5 کروڑ کی رقم کیسے تقسیم کی جائے؟ خیبرپختونخوا بار کونسل سر جوڑ کر بیٹھ گئی

 

ناہید جہانگیر

خیبرپختونخوا کے وکلاء کو صوبائی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی مد میں جاری کیا گیا فنڈ اندرونی نا اتفاقی کے باعث تاحال استعمال نہ ہوسکا۔

کورونا وائرس اور پھر لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں اور شعبے متاثر ہوئے وہاں عدلیہ سے وابستہ لوگ بھی کافی حد تک متاثر ہوئے جس پر پشاور ہائی کورٹ میں متاثرہ وکلا نے حکومت سے ریلیف دینے کے لئے ایک رٹ جمع جس پر صوبائی حکومت نے ان کے لئے 5 کروڑ روپے کا خصوصی گرانٹ منظور کرلیا۔

صوبائی حکومت نے تمام قانونی کاروائیوں کی تکمیل کے بعد فنڈ جون کے مہینے میں ہی  خیبر پختونخوا بار کونسل کو حوالہ کردیا لیکن اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے تاحال تقسیم نہ ہوسکا۔

اس حوالے سے خیبرپختونخوا بار کونسل کے نائب چئیرمین شاہد رضا ملک کہتے ہیں کہ رقوم کی تقسیم کا سلسلہ شروع نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ رقم انتہائی کم ہے اور اگر تمام وکلا میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے تو چند ہزار روپوں سے زیادہ کسی کو نہیں مل سکے گی۔

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں تقریباؑ 18 ہزار تک وکلاء ہیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث تمام متاثر ہوچکے ہیں کیونکہ عدالتیں اور کچہریاں بند پڑی تھی۔ حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی کے بعد اس کے تقسیم کے طریقہ کار کے لئے قائم کی گئی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ان 5 کروڑ کے ساتھ صوبے میں 5 ہائی کورٹس سے بھی 25، 25 لاکھ روپے اس فنڈ میں جمع کریں گے جبکہ اس کے علاوہ تمام 60 ضلعی بار ایسوسی ایشنز بھی اپنے ساتھ رجسٹرڈ وکلاء کے تعداد کے مطابق اس فنڈ میں حصہ ڈالیں گے۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا بار کونسل نے بھی اس ضمن میں اپنی طرف سے ایک کروڑ روپے کی رقم فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔

وائس چئیرمین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رقم تو اکاؤنٹ میں آگئی ہیں لیکن بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا اگر بار ایسوسی ایشنز اس فارمولے کے ساتھ متفق ہوگئے تو یہ وکلاء کا کورونا فنڈ 8 کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ دو حصوں میں تقسیم ہوگا، ایک کروڑ روپے ان وکلاء میں براہ راست تقسیم کئے جائیں گے جو کہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے، ان میں گھر پر کورونا گزارنے والے وکیل کو 30 ہزار، ہسپتال میں علاج کرنے والے کو 60 ہزار جبکہ وینٹی لیٹر تک پہنچنے والے کو 1 لاکھ روپے دئے جائیں گے۔ خدا نہ خواستہ اس وائرس سے کسی وکیل کی موت ہوجائے تو ان کے لئے بار کونسل کے علاوہ حکومت سے بھی الگ پیکج لینے کی تگ و دو کی جائے گی۔
فنڈ کا باقی حصہ ان تمام وکلاء میں تقسیم ہوگا جو کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تین مہینوں تک گھروں پر بیٹھ گئے تھے۔

ایڈوکیٹ شاہد رضا نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک وہ اپنے اثر رسوخ سے پشاور میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 30 وکلاء میں فی وکیل ایک لاکھ روپے تقسیم کرچکے ہیں اور انہیں مزید 25 وکلاء کی درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب ہائی کورٹ کے وکیل طارق افغان نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ فی الحال رقم کی تقسیم کا طریقہ طے ہی نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وکلاء اور قائم کردہ کمیٹی کے درمیان کئی اراء سامنے آئی ہیں لیکن ابھی تک ایک پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔

جن اراء پر زیادہ غور و حوض کیا جا رہا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ تمام وکلاء میں برابری کی بنیاد پر رقم کی تقسیم کی بجائے صرف ان وکلاء کے ساتھ مالی اعانت کی جائے جن کی مالی حالت زیادہ خراب ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان پیسوں کو کسی ایسے فلاحی کام میں خرچ کیا جائے جس سے تمام وکلاء کو فائدہ ہو، مثال کے طور پر اس سے ایک سکول بنایا جائے جس میں وکلاء کے بچے مفت تعلیم حاصل کرسکے۔

خیال رہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا بار کونسل کی صدارت و دیگر اہم عہدے ملگری وکیلان فورم کے ہاتھوں میں ہیں لیکن رقم کی تقسیم کے لئے قائم کمیٹی عہدیداران کے ساتھ ساتھ مخالف گروپوں سے بھی آرا لیتی ہیں۔

مخالف گروپ تحریک انصاف وکلا فورم کے ایڈوکیٹ عالم خان نے اس حوالے سے بتایا کہ اس معاملے میں اور بھی کئی پیچیدگیاں ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ رقم وکلاء میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب اگر اس سے سکول یا ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا جائے تو اس کے لئے دوبارہ عدالت جانا ہوگا اور وہاں سے منظوری لینی ہوگی کیونکہ ایسا کئے بغیر یہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے رقم کی تقسیم کے حوالے سے جو فیصلہ کیا تھا اس کے مطابق جن وکلاء کا 3 سے 15 سال کا تجربہ ہو انہیں فی وکیل 30 ہزار روپے دئے جائے جبکہ اس کے علاوہ اس فنڈ کا 10 فیصد منشیوں میں تقسیم کا جائے۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close