باجوڑ کے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج خار کی طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پولیس نے مقدمے میں مطلوب چوکیدار کو گرفتار کر لیا، جبکہ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے بھی چوکیدار کو معطل کرکے انکوائری مکمل ہونے تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج خار میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

ایس ایچ او خار گلزادہ کے مطابق طالبہ کی جانب سے مبینہ ہراسانی کی شکایت سامنے آنے کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی شروع کی اور مقدمے میں مطلوب ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 511، 377 ب اور 53 سی پی اے کے تحت درج کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے

 

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور دستیاب شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

 

واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر باجوڑ برہان سلارزئی نے پولیس ٹیم اور متعلقہ ایس ایچ او کے ہمراہ کالج کا دورہ کیا۔ ان کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن ٹیم نے واقعے سے متعلق دستیاب شواہد اکٹھے کیے اور طالبہ کو اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا۔

 

برہان سلارزئی کے مطابق یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر باجوڑ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی ہدایات پر کی گئی۔ چائلڈ پروٹیکشن ادارے کی فیمیل ٹیم طالبہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی اور اسے ضروری معاونت فراہم کرے گی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ طالبہ کے تحفظ، رازداری اور ضروری معاونت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

 

محکمہ ہائر ایجوکیشن کے مطابق چوکیدار کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انکوائری مکمل ہونے تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج خار میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم، کیس میں عائد الزامات کی حتمی نوعیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔ طالبہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔

 

 پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور آئندہ قانونی کارروائی شواہد اور تفتیشی نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔