پشاور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عوام نے گھبرانا نہیں، مشکل وقت بھی آئے گا، تاہم ان شاء اللہ خیبرپختونخوا کو دیگر صوبوں سے آگے لے کر جائیں گے۔

 

محسن نقوی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات اور فوج کی تعیناتی سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔

 

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج پہلا دن ہے جب وہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، اب دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی طے ہوئی؟ گورنر کی زیرِ صدارت اجلاس کی تفصیلات جاری

 

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اہلکاروں کو صوبائی حکومت کی جانب سے وہ تعاون حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے صوبائی حکومت کی قیادت اور تعاون ضروری ہے۔

 

یاد رہے کہ ایپکس کمیٹی صوبائی سطح پر سکیورٹی امور میں رابطہ کاری اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے قائم فورم ہے۔ نیشنل ایکشن پلان دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، جس کے تحت صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں قائم کی گئیں۔

وفاقی سطح پر بھی ایک مرکزی ایپکس کمیٹی موجود ہے، جس کی صدارت وزیراعظم کرتے ہیں۔

 

سہیل آفریدی کے دور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس

 

وفاقی حکومت کے رہنما سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے سے گریز کرتے رہے۔

سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس 4 فروری 2026 کو طلب کیا تھا۔

حکومتی رہنماؤں کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اختلافات رہے، جبکہ 2 اور 3 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے تھے۔

 

ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت گزشتہ روز سکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

 

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کا عزم خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا اور عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی اقدامات کا مقصد قانون کی عمل داری یقینی بنانا اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے، تاہم ریاست کے تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔