گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کے قیام پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف لڑیں گے اور پاکستان کے آئین و قانون کو نہ ماننے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دو روز قبل کیے گئے خطاب سے انہیں بہت مایوسی ہوئی۔
مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ گورنر راج غلط ہے، لیکن کیا وہ پہلے اپنے علاقے میں آزادانہ گھوم سکتے تھے؟ اگر گورنر راج غلط ہے تو کیا فوجیوں سے زمین لینا حلال ہے؟
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: اسکول کی عمارت منہدم ہونے کی رپورٹ سی سی پی او کو ارسال، کیا انکشافات سامنے آئے؟
بلوچستان میں بی ایل اے جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ان کے بغیر حکومت نہیں بنتی، لیکن موجودہ حکومت بن گئی۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو دعوت دی کہ وہ آئین کے ساتھ کھڑے ہوں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے پھر ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ افغانستان سے لوگوں کو لا کر صوبے میں آباد کیا گیا۔ پہلے صوبے میں امن کی بات کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور دیگر معاملات پر بات ہوتی تھی، لیکن صوبے میں امن کا قیام ان کے مؤقف کا بنیادی نکتہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں معدنیات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر معدنیات موجود ہیں تو دیگر اضلاع میں کون سی معدنیات پائی جاتی ہیں؟ انہوں نے معدنیات نکالنے کے لیے بیرونی کمپنیوں کو خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ معدنیات نکالنے سے لوگوں کے لیے خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صوبے میں روزگار کے مواقع موجود ہیں اور معدنیات نکال کر فروخت کی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ عوام کو امن، خوشحالی اور ترقی چاہیے۔ لوگوں نے صوبے کو تباہ کیا، لیکن اب خیبرپختونخوا ترقی کرے گا۔ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کو 19 اے پی سی گاڑیاں فراہم کی ہیں، جبکہ 10 سے 12 اضلاع کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پہلے اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے درمیان بڑے فاصلے تھے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کمروں میں بند ہو کر الزامات لگانا درست نہیں۔ مراد سعید بانی پی ٹی آئی کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کا دعویٰ کیا گیا، لیکن ڈاکٹرز احتجاج کر رہے تھے۔ انہوں نے فیکلٹی اور ڈاکٹرز کا احتجاج ختم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی رشتہ دار کسی ادارے کا سربراہ نہیں ہے۔
پشاور کے ایک اسکول میں پیش آنے والے سانحے کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو امن، خوشحالی اور ترقی فراہم کرنا ضروری ہے۔
