خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

ہراسانی کیا ہے اور کونسی چیزیں اس کے زمرے میں آتی ہیں؟

 

خالدہ نیاز

خیبرپختونخوا میں کام کی جگہوں پر خواتین کے ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون تو موجود ہے تاہم کام کرنے والی زیادہ تر خواتین اس قانون سے بے خبردکھائی دیتی ہیں۔

کام کی جگہوں پر خواتین کی ہراسگی کی روک تھام کے لیے قانون 2010 سے نافذ ہے جس کے مطابق ہررجسٹرڈ ادارہ چاہے سرکاری ہے یا نجی وہاں پرایک خاتون سمیت کم از کم تین لوگوں کی ایک کمیٹی بنانا ضروری ہے جو جنسی ہراسانی کے کیسز کو سنیں گی اور انکوائری کرے گی۔ اس کے علاوہ ہر ادارے کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارے کے ہر فرد کو اس حوالے سے آگاہی دے گی تاہم کئی ادارے ایسے ہیں جہاں اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔

ان اداروں میں کائنات کا سکول بھی شامل ہے۔ کائنات پچھلے 4 سال سے پشاور کے ایک نجی سکول میں بچوں کو پڑھا رہی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے سکول سمیت کئی تعلیمی اداروں میں ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون کے تحت کوئی کمیٹی نہیں بنی ہوئی اور نہ ہی استانیاں اس بارے میں اتنا جانتی ہیں کہ وہ کمیٹی بنانے کے لیے سکول انتظامیہ سے مطالبہ کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا لیکن حکومت کو چاہیئے کہ اس قانون کے حوالے سے کام کرنے والی خواتین میں شعور اجاگر کریں کیونکہ آج کل ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ آئے روز کوئی نہ کوئی ہراسانی کا شکار ہوتا ہے۔

قانون کے تحت جنسی ہراسانی کے حوالے سے بننے والی انکوائری کمیٹی 30 دن میں تحقیقات کرے گی اور جو بھی فیصلہ ہوگا 7 دن میں اس پر عمل درآمد ہوگا لیکن پشاور میں ایک این جی او میں کام کرنے والی ندا کا کہنا ہے وہ اس قانون کے حوالے سے جانتی ہے تاہم ان کے دفترمیں اس حوالے سے کوئی کمیٹی موجود نہیں ہے لیکن ایسی کمیٹیاں دفاتر اور باقی کام کرنے والی جگہوں میں ضرور بننی چاہیئے۔

ایک سوال کے جواب میں ندا نے ٹی این این کو بتایا ‘ کئی اداروں میں کمیٹیاں بھی بنی ہوئی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے پہلے خواتین اس بات کو جان لے کہ ہراسمنٹ یا حراسانی کہتے کسے ہے اور کون کون سی چیزیں اس کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی کسی خاتون کو جسمانی طور پرہراساں کرے بلکہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زیادہ کام کا دباؤ ڈال کر بھی کسی کو ہراساں کیا جا سکتا ہے’

کون کون سی چیزیں جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتی ہے اس حوالے صوبائی محتسب رخشندا ناز نے کہا کہ کام کرنے والی جگہوں پرکسی بھی قسم کا نامناسب ایکشن، پورنو گرافک میٹریل تصاویر وغیرہ شیئر کرنا، کام کرنے والی جگہوں پرنامناسب الفاظ کہنا، خواتین کے سامنے نامناسب لطیفے کرنا وغیرہ بھی اس میں شامل ہے اور اس کے خلاف بھی ایک خاتون رپورٹ کرسکتی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی سے ذاتی سوالات کرنا، خواتین جس جگہ سے گزر رہی ہو اس جگہ پر اپنے جسم کے ساتھ غلط حرکات کرنا، بار بار کسی کو چائے یا کھانے کی دعوت دینا، زبردستی کسی کو تحفے دینا، کسی سے بات کرتے ہوئے بہت قریب ہوجانا، گڈمارننگ اور گڈ نائٹ کے میسجز بھیجنا، جنسی تعلق کی درخواست کرنا اور یہاں تک کہ اچھی کارکردگی کے باوجود حوصلہ شکنی کرنا یہ بھی حراسانی کے زمرے میں آتا ہے اور اگر کسی خاتون کے ساتھ ایسا ہو تو وہ کمیٹی کو اس حوالے سے درخواست دے سکتی ہے۔

رخشندا ناز کے مطابق کام میں خلل ڈالنا، دباو ڈالنا، دل شکن کام کرنے کی جگہ ہو یا کسی کو یہ کہنا کہ اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو نوکری سے نکال دیا جائے گا، ٹریننگ کو روک لینا بھی ہراسانی کی قسموں میں سے ایک ہے۔

لیکن ندا کا کہنا ہے کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قانون پرعمل درآمد کیا جائے کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض خواتین روزانہ کی بنیاد پر ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں،  کبھی ان پر کام کا زیادہ دباو ڈالا جاتا ہے تو کبھی کس طریقے سے وہ ہراساں کی جاتی ہے لیکن وہ ان کیسز کو رپورٹ نہیں کرپاتی کیونکہ ایسا کرنے سے نوکری جانے کا خطرہ ہوتا ہے بے روزگاری بھی بہت بڑھ گئی ہے تو پہلے تو خواتین کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگر خدانخواستہ ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے تو وہ اس کو رپورٹ کریں اور پھر اس قانون کے تحت ان کو انصاف بھی مل سکیں۔

خیبرپختونخوا کی صوبائی محتسب رخشندا ناز نے ٹی این این کو بتایا کہ اس حوالے سے اب خواتین آواز اٹھا رہی ہے اور ابھی تک ان کے پاس ہراسانی کے 69 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے دو کیسز واپس لے لیے گئے جبکہ دو کو معطل کیا گیا ہے اور 6 کیسز کا فیصلہ ہوچکاہے۔

صوبائی محتسب نے ندا کے کائنات کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں کمیٹیاں بن رہی ہیں اور وہ کمیٹیوں کو باقاعدہ تربیت بھی دیتی ہے، انہوں نے کہا کہ سات اضلاع کے 110 کمیٹیوں کو نامزد کیا ہے اور تربیت کے دو راؤنڈ مکمل ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ سٹاف اور وسائل کی کمی کے باوجود اس حوالے سے خواتین کو آگاہی دینے کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے۔

قانون کیسے بنا؟

عورتوں کو کام کی جگہوں پرہراساں کیے جانے کے خلاف قانون 2010 کچھ خواتین کی 10 سال تک انتھک محنت کے بعد نافذ کیا گیا۔ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون بنانے اور اس پرعمل درآمد کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم مہرگڑھ کی سربراہ ملیحہ حسین نے بتایا ‘ ہم اس قانون پر 2000 سے کام کررہے ہیں پہلے دس سال اس قانون کو بنانے میں لگے جس کے بعد 2010 میں اس قانون کو پورے ملک میں نافذ کردیا گیا اور اس کے بعد ہم اس قانون پر پورے ملک میں عمل درآمد کے حوالے سے کام کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اس حوالے سے شعور کا کام بھی 20 سال پہلے سے ہی شروع ہوا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ 20 سال سے پہلے کوئی جنسی ہراسانی کا لفظ بھی استعمال نہیں کرسکتا تھا لیکن آج جنسی ہراسانی سے متعلق ایک خبر ضرور ملتی ہے روزانہ کی بنیاد پر۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے مہرگڑھ نے حکومت اور پارلیمنٹ کے ساتھ مل کراس قانون کو بنانے میں بہت کام کیا ہے۔ کام کرنے والی خواتین کو اس قانون کے حوالے کتنی آگاہی ہے اس حوالے سے ملیحہ حسین نے کہا کہ اداروں کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قسم کے قوانین سے خود کو آگاہ رکھیں کیونکہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر کوئی سوشل میڈیا کو وقت دیتا ہے تو ایسے میں اگر کوئی بندہ 10 منٹ بھی ایسی معلومات کو دیں تو کوئی نہیں کہے گا کہ اس حوالے سے شعور نہیں ہے۔

 

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button