کھیلوں میں سخت مقابلہ، گھر کے اندر بدلتے تعلقات، مشکل آزمائشیں اور آخری لمحے تک جیت کی امید! پاکستان کے معروف ریئلٹی شو ’تماشا ‘ کے پانچویں سیزن میں فلمی اداکار ببرک شاہ نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کرلی۔
اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والے اس شو میں ببرک شاہ کی جیت نے خیبر پختونخوا میں خوشی کی ایک نئی وجہ پیدا کی، جبکہ ایسرا عائشہ رنر اَپ رہیں۔ یوں تماشا کی ٹرافی دوسری بار خیبر پختونخوا پہنچی اور پشتون امیدواروں کی صلاحیتوں نے ایک بار پھر ناظرین کی توجہ حاصل کی۔

ببرک شاہ کی جیت صرف ایک امیدوار کی کامیابی نہیں، بلکہ اس بحث کا حصہ بھی ہے کہ پاکستان کے بڑے تفریحی پلیٹ فارم پشتونوں کو کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی ڈراموں اور تفریحی مواد میں پشتون کرداروں کو اکثر مخصوص روایتی یا منفی کرداروں تک محدود رکھنے پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
تماشا میں پشتون امیدواروں نے کھیلوں، گفتگو، شاعری، مزاح اور دوسروں کے ساتھ اپنے رویے کے ذریعے اپنی شخصیت کے مختلف پہلو دکھائے۔ اس سے ناظرین کو پشتون شناخت کے ساتھ جڑی صلاحیتوں اور انفرادی شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
اے آر وائی ڈیجیٹل نے تماشا کے ذریعے مختلف علاقوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیا۔ پانچویں سیزن میں مجموعی طور پر 18 امیدواروں نے حصہ لیا، جنہوں نے ایک گھر میں رہتے ہوئے جسمانی اور ذہنی کھیلوں، نامزدگیوں اور مختلف چیلنجز کا سامنا کیا۔

ان مقابلوں میں صرف جسمانی طاقت ہی نہیں، بلکہ حاضر دماغی، صبر، حکمت عملی اور دوسرے امیدواروں کے ساتھ معاملات سنبھالنے کی صلاحیت بھی اہم رہی۔
اس سیزن میں پشتون پس منظر سے تعلق رکھنے والے ببرک شاہ، ڈاکٹر زی خان، ایسرا عائشہ، حمزہ جوہر اور زیب خان نے اپنی موجودگی نمایاں کی۔ ان میں سے ببرک شاہ، ڈاکٹر زی خان اور ایسرا عائشہ آخری چھ امیدواروں تک پہنچے۔ ان کی شرکت نے شو میں پشتون نمائندگی کو نمایاں کیا، جبکہ تینوں نے اپنے اپنے انداز سے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔

ببرک شاہ نے مقابلے کے دوران کئی مشکل کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ تماشا گھر میں سخت مقابلوں سے گزرے اور کئی مشکل کھیلوں میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی نمایاں کامیابیوں میں برف کے بڑے ٹکڑے میں منجمد تماشا کا کارڈ حاصل کرنے کا مقابلہ شامل تھا، جس میں انہیں برف پگھلا کر کارڈ تک پہنچنا تھا۔اسی وجہ بابرک شاہ کو تماشا سیزن 5 کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔ مشکل کھیلوں اور حکمت عملی کے مراحل میں ان کی کارکردگی نے انہیں فائنل تک پہنچنے اور بالآخر مقابلہ جیتنے میں مدد دی۔
تاہم، ببرک شاہ کی مقبولیت کا سبب صرف کھیلوں میں ان کی کارکردگی نہیں تھی۔ وہ ساتھی امیدواروں کی حوصلہ افزائی کرتے، انہیں مشورے دیتے اور اپنی شاعری و گفتگو سے محفل میں رنگ بھرتے دکھائی دیے۔
ان کے مثبت رویے اور دوسروں کے ساتھ اچھے برتاؤ نے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ مداحوں نے انہیں ’دلوں کا کھلاڑی‘ کا لقب دیا، جبکہ بعض شائقین کے مطابق وہ تماشا گھر کی رونق بھی تھے۔
ان کی شخصیت نے یہ دکھایا کہ ریئلٹی شو میں ناظرین کی حمایت صرف کھیل جیتنے سے نہیں، بلکہ اپنے رویے اور گفتگو سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر زی خان نے اپنے منفرد انداز اور مزاحیہ گفتگو کے ذریعے ناظرین میں جگہ بنائی اور اسی وجہ سے ڈاکٹر زی کو تماشا سیزن 5 کے بہترین انٹرٹینر کا ایوارڈ ملا۔
پشتون شناخت سے ان کی وابستگی اور شو میں ان کی موجودگی نے انہیں مداحوں کے درمیان نمایاں کیا۔ دوسری جانب ایسرا عائشہ نے بھی مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور فائنل تک پہنچیں۔
ایسرا عائشہ کا ببرک شاہ کے ساتھ آخری مقابلے تک پہنچنا اس سیزن کے اہم لمحات میں شامل رہا۔ ببرک شاہ نے ٹرافی جیتی، جبکہ ایسرا عائشہ رنر اَپ رہیں۔

پشتون امیدواروں کی یہ نمایاں موجودگی تماشا کے چوتھے سیزن کی یاد بھی تازہ کرتی ہے، جس کے فاتح سیف علی خان تھے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سیف علی خان کو بھی ان کی کارکردگی، کھیلوں میں حصہ لینے کے انداز اور پشتو موسیقی سے دلچسپی کے باعث مداحوں نے پسند کیا۔ ان کی مقبولیت پاکستان سے باہر رہنے والے مداحوں تک بھی پہنچی۔
سیف علی خان اور ببرک شاہ کی کامیابیوں نے ناظرین کو پشتون امیدواروں کو ان کی انفرادی صلاحیتوں، شخصیت اور کارکردگی کے تناظر میں دیکھنے کا موقع دیا۔
اس طرح تماشا نے پشتون معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک ایسے تفریحی پلیٹ فارم پر جگہ دی، جہاں وہ بغیر کسی طے شدہ اسکرپٹ کے اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کے ذریعے ناظرین سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔

دس اکتوبر کو ہونے والے گرینڈ فائنل میں ببرک شاہ نے ۴۷ لاکھ روپے کی انعامی رقم جیتی، جبکہ ایسرا عائشہ دوسرے نمبر پر رہیں۔ ان کی جیت، ڈاکٹر زی خان کی مقبولیت اور ایسرا عائشہ کی فائنل تک رسائی نے پانچویں سیزن میں پشتون امیدواروں کی موجودگی کو نمایاں کیا۔
بعض شائقین کے مطابق اے آر وائی ڈیجیٹل نے تماشا کے ذریعے پشتونوں کے مثبت پہلو دکھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں ناظرین کو پشتون کو مختلف صلاحیتوں، رویوں اور شخصیات کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔
ببرک شاہ کی جیت ایک تفریحی مقابلے کا نتیجہ ہے، لیکن اس سے جڑا نمائندگی کا پہلو بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جب بڑے قومی پلیٹ فارم مختلف علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیتے ہیں تو ناظرین کو ان کی شخصیت کے مختلف پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔
تماشا کے اس سیزن میں پشتون امیدواروں نے اپنی شرکت اور کارکردگی سے یہی موقع حاصل کیا۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی تفریحی صنعت اس نمائندگی کو مزید وسعت دے گی اور پشتون یا دیگر فنکاروں کو متنوع کرداروں اور بڑے پلیٹ فارموں پر مسلسل مواقع فراہم کرے گی؟
