زالان آفریدی
طورخم بارڈر کی بندش کو ایک سال مکمل ہونے پر کاروباری حلقوں، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اور مقامی آبادی کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
بارڈر بند ہونے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت معطل ہے، جس کے باعث برآمدات اور درآمدات متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ہزاروں مزدوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان اور دکانداروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ تجارتی حلقوں کے اندازوں کے مطابق بارڈر کی بندش سے مجموعی طور پر 380 سے 400 ارب روپے تک کا نقصان ہو چکا ہے۔
سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر زاہد شنواری کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پاکستان کے لیے معاشی اور روایتی لحاظ سے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو قریب اور نسبتاً آسانی سے قابلِ رسائی منڈی ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ببرک شاہ کی جیت سے پشتون نمائندگی تک، تماشا سیزن 5 نے کیا پیغام دیا؟
ہمسایہ ممالک کے ساتھ کم فاصلے کی وجہ سے سامان کی ترسیل پر اخراجات بھی کم آتے ہیں، جس سے پاکستانی مصنوعات کو مناسب اور مسابقتی قیمتوں پر فروخت کرنے میں مدد ملتی ہے۔
زاہد شنواری کے مطابق خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے برآمد کنندگان کو نقصان پہنچتا ہے اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے لیے افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ قانونی تجارت کو فروغ دینا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر جبکہ درآمدات تقریباً 75 ارب ڈالر ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دے کر تجارتی خسارے میں کمی لانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان سے متعلق درآمدی تجارت کا حجم تقریباً 1.3 سے 1.5 ارب ڈالر ہے۔
زاہد شنواری نے بتایا کہ طورخم کے علاوہ چمن، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے اہم سرحدی راستے ہیں، تاہم طورخم بارڈر اس تجارت میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے خیبرپختونخوا کے کاروبار، صنعت، ٹرانسپورٹ اور خدمات کے شعبوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صنعتیں محدود ہیں اور روزگار کے متبادل مواقع بھی کم ہیں۔ ایسے میں مقامی آبادی کا بڑا حصہ تجارت، مزدوری، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے متبادل مواقع پیدا کرنے کے ساتھ قانونی تجارت کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
طورخم میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ حاجی واحد خان شنواری کے مطابق پاکستان سے افغانستان سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کی جاتی رہی ہیں، جبکہ افغانستان سے پاکستان آنے والی درآمدات کا حجم بھی ایک ارب ڈالر سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔
حاجی واحد خان شنواری کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچا ہے اور برآمدات کے ذریعے حاصل ہونے والے زرمبادلہ پر بھی اثر پڑا ہے۔ افغانستان سے درآمد ہونے والے سامان پر حکومت کو ڈیوٹیز اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں آمدن حاصل ہوتی تھی، تاہم بارڈر بند ہونے سے یہ آمدن بھی متاثر ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال میں تاجروں، کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کرے اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
طورخم کسٹمز ایجنٹس کے صدر مجیب شنواری کے مطابق بارڈر کی بندش سے روزانہ تقریباً 25 لاکھ ڈالر کی برآمدات اور 54 کروڑ روپے کی درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی حلقوں کے اندازوں کے مطابق اس بندش سے مجموعی نقصان 380 سے 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
مجیب شنواری کے مطابق طورخم میں کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، مزدوروں، گاڑیوں کے مالکان، ٹیکسی ڈرائیوروں اور ہوٹلوں سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی خاندانوں کے لیے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
مقامی اندازوں کے مطابق لنڈی کوتل میں تقریباً 2,500 ٹیکسی ڈرائیور اور 3,000 مزدور بارڈر بند ہونے سے بے روزگار ہوئے ہیں۔ کام نہ ہونے اور اخراجات پورے نہ کر پانے کے باعث بعض ٹیکسی ڈرائیور اپنی گاڑیاں بھی فروخت کر چکے ہیں۔
تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بارڈر بند ہونے سے پہلے مزدوروں اور ڈرائیوروں کی روزانہ آمدن سے لنڈی کوتل کی مارکیٹوں میں خریداری ہوتی تھی، جس سے دکانداروں، ہوٹلوں اور چھوٹے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچتا تھا۔
اب گاہکوں کی تعداد کم ہونے سے دکانداروں کے لیے کرایے اور دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق پہلے مارکیٹوں میں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا، لیکن اب کئی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں انتہائی سست ہو چکی ہیں۔
مجیب شنواری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو سیاسی اختلافات اور سیکیورٹی مسائل سے اس طرح نہیں جوڑنا چاہیے کہ کاروبار مکمل طور پر رک جائے۔ ان کے مطابق ایسے عملی طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سرحدی سیکیورٹی کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ قانونی تجارت بھی جاری رکھی جا سکے۔
