سابقہ قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے لیے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے اختیارات، عوامی نمائندگی اور انتظامی ڈھانچے پر سیاسی و قانونی حلقوں نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔

 

 سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی نے کونسل کو منتخب، خودمختار اور بااختیار بنانے کے ساتھ قبائلی اضلاع کو الگ صوبے کا درجہ دینے کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی نائب صدر صدیق چراغ آفریدی نے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ 

 

 

دوسری جانب خیبر بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایڈووکیٹ فرہاد آفریدی نے کونسل کے انتظامی ڈھانچے میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور مقامی حالات سے واقف افراد کی شمولیت ضروری قرار دی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اجلاس، اکنامک زونز کو فعال بنانے کے لیے کیا اقدامات ہوں گے؟

 

ایریاز ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل میں خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع سے مجموعی طور پر 48 ارکان شامل کیے گئے ہیں۔ شوکت اللہ خان کو کونسل کا چیئرمین اور ملک خان مرجان کو وائس چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کونسل کی ابتدائی مدت چھ ماہ رکھی گئی ہے۔

 

 ایڈیشنل چیف سیکرٹری محمد یحییٰ اخوندزادہ نے کونسل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی نقول متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام اور ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

 

نوٹیفکیشن کے مطابق کونسل میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت کے نمائندے شامل ہوں گے۔

 

سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق فاٹا کی سطح پر ابتدا ہی سے ایک آزاد کونسل کے قیام کے حامی رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک کونسل کا منتخب، خودمختار اور بااختیار ہونا ضروری ہے تاکہ وہ قبائلی علاقوں میں امن و امان، تعمیر و ترقی اور قانون سازی کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کر سکے۔

 

انہوں نے موجودہ کونسل کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام قبائلی اضلاع کو نمائندگی دی گئی ہے اور اسے علاقے کی ترقی اور امن و امان سے متعلق اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے۔

 

 ان کےمطابق  اگر کونسل کا مقصد قبائلی عوام کے مسائل حل کرنا، مقامی نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی فیصلے کرنا اور عوام کو بااختیار بنانا ہے تو وہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

 

حمید اللہ جان آفریدی نے تاہم کہا کہ کونسل کو حقیقی اختیارات اور خودمختاری دینا ضروری ہے۔ اگر اس کے قیام کے پیچھے کوئی دوسرے مقاصد ہوئے تو اس کے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں اور قبائلی عوام میں شدید ردعمل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

 

انہوں نے تجویز دی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو کونسل کا حصہ بنایا جائے اور انہیں تعمیر و ترقی، امن و امان اور قانون سازی کے حوالے سے واضح اختیارات دیے جائیں تاکہ یہ محض انتظامی ڈھانچہ بننے کے بجائے عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر ادارہ ثابت ہو۔

 

حمید اللہ جان آفریدی نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں قبائلی اضلاع کو الگ صوبے کا درجہ دیا جانا چاہیے، جہاں مقامی نمائندے اپنے رسم و رواج کے مطابق قانون سازی کر سکیں۔

 

 ان کے مطابق ماضی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ادوار میں قبائلی اضلاع کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی اضلاع کو اپنا صوبہ دیا جائے تاکہ مقامی آبادی کے مسائل بہتر انداز میں حل ہو سکیں۔

 

 

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی نائب صدر صدیق چراغ آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں وفاق کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایف سی آر سے لے کر حالیہ ایمرجنسی تک قبائلی عوام کے لیے ایسے قوانین اور انتظامی اقدامات سامنے آتے رہے ہیں جنہیں عوام پر کنٹرول کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

 

صدیق چراغ آفریدی نے کہا کہ ترقی یافتہ معاشروں میں قوانین عوام کو سہولت فراہم کرنے، ان کا معیارِ زندگی بہتر بنانے اور ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، لیکن ان کے بقول قبائلی عوام کو بارہا تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک برداشت کرنا پڑا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع اور دیگر متاثرہ علاقوں کے لیے ایسی پالیسیاں اور قوانین متعارف کرانے کی ضرورت ہے جن کا محور عوام کی فلاح و بہبود ہو۔ ان کے مطابق تعلیم، صحت اور معاشی استحکام پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات اور ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مفادات اور جمہوری اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلے کیے گئے تو عوامی نیشنل پارٹی ایسے اقدامات کے خلاف سیاسی جدوجہد کرے گی۔

 

ادھر خیبر بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایڈووکیٹ فرہاد آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے انتظامی امور چلانے کے لیے تشکیل دی گئی کونسل کی نوعیت بظاہر انتظامی ہے، جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات اہم ہیں، تاہم کسی بھی نئے انتظامی نظام کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی ردعمل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مقامی لوگ اس نظام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں اور اس کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کے مقاصد کس حد تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

 

ایڈووکیٹ فرہاد آفریدی نے کہا کہ سکیورٹی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے حالات میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم انتظامی امور چلانے کے لیے موجودہ ڈھانچے میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور علاقے کے زمینی حقائق سے واقف افراد کی شمولیت ضروری ہے۔

 

 ان کے مطابق تعمیر و ترقی اور انتظامی معاملات کے لیے ایسے اہل افراد درکار ہیں جو مقامی مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کے حل کے لیے مؤثر تجاویز پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

 

انہوں نے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ماہر اور تجربہ کار افراد کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین، مقامی نمائندوں اور عوامی مفادات کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

 

اے آر ڈی سی کے قیام کو قبائلی اور جنوبی اضلاع کے انتظامی و ترقیاتی امور کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کونسل کو عملی طور پر کتنے اختیارات دیے جاتے ہیں، اس کی فیصلہ سازی کس حد تک مؤثر ہوتی ہے اور عوامی مسائل کے حل میں اس کا کیا کردار رہتا ہے۔

 

کونسل کی ابتدائی مدت چھ ماہ مقرر کیے جانے کے بعد اس کی کارکردگی، اختیارات اور انتظامی ڈھانچے کی شفافیت بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی و قانونی حلقوں کے مؤقف کے مطابق علاقے میں امن و امان، تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ نئے نظام میں مقامی ضروریات، عوامی نمائندگی اور جواب دہی کو اہمیت دی جائے۔