پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: آئی جی ایف سی کے پی نارتھ کا اے آر ڈی کونسل کے اراکین اور قبائلی مشران سے جرگہ
سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اس موقع پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ اطلاعات ہیں کہ وہ شاہی مہمان خانے میں موجود ہیں۔عدالت نے متعلقہ حکام کو دو روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب اسپیکر بابر سلیم سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد دونوں رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا ہے اور اب ان کے مقام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو رہا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بابر سلیم سواتی آئینی عہدے پر فائز ہیں، اس کے باوجود انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
عدالت نے حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
