پشاور ہائیکورٹ نے ذہنی بیماری میں مبتلا پاکستانی شہری کامران کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور نادرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

 

جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لنڈی ارباب کے رہائشی کامران کو پولیس نے بلاجواز گرفتار کیا، جبکہ وہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج بھی رہ چکا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: نوشہرہ: بدرشی میں مکان کی چھت گرنے سے ماں جاں بحق، 3 بچے زخمی

 

وکیل کے مطابق کامران کا نام نادرا کے ریکارڈ میں پاکستانی شہری کی حیثیت سے موجود ہونے کے باوجود اسے واپسی پروگرام میں شامل کیا گیا اور 20 جولائی کو تورخم بارڈر کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔

 

عدالت کو بتایا گیا کہ افغانستان پہنچنے کے بعد کامران نے اہلخانہ سے رابطہ کیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ کامران کو افغانستان سے پاکستان واپس لانے کے لیے سفارتی اقدامات کیے جائیں۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے مزید استدعا کی کہ کامران کو افغانستان بھیجے جانے کے معاملے میں غفلت کے ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی جائے۔

 

عدالت نے وفاقی حکومت اور نادرا سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی۔