پشاور کے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے 33 بچوں سمیت ایک ٹیچر شہید ہوگئیں۔ 25 سالہ ثمرین پشاور کی خان مست کالونی کی رہائشی تھیں۔ ان کا تعلق درہ آدم خیل کے آفریدی قبیلے سے تھا اور وہ قاسم خیل گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی تدفین آبائی علاقے میں کی گئی۔

 

ثمرین کے ماموں سردار بہادر نے ٹی این این کو بتایا کہ حادثے کے روز وہ معمول سے ہٹ کر صبح سویرے اسکول جانے کے لیے جلدی میں تھیں، کیونکہ وہ گاؤں میں اپنے خاندان کے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لینا چاہتی تھیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جس چھٹی کی درخواست لے کر وہ اسکول جا رہی ہیں، وہ ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوگا۔

 

سردار بہادر کے مطابق، ثمرین انتہائی ہنس مکھ اور خوش اخلاق تھیں۔ جب وہ 12 سال کی تھیں تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا، جس کے بعد بہن بھائیوں کے اخراجات اور تعلیم کی ذمہ داری سردار بہادر نے اٹھائی۔ ثمرین بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھیں۔ انہوں نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور اسکول ٹیچر بننے کا خواب پورا کیا، تاہم ان کی زندگی کا سفر ادھورا رہ گیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

 

ان کے ماموں نے بتایا کہ ثمرین پہلے قریبی علاقے کے ایک اور نجی اسکول میں پڑھاتی تھیں، لیکن کئی ماہ قبل ہی انہوں نے حادثے کا شکار ہونے والے اسکول میں بطور ٹیچر ملازمت اختیار کی تھی۔ ان کی ایک بہن بھی اسکول ٹیچر تھیں، تاہم وہ کچھ عرصہ قبل ملازمت چھوڑ چکی تھیں۔

 

سردار بہادر کے مطابق، حادثے کے روز ثمرین بی بی چھٹی کی درخواست لے کر گھر سے اسکول گئی تھیں تاکہ کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل میں واقع اپنے آبائی گاؤں جا کر رشتہ دار کی شادی میں شرکت کرسکیں۔

 

انہوں نے بتایا، ’’حادثے کی صبح وہ معمول سے ہٹ کر بہت جلدی میں تھیں تاکہ اسکول جا کر چھٹی لے سکیں اور درہ آدم خیل جا کر رشتہ دار کی شادی میں شرکت کرسکیں، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ ثمرین شادی میں شرکت کے لیے نہ پہنچ سکیں اور ان کی میت آبائی علاقے پہنچ گئی۔‘‘

 

پشاور کے دیر کالونی کے قریب واقع خان مست کالونی کے رہائشی یاسر اعوان کے بچے بھی اسی اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے ٹی این این کو بتایا کہ ثمرین بی بی انتہائی قابل اور علاقے کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی ٹیچر تھیں۔

 

یاسر اعوان کے مطابق، ان کے بچوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت جب ثمرین کو معلوم ہوا کہ چھت سے اینٹیں گرنا شروع ہوگئی ہیں تو انہوں نے فوری طور پر بچوں کو کلاس روم سے باہر نکالنا شروع کردیا۔

 

 وہ مزید بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ کلاس روم میں داخل ہوئیں اور انہیں باہر نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔ اسی دوران جب وہ مزید بچوں کو بچانے کے لیے اندر گئیں تو اسکول کی چھت مکمل طور پر گر گئی، جس کی زد میں آکر ثمرین بی بی شہید ہوگئیں۔

 

یاسر اعوان نے بتایا کہ ثمرین کی شہادت پر بچوں سمیت پورا علاقہ انتہائی افسردہ ہے۔

دیر کالونی میں اسکول کے قریب رہائش پذیر نور ولی نے ٹی این این کو بتایا کہ وہ سکیورٹی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل پر سواریاں بھی چلاتے ہیں۔ حادثے کے روز وہ گھر میں موجود تھے۔ ان کے سات بچے بھی اسی اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں ان کے بھتیجے بھی شامل ہیں۔

 

نور ولی نے بتایا کہ جب انہیں اطلاع ملی کہ اسکول کی چھت گر گئی ہے تو وہ فوری طور پر وہاں پہنچے۔ ان کے مطابق، اسکول میں افراتفری کا عالم تھا اور وہ اپنے بچوں کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

 

 ان کا ایک بچہ اسی کلاس روم میں تھا جہاں چھت گری تھی، جبکہ باقی بچے دوسری کلاسوں میں موجود تھے۔ ان کے دیگر بچے محفوظ رہے، جبکہ ایک بچہ میکائل معمولی زخمی ہوا، جو انہیں مل گیا۔

 

نور ولی نے مزید بتایا کہ جب وہ اسکول کی دوسری منزل پر پہنچے تو ریسکیو اہلکار ثمرین بی بی کی لاش اٹھا کر لے جا رہے تھے۔ انہوں نے لاش ایمبولینس میں منتقل کرنے میں اہلکاروں کی مدد بھی کی۔ ان کے بقول، ثمرین بی بی کے چہرے کے دائیں جانب ماتھے پر شدید چوٹیں آئی تھیں، جیسے کلہاڑی کے وار سے زخم آئے ہوں۔

 

اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں ثمرین بی بی کے علاوہ ایک اور ٹیچر مہوش بھی زخمی ہوئی تھیں، جنہیں اب اسپتال سے گھر منتقل کردیا گیا ہے، تاہم وہ اب بھی صدمے کی کیفیت میں ہیں۔

 

مہوش کے بھائی احسان خان نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کی بہن اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرچکی ہیں اور اسی اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ ان کے مطابق، مہوش کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم ڈاکٹروں نے اہلِ خانہ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے سامنے حادثے سے متعلق کوئی بات نہ کی جائے۔

 

احسان خان نے بتایا کہ حادثے کے وقت ان کی بہن تیسری منزل پر واقع کلاس روم میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی دوران چھت ان پر آگری۔ وہ اب بھی اپنی سہیلی ثمرین کے بارے میں پوچھتی رہتی ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کیسی ہیں، لیکن اہلِ خانہ انہیں یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ ثمرین اسپتال میں ہیں اور ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔