خیبرپختونخوا کی خواتین صحافی کس حال میں ہیں؟

رفاقت اللہ رزڑوال

ہر سال دنیا بھر میں 3 مئی کو صحافت کی آزادی کے عالمی دن کے طور پر منائی جاتی ہے جس کا مقصد میڈیا اور میڈیا کارکنان کی تحفظ اور صحافت میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو یاد کرنا ہے۔

ایک طرف اگر صحافتی تنظیمیں پاکستان کو صحافت کیلئے خطرناک ملک قرار دے رہے ہیں اور اپنی رپورٹس میں زیادہ تر واقعات میں مردوں کا ذکر کرتے ہیں تو دوسری طرف خواتین صحافی بھی مشکل حالات میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چند سالوں سے صحافتی میدان میں سنسرشپ، دھمکیوں، آن لائن ہراسمنٹ اور زندگی کو دریپش خطرات جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے صوبے میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے بیوروچیف فرزانہ علی نے کہا کہ حکومتی اور اداروں کی غیراعلانیہ اور اعلانیہ احکامات کو دیکھ کر مجھے نہیں لگ رہا ہے ہم صحافت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر نظر رکھنے والا ادارہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی طرف سے ہر روز نئے اعلامئے جاری ہوتے ہیں اور واضح طور پر حکم ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

فرزانہ کہتی ہے کہ حالیہ دنوں میں پیمرا کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری ہوا جس میں وفاقی کابینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکم ہوا تھا ‘میڈیا ذرائع سے خبریں نہ چلائیں’، فرزانہ کے مطابق ہر صحافی کے باوثوق ذرائعے ہوتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر وہ عوام تک خبریں پہنچاتے ہیں۔

"اگر اسی طرح قدغنیں لگنا شروع ہوگئے تو وہ وقت دور نہیں جو ہم اس بنیادی حق سے محروم رہ جائیں گے”۔

فرزانہ علی نے کہا اگر حکومت صحافیوں کے ذرائعوں سے خبروں پر پابندی لگائیں تو ہمارے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہی خبر متعلقہ وزارت یا حکام سے کنفرم کرے لیکن بدقسمتی سے حکومتی وزرا اور حکام بھی معلومات پر موقف دینے سے گریز کرتے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشیر اطلاعات سے جب بھی رابطہ کیا جائے، ‘یا تو وہ کچھ گنے چُنے سوالات کا جوابات دیتے ہیں یا وہ فون تک بھی نہیں اُٹھاتے’۔

فرزانہ نے قبائلی اضلاع کی ترقیاتی کاموں پر رپورٹنگ کے حوالے سے کہا کہ جب بھی حکومت سے سابق فاٹا میں آباد کاری اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے تو کوئی بھی جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا اگر کوئی جواب دینا بھی چاہئے تو انہیں موضوع پر معلومات نہیں ہوتی۔

"اب ان سارے صورتحال میں جرنلزم کیسے کریںگے؟ جرنلزم ہم نہیں کر پا رہے اور جب ہم جرنلزم کرتے ہیں تو ہمیں سخت نتائج بھگتنے پڑتے ہیں”، فرزانہ نے کہا۔

پشاور میں مقیم بین الاقوامی ریڈیو وائس آف امریکہ کی نمائندہ سعدیہ قاسم شاہ کا کہنا ہے کہ یہاں پر خواتین رپورٹرز کو ہراساں کرنا، ڈرانا دھمکانا حتی کے انہیں ریپ کے دھمکیاں دی جاتی ہے۔

سعدیہ قاسم نے کہا پاکستان میں صحافیوں کو غیر محفوظ اسلئے ہیں کہ میڈیا ادارے انکی سپورٹ نہیں کرتے اور نہ انہیں زندگی کا تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر صحافی اس لئے مسائل کا شکار رہتے ہیں کہ وہ اصولوں کے مطابق صحافت نہیں کرتے اور اسکی بڑی وجہ ان تعلیم اور صحافتی تربیت ہے۔

"اکثر غیرپیشہ ور صحافی اپنی سوچ، جذبات او احساسات سیمت اپنی خبر کا حصہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرتے ہیں”۔

سعدیہ قاسم شاہ کہتی ہے کہ صحافت ایک مشکل پیشہ ہے، ہر صحافی کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرنا چاہئے یہ نہیں ہوسکتا کہ بغیر کسی تعلیم و تربیت کے مائیک اور قلم پکڑنے سے معاشرے کی بھلائی کا سبب بنے گا۔

اگست 2020 میں پاکستان کے 16 خواتین اینکرز، صحافیوں ، تجزیہ کاروں اور ڈیجیٹل میڈیا پر فعال خواتین نے الزام لگایا تھا کہ حکومت میں بیٹھے کچھ شخصیات اپنے کارکنوں کے ذریعے انہیں ہراساں اور ریپ کی دھمکیاں دے رہے ہیں جنہوں نے ایک خط کے ذریعے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں روکا جائے اور دھمکیوں کی ماحول کو ختم کیا جائے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button