رہا ہے یا میرے قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے مجھے بے آرامی محسوس ہوگی۔

 

 بس میں کھڑے رہتے ہوئے بھی مجھے اپنے انداز میں کھڑے ہونے، ادھر اُدھر دیکھنے اور سفر کرنے میں ایک طرح کی آزادی محسوس ہوئی۔ میرے لیے یہ احساس اہم تھا، کیونکہ اس وقت مجھے واضح طور پر محسوس ہوا کہ آرام صرف بیٹھنے کی جگہ ملنے کا نام نہیں۔ 

 

 

اگر ماحول ایسا ہو جہاں آپ خود کو محفوظ اور بے جھجھک محسوس کریں تو کھڑے ہو کر بھی سفر نسبتاً آرام دہ لگ سکتا ہے۔ کم از کم اس ایک سفر میں مجھے یہی محسوس ہوا۔

 

خواتین کے لیے  پبلک ٹرانسپورٹ میں محفوظ سفر کی اہمیت

 

میرا سفر سوزوکی سے شروع ہو کر رکشے، چینگچی اور بی آر ٹی سے گزرتا ہوا پنک بس تک پہنچا۔ ہر سواری نے مجھے ایک الگ تجربہ دیا۔ کچھ نے سفر آسان بنایا، کچھ میں مشکلات اور بے سکونی محسوس ہوئی، جبکہ پنک بس کے مختصر تجربے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ خواتین کے لیے محفوظ اور آرام دہ سفری ماحول کس قدر اہم ہے۔

 

 

 میرے لیے یہ کسی سواری یا نظام کو اچھا یا برا ثابت کرنے کی بات نہیں، بلکہ ایک خاتون مسافر کے طور پر اپنے تجربات بیان کرنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ  پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی ہر عورت کی کہانی الگ ہو سکتی ہے، لیکن ذاتی جگہ، تحفظ اور بلاجھجک سفر کرنے کی خواہش بہت سی خواتین کی مشترکہ ضرورت ہے۔

 

 آخرکار مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہاں پہنچنے تک سفر خود ایک آزمائش نہ بن جائے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔