پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ ہم سب کے لیے ایک اہم سوال چھوڑ گیا ہے۔ اسکول جانے والے بچے اپنے والدین کی امیدوں اور خوابوں کا مرکز ہوتے ہیں۔

 

 والدین انہیں بہتر تعلیم اور روشن مستقبل کے لیے اسکول بھیجتے ہیں، لیکن جب اسکول ہی میں بچوں کی جان خطرے میں پڑ جائے تو یہ سوال اٹھنا ضروری ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟

 

 

15 اکتوبر 2026 کو پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن سسٹم اسکول کی چھت گرنے سے ایک خاتون ٹیچر سمیت 35 بچے جاں بحق، جبکہ کئی بچے اور اساتذہ زخمی ہوگئے۔ اس افسوسناک حادثے نے کئی خاندانوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا، جبکہ اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: مقامی خبروں سے آمدنی تک: علاقائی میڈیا کو کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

 

یہ واقعہ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت، عمارتوں کی دیکھ بھال اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

 آخر اسکول کی عمارت کی حالت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری کس کی تھی؟ کیا بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے تھے؟ اور کیا اس حادثے کو بروقت اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا؟

 

کیا اسکول انتظامیہ نے عمارت کی حالت کا جائزہ لیا تھا؟

 

اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری صرف بچوں کو تعلیم دینا، داخلے کرنا اور فیس وصول کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے وقت یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہاں ان کی تعلیم کے ساتھ حفاظت کا بھی مناسب انتظام ہوگا۔

 

اگر کسی عمارت کی چھت کمزور ہو، دیواروں میں دراڑیں ہوں یا عمارت کسی بھی وجہ سے گرنے کے خطرے سے دوچار ہو تو اس کی بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا اسکول انتظامیہ عمارت کی حالت سے آگاہ تھی؟ کیا چھت اور دیواروں کی دیکھ بھال پر توجہ دی جا رہی تھی؟ کیا عمارت کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے تھے؟

 

 

اسکول کی عمارت کی دیکھ بھال اور مرمت کو معمولی انتظامی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست بچوں اور اساتذہ کی زندگیوں سے ہے۔ اگر عمارت میں خرابی موجود ہو تو اسے دور کرنا اور طلبہ کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔

 

والدین اپنے بچوں کو اسکول اس اعتماد کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ وہاں ان کی تعلیم و تربیت کے لیے محفوظ ماحول موجود ہوگا۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسکول انتظامیہ عمارت کی حالت، کلاس رومز کی حفاظت اور دیگر بنیادی سہولیات پر مسلسل توجہ دے۔

 

ہر بات کو قسمت پر نہیں چھوڑا جا سکتا

 

ہمارے معاشرے میں جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو اکثر لوگ اسے قسمت سے جوڑ دیتے ہیں۔ بے شک، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرے۔

 

 

اگر کسی عمارت کی چھت کمزور ہو تو اس کی مرمت کرنا، کسی جگہ خطرہ موجود ہو تو اسے دور کرنا اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا متعلقہ ذمہ داروں کا فرض ہے۔ اگر کسی عمارت میں خرابی کی نشاندہی ہو جائے تو اسے نظرانداز کرنے کے بجائے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

 

 

عمارتوں کی بروقت جانچ، ضروری مرمت اور حفاظتی انتظامات پر توجہ ایسے اقدامات ہیں جو ممکنہ حادثات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ عمارتوں کی حالت کو مسلسل اہمیت دی جائے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔

 

قسمت پر یقین اپنی جگہ، لیکن اپنی ذمہ داری پوری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بچوں کی جان و سلامتی سے متعلق معاملات میں احتیاط اور بروقت اقدامات کو نظرانداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

 

جب فیس لی جاتی ہے تو عمارت کی مرمت پر خرچ کیوں نہیں ہوتا؟

 

اس واقعے کا ایک اہم پہلو اسکولوں کی فیس اور عمارتوں کی دیکھ بھال پر ہونے والے اخراجات بھی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ہر ماہ فیس ادا کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان محدود آمدنی کے باوجود بچوں کی پڑھائی کے اخراجات پورے کرتے ہیں تاکہ انہیں بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ سکیں۔

 

 

والدین فیس ادا کرتے وقت یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ ان کے بچے اسکول میں محفوظ رہیں گے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکولوں کی آمدنی میں سے عمارت کی مرمت اور حفاظتی انتظامات کے لیے کتنے وسائل مختص کیے جاتے ہیں اور ان معاملات کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔

 

چھتوں کی حالت کا جائزہ لینا، دیواروں کی مرمت، بجلی کے نظام کو محفوظ بنانا اور بچوں کے لیے محفوظ کلاس رومز فراہم کرنا بھی اسکول کے ضروری اخراجات میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہر اسکول کے اخراجات مختلف ہوتے ہیں، لیکن بچوں کی حفاظت کو غیر ضروری خرچ نہیں سمجھا جا سکتا۔

 

 

اگر اسکول کی عمارت کمزور ہو تو اس کی مرمت کو ترجیح دینی چاہیے۔ انتظامیہ کو عمارت کی دیکھ بھال کے لیے مناسب وسائل مختص کرنے چاہییں تاکہ کسی خرابی کے باعث بچوں اور اساتذہ کی جان خطرے میں نہ پڑے۔

 

فیس وصول کرنے کے ساتھ اسکول انتظامیہ کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے۔ تعلیم کے معیار کے ساتھ عمارت کی حفاظت اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنانا بھی تعلیمی ادارے کے انتظامی امور کا اہم حصہ ہے۔

 

حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

 

اسکولوں میں بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکومت اور متعلقہ سرکاری اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ذمہ دار اداروں کو اپنے دائرہ اختیار کے مطابق سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں اور حفاظتی انتظامات کی باقاعدگی سے نگرانی کرنی چاہیے۔

 

 

اس نگرانی کا مقصد صرف عمارتوں کا معائنہ کرنا نہیں، بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا جائے۔ اگر کسی اسکول کی عمارت میں بچوں اور اساتذہ کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو متعلقہ اداروں کو بروقت اقدامات کرنے چاہییں اور ضروری مرمت و حفاظتی انتظامات مکمل ہونے تک وہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔

 

اسکولوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام میں بھی عمارت کی حفاظت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ صرف کلاس رومز کی موجودگی اور تدریسی عملے کی دستیابی کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ عمارت بچوں کے لیے محفوظ ہو۔

 

 

والدین کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں سوال کر سکیں۔ متعلقہ اداروں کو والدین کی شکایات پر توجہ دینی چاہیے اور نگرانی کے ایسے مؤثر انتظامات کرنے چاہییں جن کے ذریعے عمارتوں کی حالت اور حفاظتی اقدامات کو باقاعدگی سے جانچا جا سکے۔

 

بچوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے

 

پشاور کے دیر کالونی میں پیش آنے والا یہ حادثہ صرف ایک اسکول کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام میں عمارتوں کی حفاظت اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ 

 

 

جن والدین نے اپنے بچوں کو صبح اسکول بھیجا تھا، انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے بچے دوبارہ گھر واپس نہیں آئیں گے۔ ان خاندانوں کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی مالی امداد سے ان کے بچوں کی کمی پوری نہیں ہو سکتی۔

 

اس حادثے کی وجوہات، عمارت کی حالت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دیگر اسکولوں کی عمارتوں کا بھی معائنہ کیا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے انہیں بروقت دور کیا جا سکے۔ بچوں کی حفاظت کے اقدامات معمول کے انتظامی اور نگرانی کے عمل کا مستقل حصہ ہونے چاہییں، نہ کہ صرف حادثے کے بعد کیے جائیں۔

 

اسکول محض فیس وصول کرنے اور تعلیم دینے کی جگہ نہیں، بلکہ بچوں کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔ اس بنیاد کو محفوظ رکھنا اسکول انتظامیہ، حکومت اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 

بچے اسکول اپنا مستقبل بنانے آتے ہیں، جان گنوانے نہیں۔ والدین تعلیم کے لیے فیس ادا کرنے کے ساتھ بچوں کی حفاظت کی بھی توقع رکھتے ہیں، اس لیے تعلیمی اداروں میں ان کی جان و سلامتی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ 

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔