نازیہ سالارزئی
دنیا بھر میں ہر سال 16 اکتوبر کو ورلڈ فوڈ ڈے (عالمی یومِ خوراک) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ہر فرد کے لیے محفوظ، صحت مند، متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔
اس دن کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا جاتا ہے کہ خوراک صرف بھوک مٹانے کے لیے نہیں، بلکہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا بھر، خصوصاً پاکستان میں، ہر شخص کو ایسی خوراک میسر ہے جو اس کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کر سکے؟

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں آج بھی 70 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ ڈے ایسے افراد کے مسائل اجاگر کرنے، خوراک کی اہمیت سمجھنے اور بھوک کے خاتمے کے لیے اقدامات کی ضرورت یاد دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بونیر میں مسافر ہائی ایس الٹنے سے 6 افراد جاں بحق، 7 زخمی
پاکستان میں بھی مہنگائی اور غربت کے باعث عام شہریوں کے لیے صحت مند اور متوازن غذا کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

محدود آمدنی والے خاندانوں کو اکثر خوراک کے معیار پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، جس کے اثرات ان کی صحت اور معیارِ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
مہنگائی اور خوراک تک رسائی کا مسئلہ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) ملک میں مہنگائی اور قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والا سرکاری ادارہ ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 10.30 فیصد ہے، جبکہ ایک عام گھرانہ اپنی آمدنی کا تقریباً 37 سے 40 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔ اس صورت حال میں مہنگائی کا اثر صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے لوگوں کی خوراک کے معیار اور صحت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

جب آٹا، دالیں، سبزیاں، پھل، دودھ اور گوشت جیسی بنیادی اشیا مہنگی ہو جائیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ان تمام چیزوں کو روزمرہ خوراک میں شامل رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ نسبتاً سستی اشیا پر انحصار بڑھا دیتے ہیں یا خوراک کی مقدار کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح مہنگائی کم آمدنی والے گھرانوں کے دسترخوان اور ان کی غذائی ضروریات دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پیٹ بھرنے اور جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں فرق ہے۔ روٹی اور چائے سے وقتی طور پر بھوک مٹ سکتی ہے، لیکن ان سے جسم کو تمام ضروری پروٹین، وٹامنز اور معدنیات مناسب مقدار میں نہیں ملتیں۔

طویل عرصے تک متوازن غذا نہ ملنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ بڑوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مہنگائی محض معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق عوام کی صحت اور غذائی تحفظ سے بھی ہے۔
پاکستان میں غذائیت کی صورت حال
نیشنل نیوٹریشن پاکستان میں بچوں اور خواتین سمیت مختلف طبقات کی غذائیت کی صورت حال سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ حکومت پاکستان اور یونیسیف سمیت متعلقہ ادارے ان نتائج کو غذائیت کے مسائل سمجھنے اور ان کے حل کے لیے منصوبہ بندی میں استعمال کرتے ہیں۔

اس سروے کے لیے حکومت پاکستان، یونیسیف اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تعاون سے ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ایک لاکھ 15 ہزار 600 گھرانوں سے ڈیٹا جمع کیا گیا، تاکہ بچوں اور خواتین کی صحت اور غذائیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس میں پانچ سال سے کم عمر بچوں اور 15 سے 49 سال کی خواتین سے متعلق معلومات شامل تھیں۔

سروے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 40.2 فیصد بچے پستہ قد کا شکار تھے، یعنی ان کا قد اپنی عمر کے لحاظ سے مناسب طور پر نہیں بڑھ رہا تھا۔ اس کی ایک اہم وجہ طویل عرصے تک مناسب غذا نہ ملنا ہے۔
غذائی قلت بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ان کی ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، پاکستان میں ہر 10 میں سے تقریباً چار بچے اس مسئلے سے متاثر تھے۔
اسی طرح 17.7 فیصد بچوں کا وزن ان کے قد کے لحاظ سے بہت کم تھا، جبکہ 28.9 فیصد بچوں کا وزن ان کی عمر کے لحاظ سے کم پایا گیا۔

دوسری جانب 9.5 فیصد بچے زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غذائیت کا مسئلہ صرف خوراک کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ غیر متوازن اور غیر صحت مند خوراک بھی بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
خواتین کی غذائیت کے حوالے سے سروے میں 15 سے 49 سال کی تقریباً نصف خواتین میں خون کی کمی پائی گئی، جبکہ 79.7 فیصد خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی سامنے آئی۔ مزید برآں، 27 فیصد خواتین میں وٹامن اے کی کمی پائی گئی، جو بینائی اور قوتِ مدافعت کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ نتائج بچوں اور خواتین کی غذائیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔ بچوں کو ابتدائی عمر میں مناسب غذا نہ ملے تو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ خواتین میں غذائی کمی ان کی اپنی صحت پر اثر انداز ہونے کے ساتھ خاندان کی دیکھ بھال کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
غذائی عدم تحفظ اور بڑھتے مسائل
اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارہ برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام، WFP) دنیا بھر میں بھوک کے خاتمے اور ضرورت مند افراد کو خوراک کی فراہمی کے لیے کام کرتا ہے۔ غذائی عدم تحفظ کی شدت جانچنے کے لیے آئی پی سی (انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن) ایک عالمی پیمانہ ہے، جس کے ذریعے مختلف علاقوں میں خوراک کی دستیابی اور لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

غذائی عدم تحفظ کی درجہ بندی 2025-26 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 51 اضلاع، جن میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے علاقے شامل ہیں، میں 92 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ان میں سے 22 لاکھ افراد ہنگامی صورت حال سے دوچار ہیں، جہاں بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 27 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
مہنگائی اس صورت حال کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ جب خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے دالیں، گوشت اور دودھ جیسی غذائیت سے بھرپور اشیا خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دیہاڑی دار طبقے کے لیے محدود آمدنی میں گھر کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک کے اخراجات پورے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات پورا دن کام کرنے کے باوجود ان کے لیے خاندان کی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل رہتا ہے۔

ایسے حالات میں بعض خاندان روٹی، چاول، چینی اور میٹھی چائے جیسی نسبتاً سستی اشیا پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ان سے وقتی طور پر بھوک تو مٹ سکتی ہے، لیکن جسم کو ضروری غذائی اجزا مناسب مقدار میں نہیں مل پاتے۔
دوسری جانب زیادہ کیلوریز اور کم غذائیت والی خوراک کا مسلسل استعمال وزن بڑھنے اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ بازار میں خوراک دستیاب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اسے خریدنے کی استطاعت بھی رکھتا ہے۔ غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو نہ صرف خوراک میسر ہو، بلکہ ان کی آمدنی بھی اتنی ہو کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔
خوراک کا ضیاع اور ہماری ذمہ داریاں
ایک طرف دنیا میں کروڑوں افراد بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف روزانہ ہزاروں ٹن خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں تیار ہونے والی خوراک کا تقریباً ایک تہائی ضائع ہو جاتا ہے۔

ہمارے گھروں، شادی بیاہ کی تقریبات اور ہوٹلوں میں بھی ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے، جو اکثر استعمال ہونے کے بجائے پھینک دیا جاتا ہے۔ اس طرح خوراک کے ساتھ اسے تیار کرنے میں استعمال ہونے والے پانی، توانائی، محنت اور پیسے کا بھی نقصان ہوتا ہے۔
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں پلیٹ میں اتنا ہی کھانا ڈال کر جتنا کھا سکیں، بچا ہوا کھانا مناسب طریقے سے محفوظ کر کے اور صاف و محفوظ اضافی خوراک ضرورت مندوں تک پہنچا کر اس ضیاع کو کم کر سکتے ہیں۔

فاسٹ فوڈ کے بجائے سادہ اور صحت مند غذا اپنانا اور خوراک کی قدر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ کھانا موجود ہو تو اسے ضائع کرنے کے بجائے کسی بھوکے شخص کو کھلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
غذائی تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کی ضرورت
بھوک اور غذائی قلت کا خاتمہ صرف انفرادی کوششوں سے ممکن نہیں۔ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے، بنیادی غذائی اشیا عام شہریوں کی پہنچ میں رکھنے، کم آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے اور بچوں و خواتین کی غذائیت بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

ضرورت مند خاندانوں تک امداد پہنچانے اور صحت مند خوراک سے متعلق آگاہی بڑھانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
ورلڈ فوڈ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں اسے بلاوجہ ضائع کرنے سے گریز کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی مدد کرنی چاہیے۔
آئیے، عہد کریں کہ ہم خوراک کی قدر کریں گے اور ایسے معاشرے کے قیام کے لیے بھی کوشش کریں گے جہاں کوئی شخص غربت یا مہنگائی کے باعث غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم نہ رہے۔ بھوک کا خاتمہ صرف کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
