کیا پشتونوں کو پی ایس ایل سے مزے لینے کا حق نہیں؟

 

خالدہ نیاز

پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کے شروع ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں۔ پی ایس ایل کے قریب آتے ہی کرکٹ شائقین بھی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں اور آن لائن ٹکٹوں کی فروخت بھی جاری ہے لیکن پشاور کے شائقین ایک بار پھر مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ ان کو انتظار تھا کہ اس بار پشاور میں بھی میچز ہونگے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے چند دن قبل کہا تھا کہ پی ایس ایل کے میچز پشاور میں کرانے کے لیے تیاریاں جاری ہے تاہم اب پی ایس ایل سیزن سکس کا شیڈول منظر عام پرآچکا ہے جس کے تحت تمام میچز صرف کراچی اور لاہور میں منعقد ہونگے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا اسفندیار خٹک نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس بار میچز کا انعقاد صرف کراچی اور لاہور میں کیا جائے گا کیونکہ وہاں پر کورونا وائرس سے بچاو کے لیے سہولیات موجود ہے جبکہ باقی جگہوں پرنہیں ہے، اس بار نہ تو راولپنڈی میں میچز ہونگے اور نہ ہی ملتان میں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار چونکہ پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور پی ایس ایل میچز کے لیے انٹرنیشنل کھلاڑی بھی آئیں گے تو وجہ سے پی ایس ایل کے چھٹے سیزن میں صرف لاہور کے قذافی سٹیڈیئم اور نیشنل سٹیڈیئم کراچی میں میچز ہونگے۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں انٹرنیشنل لیول کے دو کرکٹ گراؤنڈز موجود ہیں، ایک حیات آباد سپورٹس کمپلکس اور دوسرا ارباب نیاز سٹیڈیئم جن پر تیزی سے کام جاری ہے اور اگلے سال یہاں پشاور میں بھی پی ایس ایل میچز منعقد ہونگے۔ ڈی جی سپورٹس نے بتایا کہ اس نومبر دسمبر تک دونوں کرکٹ سٹڈیئم مکمل طور پرتیار ہونگے جس کے بعد پشاور میں نہ صرف پی ایس ایل کے میچز ہونگے بلکہ پی سی بی نے انکو یقین دہانی کروائی ہے کہ یہاں اور بھی انٹرنیشنل میچز ہونگے۔

پی ایس ایل سکس 20 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور اس کا افتتاح میچ کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے مابین کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کورونا وائرس کے باعث اس سال 20 فیصد تماشائیوں کو گراؤنڈ میں جا کر میچز دیکھنے کی اجازت دی ہے،  نیشنل سٹیڈیم کراچی میں 34 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے لیکن کورونا کی وجہ سے صرف ساڑھے 7 ہزار افراد کو اجازت دی گئی ہے۔

ڈی جی سپورٹس کا کہنا ہے کہ پشاور کے لوگ کرکٹ سے بہت لگاو رکھتے ہیں اورمیچز دیکھنے کے لیے گراؤنڈز کا رخ بھی کرتے ہیں تو پی سی بی چاہے گا یہاں میچز کا انعقاد کروائے۔

پاکستان سپرلیگ کا پہلا ایڈیشن 2016 میں منعقد ہوا تھا، اس لیگ کا مقصد بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کرنا اور پاکستان میں ٹی ٹونٹی کرکٹ کو فروغ دینا ہے۔ پی ایس ایل کی کامیابی کے بعد اب ہرسال باقاعدگی سے اس کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

سینیئر صحافی اور پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر امجد عزیز ملک نے بتایا کہ پی ایس ایل ہو یا کرکٹ کے باقی انٹرنیشنل میچز ہو وہ پاکستان کے سب علاقوں میں ہونے چاہیئے کیونکہ پاکستان کے تمام علاقوں کے لوگ کرکٹ کے شوقین ہیں اور چاہتے ہیں کہ انکے اپنے علاقے میں بھی میچز ہو اور وہ اس سے لطف اندوز ہوسکیں۔

پشاور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں پر ارباب نیاز سٹیڈیئم 1984 میں بناہے جس کے بعد اس پر میچز ہوتے رہے گزشتہ کچھ عرصہ سے یہاں انٹرنیشنل میچز نہیں ہورہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ کے انٹرنیشنل ادارے آئی سی سی نے کہا تھا کہ ارباب نیاز سٹیڈیئم عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے جس کے بعد صوبائی حکومت نے اس سٹیڈیئم کی تزیئن و آرائش اور توسیع پہ کام شروع کردیا ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے امجد عزیز ملک نے کہا کہ ارباب نیاز کرکٹ سٹییڈئم پر کام جاری ہے اور وہ ابھی مکمل نہیں ہوا تو اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ حیات آباد سپورٹس کمپلکس میں میچز کروائے جائے لیکن اس کا معیار بھی ایسا نہیں ہے جہاں انٹرنیشنل میچز کرواسکیں۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ سٹیڈیئم پر کام کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا یہ چند دنوں کا کام نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ ‘ چند وزراء نے کہا تھا کہ پی ایس ایل سکس کے میچز پشاور میں ہوسکتے ہیں لیکن ہم نے پانچ، چھ مہینے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہاں پر میچز فی الحال نہیں ہوسکتے کیونکہ گراونڈز اتنی جلدی تیارنہیں ہوسکتے البتہ ممکن ہے کہ پی ایس ایل سیون میں قوی امکان ہے کہ میچز کا انعقاد پشاور میں ہوسکیں’ امجد عزیز ملک نے بتایا۔

حکام کے مطابق ارباب نیازسٹیڈیم میں ایک اعشاریہ سات ارب روپے کی لاگت سے مختلف ترقیاتی کام جاری ہیں جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ سٹڈیئم میں پہلے 14 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اب 35 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی، سٹیڈیم میں پہلی بار فلڈ لائٹس بھی لگائیں جائیں گے، منصوبے میں ہوٹل بلاکس پر 179 ملین کے اخراجات آئیں گے جبکہ پویلین بنانے پر 114 ملین اور الیکٹرانک بورڈ بنانے پر 90 ملین خرچ کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حیات آباد سپورٹس کمپلکس میں بھی ایک کرکٹ سٹیڈیم بنانے کی تجویز دی گئی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس کی دوبارہ تعمیر اور بحالی پر کام جاری ہے جس پر 50 کروڑ روپے خرچہ آئے گا، یہ سٹیڈیم صوبائی حکومت اپنے طور پر بنا رہی ہے۔

پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ پی ایس ایل کی ایک ٹیم پشاور زلمی کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے تو اس وجہ سے لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی ٹیم کو یہاں کھیلتا ہوا دیکھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوچکا ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہے کہ یہاں پر گراؤنڈز تیار نہیں ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ سہولیات فراہم کی جائے اور میچز کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔

ارباب نیاز سٹیڈیم پر 7 ٹیسٹ اور 17 کے قریب ایک روزہ میچ ہو چکے ہیں، اس پر آخری ایک روزہ میچ 2006 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا تھا جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔

‘ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں ایک ہزار گراونڈز بنارہی ہے لیکن اس کا اتنا فائدہ نہیں ہوگا، کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، مزید سٹیڈیم بننے چاہیئے اور کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے سپورٹس یونیورسٹی بنانا وقت کی ضرورت ہے’ امجد عزیز ملک نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے دس پندرہ سال کافی مشکلات حالات دیکھے ہیں پر اب امن قائم ہوچکا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے یہاں زیادہ سے زیادہ کھیلوں کی سرگرمیاں ہو چاہے وہ پی ایس ایل ہو یا باقی انٹرنیشنل ایونٹ ہو۔

 

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button