ڈیرہ اسماعیل خان میں محکمہ تعلیم زنانہ نے مبینہ جعلی تقرری ناموں کے ذریعے بھرتی ہونے والی 35 خواتین پرائمری اسکول ٹیچرز (پی ایس ٹی) کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ 

 

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ سیدہ انجم نے برطرف اساتذہ کو ادا کی گئی تنخواہیں واپس لینے اور ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419 اور 420 کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور ہائیکورٹ: سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کے لیے درخواستوں پر جواب طلب

 

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ بھرتیاں 2022 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں کی گئی تھیں، جبکہ اس معاملے کی انکوائری اور کارروائی اگست 2026 میں شروع کی گئی۔

 

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ سیدہ انجم کے مطابق متعلقہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ڈی او) کی نشاندہی پر معلوم ہوا کہ 35 پی ایس ٹی اساتذہ تنخواہیں وصول کر رہی تھیں، تاہم وہ جسمانی طور پر موجود نہیں تھیں۔ انکوائری کے دوران بھی ان کا سراغ نہیں مل سکا۔

 

سیدہ انجم کے مطابق اخبار میں عوامی نوٹس جاری کرنے کے بعد متعلقہ خواتین کے تقرری ناموں کو غیر تسلیم شدہ تصور کیا جائے گا۔