کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں شواہد کی عدم دستیابی پر سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، شعیب شوٹر سمیت 7 پولیس اہلکاروں کو بری کر دیا۔

 

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ عدالت نے شواہد ناکافی ہونے پر امان اللہ مروت، شعیب شوٹر، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس کو بری کرنے کا حکم دیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان کی امن میلہ چیک پوسٹ پر مبینہ دھماکا، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی

 

ملزمان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی گواہ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف یہ بیان نہیں دیا کہ نقیب اللہ کی ہلاکت کے لیے کیا گیا پولیس مقابلہ جعلی تھا۔

 

سرکاری وکیل کے مطابق سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت کیس میں نامزد 18 پولیس افسران اور اہلکار پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 ملزمان مفرور تھے اور عدالت کے فیصلے کے بعد ان تمام ملزمان نے سرینڈر کر دیا تھا۔

 

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ مقدمے میں مجموعی طور پر 25 ملزمان نامزد کیے گئے تھے، جن میں سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اب تمام ملزمان بری ہو چکے ہیں۔