مقامی مسائل کی نشاندہی اور عوام کی آواز حکام تک پہنچانے میں علاقائی میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن ڈیجیٹل دور میں صرف خبریں شائع کرنا کافی نہیں رہا۔ اب میڈیا اداروں کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مؤثر مواد کیسے تیار کیا جائے، قارئین کی دلچسپی کیسے برقرار رکھی جائے اور آمدنی کے پائیدار ذرائع کیسے پیدا کیے جائیں۔ انہی تقاضوں کو سمجھنے کے لیے ٹرائبل نیوز نیٹ ورک (Tribal News Network — TNN) نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں خیبر پختونخوا کے علاقائی میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور رپورٹرز کے لیے دو روزہ ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا۔
اس دورے کے دوران شرکاء نے ہم نیوز (Hum News)، پاکستان ٹیلی ویژن (Pakistan Television — PTV) ڈیجیٹل، ٹی سی ایم (The Centrum Media — TCM) اور وی نیوز (WE News) میڈیا اداروں کے دفاتر کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈیجیٹل صحافت، مواد کی تیاری، ناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنے اور آمدنی پیدا کرنے کے طریقوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔
ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کے بانی سید نذیر کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد علاقائی میڈیا اداروں کو ایسی تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے نچلی سطح پر عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں، لیکن محدود وسائل اور آمدنی کے ذرائع کی کمی ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ بڑے قومی میڈیا اداروں کے لیے ہر گاؤں اور دور دراز علاقے تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے مقامی میڈیا کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ ان علاقوں کے مسائل بھی وسیع سطح پر سامنے آ سکیں۔
اس موقع پر سینئر صحافی عرفانہ یاسر بھی شریک ہوئیں۔ ان کی شرکت کا مقصد علاقائی میڈیا ہاؤسز کو درپیش مسائل اور مشکلات کو سامنے لانے اور ان کی آواز متعلقہ حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کا حصہ تھا۔

اس ایکسپوژر وزٹ میں خیبر ٹائمز، نیوز اپڈیٹ، زما سوات، برقعہ جرنلسٹ، پختونخوا بلیٹن، نیوز کلاؤڈ، آزادی نیوز اور جے 91 نیوز سمیت مختلف علاقائی میڈیا اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
روایتی صحافت سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف منتقلی کئی صحافیوں کے لیے نئے سیکھنے کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ خیبر ٹائمز کی خاتون رپورٹر سلمیٰ جہانگیر نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ٹیلی ویژن میں کام کرنے کے بعد انہیں محسوس ہوا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں کام کرنے کے لیے خود کو نئے طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق، ’’آج سے پانچ سات سال پہلے جب میں پی ٹی وی میں کام کرتی تھی تو کام کا انداز بالکل مختلف تھا۔ میں نے کام چھوڑ دیا تھا کیونکہ مجھے لگا کہ شاید میں ڈیجیٹل دور میں کام نہ کر سکوں۔ لیکن اس ایکسپوژر وزٹ، خصوصاً پی ٹی وی ڈیجیٹل کے دورے سے، مجھے سمجھ آیا کہ اپنی موجودہ مہارتوں کو ڈیجیٹل دور میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ دس پندرہ سال پرانے مواد کو اپڈیٹ کرکے دوبارہ کیسے پیش کیا جا سکتا ہے اور ناظرین کو کس طرح اپنی طرف متوجہ رکھا جا سکتا ہے۔‘‘
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد شائع کرنے کے ساتھ آمدنی کے ذرائع تلاش کرنا بھی علاقائی میڈیا اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ زما سوات کے مالک عارف احمد نے بتایا کہ ان کا ادارہ خبریں تو شائع کرتا تھا، لیکن آمدنی پیدا کرنے کے طریقوں سے متعلق معلومات محدود تھیں۔
ان کے بقول، ’’ہم خبریں تو دیتے تھے، لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے آمدنی کیسے پیدا کرنی ہے۔ یہاں ہمیں تکنیکی معاملات تفصیل سے سمجھائے گئے اور کھل کر سوالات کرنے کا موقع ملا، جس سے ہماری کئی الجھنیں دور ہوئیں۔‘‘
ڈیجیٹل صحافت میں خبر کے موضوع اور حقائق کے ساتھ زبان اور مواد کی پیش کش بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بعض الفاظ اور موضوعات سے متعلق مخصوص پالیسیاں ہوتی ہیں، اس لیے صحافیوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حساس موضوعات کو ذمہ داری سے کیسے بیان کیا جائے اور ایسے الفاظ سے کیسے بچا جائے جو پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔
جے 91 نیوز کے مالک ارشد خان کے مطابق، اس ایکسپوژر وزٹ کے دوران انہیں ممنوعہ الفاظ، پلیٹ فارمز کی پالیسیوں اور مؤثر مواد تیار کرنے کے طریقوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے انہیں مکمل اندازہ نہیں تھا کہ بعض الفاظ یا مواد کی پیش کش پلیٹ فارم کی پالیسیوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دورے میں یہ بھی سیکھنے کا موقع ملا کہ حساس الفاظ اور موضوعات کو اس انداز میں کیسے بیان کیا جائے کہ خبر کا اصل مفہوم برقرار رہے اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کا خطرہ بھی کم ہو۔
بطور رپورٹر، ( عظمی اقبال رپورٹر زما سوات ) میرے لیے اس ایکسپوژر وزٹ کا ایک اہم سبق یہ تھا کہ ڈیجیٹل صحافت میں صرف اچھی کہانی تیار کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے درست انداز اور مناسب وقت پر قارئین تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ ٹی سی ایم کے دورے کے دوران میں نے خاص طور پر سیکھا کہ اگر کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مخصوص موضوعات پر باقاعدگی سے ایک مقررہ دن اور وقت پر مواد شائع کیا جائے تو قارئین میں اسے پڑھنے کی عادت پیدا ہو سکتی ہے اور وہ آئندہ کہانی کا انتظار بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صحافی اپنے موضوعات اور قارئین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اشاعت کا باقاعدہ شیڈول بنائیں۔

میں ، خواتین کی آوازوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر کام کرتی ہوں۔ میرے تجربے میں بعض اہم مسائل پر تیار کی گئی کہانیوں کو توقع کے مطابق قارئین کی توجہ نہیں ملتی۔ اس دورے نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کسی کہانی کی اہمیت کے ساتھ اس کی پیش کش، اشاعت کے وقت اور قارئین تک رسائی کے طریقوں پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی پالیسیوں کو سمجھنا بھی اہم ہے تاکہ مواد کی زبان اور انداز ان پالیسیوں سے مطابقت رکھیں اور اہم مسائل کو مؤثر انداز میں عوام کے سامنے لایا جا سکے۔
علاقائی میڈیا کو مضبوط بنانے کا مطلب صرف مقامی اداروں کی پیشہ ورانہ ترقی نہیں، بلکہ ان لوگوں کے مسائل کو بھی نمایاں کرنا ہے جن کی آواز اکثر بڑے میڈیا اداروں تک نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے عملی مواقع علاقائی صحافیوں کو نئے طریقے سیکھنے، اپنے کام کو بہتر بنانے اور اپنے علاقوں کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں عوام کے سامنے لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں علاقائی صحافت کی اصل طاقت اسی وقت مزید نمایاں ہو سکتی ہے جب مقامی مسائل کو سامنے لانے کے ساتھ ان کہانیوں کو قارئین تک پہنچانے کے مؤثر طریقے بھی اختیار کیے جائیں۔
