زالان آفریدی
طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کی گاڑیوں کو آمدورفت کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ مسئلے کے حل کے لیے دونوں جانب کے حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
اس سے قبل سکیورٹی خدشات کے باعث افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کی گاڑیوں کو طورخم زیرو پوائنٹ سے واپس بھیج دیا گیا تھا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 27 ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک طورخم بارڈر کے راستے مجموعی طور پر 15 لاکھ 71 ہزار 532 افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرائی سیریز: سری لنکا کے خلاف میچ میں پاکستان کے کس کھلاڑی نے شاندار کارکردگی دکھائی؟
ان میں 6 لاکھ 38 ہزار 933 بچے، 5 لاکھ 20 ہزار 80 مرد اور 4 لاکھ 12 ہزار 519 خواتین شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے 17 اکتوبر 2026 تک 11 لاکھ 1 ہزار 603 افغان شہری طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس گئے، جبکہ 27 ستمبر 2023 سے مارچ 2025 تک 4 لاکھ 69 ہزار 929 افغان شہری اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔
طورخم بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کی اہم گزرگاہ ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 12 اکتوبر کو طورخم بارڈر بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد صرف پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو اس راستے سے افغانستان جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
