پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تعلیمی ادارے بند رکھنے، کنٹینرز مرحلہ وار ہٹانے اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، آئی جی پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

 

اجلاس کے دوران گورنر خیبر پختونخوا کو صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور موجودہ حالات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پشاور میں تمام کنٹینرز جلد از جلد مرحلہ وار ہٹائے جائیں گے، جبکہ انٹرنیٹ سروس ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی۔

 

اجلاس میں پولیس شہداء پیکیج میں اضافے اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں پر نظرثانی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ شہداء کے بچوں اور دیگر ورثاء کی تعلیم و تربیت کا خصوصی خیال رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

 

اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔

 

گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار مزید بہتر بنائی جائے گی۔