خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں واقع ٹانک شہر میں ایک وقت تھا جب گھوڑوں کی ٹاپوں، ٹانگوں میں بندھی گھنٹیوں کی آوازوں اور خوب صورت سجاوٹ سے سڑکوں پر ایک منفرد رونق دکھائی دیتی تھی۔
ٹانگا نہ صرف شہریوں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ تھا بلکہ مقامی معیشت، ثقافت اور روایتی طرزِ زندگی میں بھی اسے خاص اہمیت حاصل تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ جدید سفری ذرائع متعارف ہونے، آٹو رکشوں اور چنگ چی رکشوں کے بڑھتے استعمال نے ٹانگے کی جگہ لے لی، جبکہ چینی موٹر سائیکلوں کی مقبولیت نے اس روایتی سواری کے زوال کو مزید تیز کر دیا۔

ٹانک کے علاقے کالونی پھول شاہ کے رہائشی بزرگ رستم خان ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک دور میں شہر کے اندر سفر کے لیے ٹانگا سب سے اہم ذرائع میں شمار ہوتا تھا۔ لوگ بازاروں، محلوں اور مختلف مقامات تک پہنچنے کے لیے اسی سواری پر انحصار کرتے تھے۔ اس زمانے میں شہر کے مختلف حصوں میں ٹانگوں کے باقاعدہ اڈے قائم تھے، جہاں صبح سے شام تک مسافروں کی آمدورفت جاری رہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: مسلسل تین دن مہنگا ہونے کے بعد سونا کتنا سستا ہوگیا؟
رستم خان کے مطابق ٹانک کے مرکزی علاقے میں سبزی منڈی سے پہلے، گاڑیوں کی ورکشاپوں کے قریب اور ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، جنڈولہ، پیزو، لکی مروت اور بنوں جانے والی بسوں کے اڈوں کے داخلی راستوں پر ٹانگے کھڑے ہوتے تھے۔
ان مقامات پر گھوڑوں کو باندھنے کے لیے رسیاں، بڑے برآمدے اور ستون موجود تھے، جبکہ گھوڑوں کے چارے اور دیگر ضروریات کا بھی انتظام کیا جاتا تھا۔ چھوٹے بازار سمیت شہر کے دیگر مقامات پر بھی ٹانگوں کے اڈے قائم تھے۔
شہر کے مختلف راستوں پر ٹانگوں کی آمدورفت
ماضی میں ٹانک کے اندر اور مختلف علاقوں کی جانب سفر کے لیے ٹانگوں کا استعمال عام تھا۔ پیر دربار صابر شاہ، ڈیرہ اسماعیل خان روڈ، جنڈولہ روڈ اور پیزو روڈ سمیت مختلف راستوں پر ٹانگے چلتے تھے۔ صبح کے وقت شروع ہونے والی یہ سرگرمیاں شام تک جاری رہتی تھیں اور شہر کی روزمرہ زندگی میں ٹانگے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

اس دور میں ٹانگا محض سفر کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ بعض لوگوں کے لیے شوق اور سماجی حیثیت کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔ ٹانگوں کو خوب صورت بنانے کے لیے ان پر مختلف رنگوں سے نقش و نگار بنائے جاتے، جھنڈیاں اور پھول لگائے جاتے اور دیگر آرائشی اشیا سے سجایا جاتا تھا۔بعض ٹانگے دوسرے علاقوں سے بھی لائے جاتے تھے، جبکہ ان کی تیاری اور سجاوٹ پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔
گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ٹانگوں کی سجاوٹ
ٹانگے کے ساتھ گھوڑے کی صحت اور دیکھ بھال کو بھی خاص اہمیت حاصل تھی۔ گھوڑوں کو صاف ستھرا رکھنے، ان کی مالش کرنے، مناسب خوراک دینے اور ان کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے باقاعدہ وقت صرف کیا جاتا تھا۔ سفید گھوڑے زیادہ پسند کیے جاتے تھے، تاہم گہرے سرخ، سرمئی، کالے اور سیاہ و سفید رنگوں کے گھوڑے بھی ٹانگوں میں استعمال ہوتے تھے۔

بچوں کو ٹانگے کی اگلی نشست پر بیٹھنا زیادہ پسند تھا، جبکہ خواتین عموماً پچھلی نشست پر سفر کرتی تھیں۔ خوش حال خاندان اور خان خوانین مختلف مقامات پر جانے کے لیے بعض اوقات پورا ٹانگا کرائے پر لیتے تھے۔ خواتین کی پردے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ٹانگوں کے اگلے اور پچھلے حصوں پر کپڑا بھی لگایا جاتا تھا تاکہ سفر کے دوران انہیں پردے کی سہولت میسر ہو۔
جدید سواریوں کی آمد سے کاروبار متاثر ہوا
رستم خان کے مطابق ٹانک میں ٹانگوں کا کاروبار تقریباً 2000 سے 2001 تک جاری رہا، تاہم 2002 اور 2003 کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ آٹو رکشوں کی آمد نے ٹانگوں کے لیے مشکلات پیدا کیں، جبکہ بعد میں چنگ چی رکشوں کے استعمال میں اضافے نے اس روایتی سواری کی ضرورت مزید محدود کر دی۔

موٹر سائیکلوں اور ذاتی گاڑیوں کے بڑھتے استعمال سے لوگوں کو سفر کے لیے متبادل ذرائع میسر آئے۔ ان تبدیلیوں نے ٹانگے کی افادیت کم کر دی اور اس سے وابستہ روزگار بھی متاثر ہونے لگا۔ یوں جو سواری کبھی شہر کے معمولات کا لازمی حصہ تھی، وقت گزرنے کے ساتھ اس کا استعمال محدود ہوتا گیا۔
ٹانگے صرف مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتے تھے بلکہ سامان کی نقل و حمل میں بھی ان کا کردار تھا۔ بعد ازاں لوڈر رکشوں اور دیگر گاڑیوں نے یہ کام سنبھال لیا، جس سے ٹانگوں کی معاشی اہمیت مزید کم ہو گئی۔ جدید سواریوں کی دستیابی اور سفر کے بدلتے تقاضوں نے اس کاروبار کو بتدریج ختم ہونے کی جانب دھکیل دیا۔
ماحول دوست سواری جو اب ماضی کی یاد بن گئی
رستم خان کا کہنا ہے کہ ٹانگا ماحول دوست سواری تھی کیونکہ اسے چلانے کے لیے پیٹرول یا ڈیزل کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ گھوڑا اس کا بنیادی ذریعہ تھا۔ ان کے نزدیک ٹانگا صرف آمدورفت کا وسیلہ نہیں بلکہ مقامی ثقافت، روایات، روزگار اور شہر کی خوب صورتی سے بھی وابستہ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ٹانک سمیت کئی علاقوں میں یہ روایتی سواری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ نئی نسل کے بہت سے افراد نے شاید ٹانگوں کی وہ سجاوٹ، گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان سے وابستہ طرزِ زندگی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو جو کبھی شہری زندگی کا حصہ تھا۔
رستم خان کے مطابق ماضی میں شہر کی گلیوں اور بازاروں میں ٹانگوں کی آمدورفت، گھوڑوں کی ٹاپوں اور گھنٹیوں کی آوازوں سے ایک خاص ماحول پیدا ہوتا تھا۔ ٹانگوں کی سجاوٹ اور ان سے وابستہ کاروبار بھی شہر کی رونق کا حصہ تھے۔ جدید سواریوں نے سفر کو تیز اور آسان بنا دیا، لیکن اس تبدیلی کے ساتھ ایک ایسی روایتی سواری بھی ختم ہو گئی جس نے طویل عرصے تک ٹانک کی شہری زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹانک میں ٹانگے کا عروج و زوال وقت کے ساتھ بدلتی معاشرتی، معاشی اور سفری ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ کبھی شہری آمدورفت اور روزگار کا اہم ذریعہ رہنے والا ٹانگا اب سڑکوں پر دکھائی نہیں دیتا، تاہم اس سے وابستہ روایات، ثقافت اور بزرگوں کی یادیں اس دور کی اہمیت کو آج بھی نمایاں کرتی ہیں۔
