چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عملاً گورنر راج نافذ ہے صرف اس کا اعلان باقی ہے۔

 

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کا معاملہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں زیر بحث آیا۔ اس پیش رفت کے بعد وزیراعظم نے اتوار کی صبح وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں شرکت کے بعد بیرسٹر گوہر نے پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: سہیل آفریدی نے رنگ روڈ، جی ٹی روڈ انٹرسیکشن پر فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا، تعمیر پر کتنے ارب روپے خرچ ہوں گے؟

 

 انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی سطح پر مداخلت کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات اور انتظامی گرفت متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔

 

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر اختلاف نہیں، اصل مسئلہ اس کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے اثرات صوبائی و وفاقی سطح پر پڑ سکتے ہیں۔

 

انہوں نے تجویز دی کہ صوبے میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کرنے سے پہلے وفاقی یا صوبائی اپیکس کمیٹی کو فعال کیا جائے اور متعلقہ فریقوں کو ایک میز پر بٹھا کر قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے عوام کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

 

پی ٹی آئی چیئرمین نے موجودہ سیاسی کشیدگی کو ملکی سیاست کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دوسرے صوبوں میں اس طرح کی مداخلت نہیں ہورہی، جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کی وجہ سے صوبائی حکومت کو اس صورت حال کا سامنا ہے۔

 

بیرسٹر گوہر نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو ضد کے بجائے معاملہ فہمی سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے بچنا چاہیے جو سیاسی محاذ آرائی کو مزید بڑھائیں، کیونکہ خیبر پختونخوا پہلے ہی مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور مزید تجربات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تین وزرا سمیت صوبائی اسمبلی کے 9 اور قومی اسمبلی کے 8 ارکان کو زبردستی لے جایا گیا ہے یا ان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

 

بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی بہنوں اور کزن کی قید پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر گزشتہ ایک سال سے عائد پابندی ختم کی جائے۔ ان کے مطابق ملاقاتوں کی بحالی سے موجودہ تناؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے چھ مطالبات کی منظوری کے لیے لانگ مارچ کیا تھا اور جماعت کے نزدیک یہ تمام مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔