خیبر پختونخوا

بنوں، ممند خیل قبائل نے ہیڈ ورکس اور باران ڈیم بند کرنے کی دھمکی دیدی

ممندخیل قبائل کے مشران اور آل ایمپلائز ایرگیشن کلاس فور مروت کینال ہیڈ ورکس نے پانچ نومبر تک مختص سیٹوں پر قوم کے افراد کو بھرتی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، مطالبات پوری نہ ہونے کی صورت میں ہیڈ ورکس اور باران ڈیم رائزنگ منصوبے پر زبردستی کام بند کرنے کی دھمکی دیدی۔

گزشتہ روز  آل ایمپلائز ایرگیشن کلاس فور مروت کینال ہیڈ ورکس یونین بنوں ڈویژن کا ایک اجلاس زیر صدارت سرپرست اعلیٰ ملک شیر غلی خان بمقام کرم گڑھی ممندخیل منعقد ہوا جس میں ممندخیل قبیلے کے مشران اور ملازمین نے شرکت کی۔

اس موقع پر سرپرست اعلیٰ ملک شیر غلی خان، ہیڈ ورکس کے صدر خان بہادر خان، جنرل سیکرٹری دریاب خان، حاجی مشکلام خان، ملک اقبال خان، ملک ظریف خان، ملک عمر قیاز خان، حاجی کالو خان، حاجی گل باز خان اور دیگر نے کہا کہ ہیڈ ورکس اور باران ڈیم کی تعمیر کے دوران ممند خیل قبائل کی ہزاروں ایکڑ اراضی اس منصوبے میں چلی گئی اور 1952 میں دو شرائط پر معاہدہ طے ہوا کہ یہاں پر کلاس فور کی ملازمت ممند خیل قبیلے کے فرد کو ملے گی اور یہاں کے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے بھی ہمارے قوم کے گورنمنٹ کنٹریکٹر کو دیئے جائیں گے جس پر آج تک صحیح طریقے سے عملدرآمد ہوتا آ رہا ہے لیکن اب متعلقہ حکام طریقہ کار کو بدلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ حکام قبائلی روایات کو نہیں جانتے، یہ ہماری نیکات کی نوکریاں ہیں جن پر ہم کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے، اب لیبارٹری اٹینڈنٹس اور موٹر لانچ ڈرائیور کی آسامیاں آئی ہیں جن پر قوم کے افراد کو بھرتی کرنے میں متعلقہ حکام تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں جبکہ چار سال سے ملازمت کرنے والے لطیف اللہ کی اچانک گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ بند کی گئی ہے جس میں قانونی پیچیدگیاں پیدا کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ہیڈ ورکس اور باران ڈیم سے بنوں، لکی مروت بیٹنی کے عوام اور زمینیں آباد ہیں اور یہاں سے ممندخیل کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیا جاتا، ایسے میں کلاس فور اور دیگر آسامیوں پر قوم کے حق پر ڈاکہ ڈالنا انتہائی ظلم و زیادتی کے مترادف ہے جو ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے، اب باران ڈیم رائزنگ منصوبے سے ممندخیل قبیلے کی مزید تقریباً 8 ہزار کنال زمین شامل ہو گئی ہے لہذا تمام سابقہ اور موجودہ آسامیوں پر بھرتیاں معاہدے کے مطابق کی جائیں اور محکمہ ایرگیشن بھی واپڈا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی طرح معاہدہ کرے بصورت دیگر ممندخیل قبائل اور ملازمین ہیڈ ورکس اور باران ڈیم بند کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button