خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اگر امن و امان کی صورتحال گورنر راج کے لیے جواز ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنر راج لگایا جائے، کیونکہ بلوچستان کا بڑا حصہ نو گو ایریا بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔
معاونِ خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں اور ان کے پاس ایک ہی رٹا رٹایا اسکرپٹ ہے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پالیسی سازی کے لیے ہم سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن وفاقی حکومت کی نیت بھی ٹھیک نہیں اور طبیعت بھی ناساز ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت عوام اور اداروں کو آمنے سامنے لانا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باجوڑ: طالبہ کو مبینہ ہراساں کرنے کے الزام میں کالج چوکیدار گرفتار
انہوں نے کہا کہ پولیس کے لیے 57 جدید آلات کی خریداری کی مد میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کو 7.4 ارب روپے ادا کیے گئے، تاہم اب تک صرف 13 آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو آلات کی فراہمی میں تاخیر کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے لیے 35 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ ان کے مطابق صحت اور تعلیم کے بعد سب سے زیادہ بجٹ پولیس کو دیا گیا ہے اور خیبرپختونخوا کے بجٹ میں امن و امان اور پولیس کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، پھر بھی طعنے ہمیں دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے لیے کئی مرتبہ خطوط لکھے، تاہم کوئی جواب نہیں آیا۔
شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا آغاز 9/11 کے بعد ایک ٹیلی فون کال سے ہوا۔ ان کے بقول عمران خان نے قبائلی اضلاع میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی، جبکہ 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے خیبرپختونخوا کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ملک میں امن کا دور آیا، تاہم عمران خان کو ہٹانے کے بعد ملک کو دوبارہ دہشت گردی کی طرف دھکیلا گیا۔
شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ خیبرپختونخوا آکر یہاں گھومتے ہیں، انہیں بلوچستان کا بھی دورہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کرنا ہماری سیاسی حکمت عملی تھی۔ وفاقی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا بھارت کے ساتھ، جبکہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
