خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

‘کسی نے بتایا کہ تمہاری بیٹی پر جنات کا سایہ ہے تو میں نے اس پر بھی یقین کرلیا’

 

ثنا گل
23 سالہ یاسمین بی بی اپنے گھر کے اندر بچوں کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مصروف ہیں اور سامنے چارپائی پر موجود ان کی ماں اور بڑی بہن ان کو دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔ ماں اور بہن کے اطمینان اور خوشی کی وجہ یہ ہے کہ ڈھائی سال ذہنی و نفسیاتی بیماری کے بعد یاسمین اب معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئی ہیں۔
یاسمین کی اپنے والد کے ساتھ بہت دوستی تھی اور ڈھائی سال پہلے ان کے والد کے اچانک انتقال سے جیسے یاسمین کی دنیا ہی الٹ گئی۔
‘گہرے صدمے میں یاسمین نے عجیب و غریب حرکتیں شروع کردیں، کبھی گھر کے لوگوں سے معمولی معمولی باتوں پر لڑنا جھگڑنا، بات بات پر روٹھنا، چیخیں مارنا، کھانا نہ کھانا اور کئی کئی دنوں تک روٹھے رہنا ان کا معمول بن گیا’ یاسمین کی ماں نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے بتایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند مہینوں تک حالات تو ایسے ہی چلتے رہے لیکن جب ان کی بیٹی کی حالت سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑنے لگی تو دم درود کے لئے انہیں عاملوں اور مولویوں کے پاس لے جانے لگے۔ پھر بھی کوئی افاقہ نہیں ہوا تو آخر کا ہم یاسمین کو ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور تب ہی ان کی حالت تھوڑی سنبھل گئی۔
یاسمین کی ذہنی بیماری نے نہ صرف اس کو متاثر کیا تھا بلکہ یہ معاملہ ان کے پورے خاندان کیلئے درد سر تھا۔ ان کی ماں کے مطابق لوگوں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ یہ جنات وغیرہ کے اثرات ہے اس لڑکی کو دم اور تغویزات کیلئے کسی عامل کے پاس لے چلو اور ہم اس بات پر یقین کرلیا لیکن نتیجہ کوئی نہیں نکلا وہی رونا پیٹنا۔

یہ بھی پڑھیں: "میں پاگل نہیں نفسیاتی مریضہ ہوں”

ایک تحقیق کے مطابق خیبر پختونخوا میں 46 فیصد خواتین مختلف قسم کے مسائل کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔ ذہنی امراض کے ماہرین کے مطابق اس طرح کی خواتین کا وقت پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
کلینکل سایکالوجسٹ خولہ اسماعیل بتاتی ہے کے آج کل خواتین میں ذہنی امراض کی شرح بہت بڑھ گئی ہے لیکن عام عوام  میں اس حوالے سے شعور نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ خواتین کو پختون معاشرے میں توجہ بھی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے اور ذہنی امراض کے شکار ہو جاتی ہے۔
”جب زندگی میں ذہنی دباؤ آ جاتا ہے اور اس فرد میں اس حالت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی تو دماغ پر بوجھ بڑھ جاتا ہے جس سے مختلف قسم کی ذہنی بیماریاں بن جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑجہ یہ بھی ہے ذہنی بیماریوں کے حوالے سے ہمارے عوام میں شعور نہیں ہے ان سب ذہنی بیماریوں کا علاج موجود ہے اگر وقت پر ڈاکٹر کے پاس مریض کو لے جائے” خولہ اسماعیل نے بتایا۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے جب ہمارے معاشرے میں کوئی بندہ ذہنی امراض کے ڈاکٹر پاس چلا جائے تو لوگ طرح طرح کی غلط باتیں ان کے بارے میں شروع کرتے ہیں کے یہ بندہ تو پاگل ہو گیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کوئی اپنی گھر کی خواتین کو ذہنی امراض کے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاتے کیونکہ پھر ان کے رشتہ نہیں آئے گا۔
خولہ اسماعیل اور ان کی طرح ذہنی امراض کے ماہرین بتاتے ہیں کے ذہنی مراض کے مریضوں کے لئے قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر الہی اچھی بات ہے، لیکن بعض اوقات یہ مریض جعلی پیرو کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جس کی وجہ پیسے کا بھی ضیاع ہوتا ہے اور ذہنی صحت کا بھی۔

مزید: خیبر پختونخوا، ذہنی مریضوں کے علاج کیلئے صرف 25 کروڑ روپے مختص

یاسمین کی خوش قسمتی تھی کے وقت پر ان کے گھر والوں کو مرض کا پتہ چل گیا اور اس کا علاج ہوا، یاسمین بتاتی ہے کے خواتین مردوں کے نسبت آسانی سے ذہنی امراض کا شکار ہوتی ہیں اس لئے خواتین کو زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔
”میرا سب کو مشورہ ہے کہ اپنے گھر کی خواتین کو خصوصی توجہ دیا کریں اور اگر ان کو کوئی ذہنی مسائل ہو تو وقت پر مستند ڈاکٹر کے پاس ان کو لے جائے کیونکہ یہ مسائل دم درود سے حل نہیں ہوتے ان کا حل ڈاکٹر سے بروقت علاج ہے۔
یاسمین آگے بتاتی ہیں کہ ایک خاتون کا ذہنی طور پر صحت مند ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ پورے کنبے کو سنبھالتی ہے اگر وہ بیمار ہوجائے تو گھر کا سارا نظام مسائل کا شکار ہو جاتا ہے”۔
اگر نفساتی امراض کی شکار خواتین کا وقت پر علاج کیا جائے تو وہ بھی یاسمین کی طرح ذہنی امراض سے چھٹکارا پا سکتی ہیں اور اپنے گھر کے کام کاج احسن طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button