چاند رات اور ”کٹا میر”، آفریدی قبائل کی ایک تاریخی اور منفرد روایت

سی جے شمائلہ آفریدی

دنیا کی دیگر اقوام کی طرح پشتونوں کی ہر قوم و قبیلے کی تاریخی اعتبار سے اپنی الگ ثقافت، روایات اور رسوم و رواج ہیں۔ پشتونوں کے ہر قبیلے کی ثقافت، رسم و رواج اور روایات سے محبت اور بھائی چارے کا مظہر ہوتی ہیں۔ پشتون تاریخی طور پر مہمان نواز، ذہنی تعلیم یافتہ اور ہر درو میں شاندار تاریخی کردار کے حامل رہے ہیں۔

سابقہ فاٹا میں مختلف پشتون قومیں آباد ہیں مگر ان سب کے رسم و رواج اور ثقافت بھی الگ حیثیت اور منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ اسی طرح آفریدی قبائل کی اپنی مگر الگ تھلگ تاریخی ثقافت ہے جو مختلف تہواروں کو اپنے انداز سے منانے کی روایت قائم رکھے ہوئے ہیں۔

آفریدی قبائل کی تاریخی اور منفرد انداز میں سے ایک ”کٹا میر” بھی ہے جس  کا چاند رات خصوصاً عید الفطر کے موقع پر مظاہرہ کیا جاتا تھا۔

چاند رات کو آفریدی قبائل کے نوجوان اور بچے میدانوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چھوٹا سا گھڑا کھود کر چاروں طرف پھتر کی چھوٹی سے دیوار بنا کر سوکھی لکڑیوں کا ایک لبما ڈھیر بناتے اور پھر اسے آگ لگاتے ہیں، بہ الفاظ دیگر پہاڑوں کی چوٹی پر ایک الاؤ روشن کیا جاتا تھا جس سے ساری وادی یا علاقہ منور ہو جاتا تھا۔

یہ ایک طرح سے طبع تفریح کا ایک ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ عید یا چاند کے نظر آنے کا اعلان بھی ہوتا تھا، ساتھ میں موسیقی ”رباب منگی“ کا پروگرام بھی ہوتا تھا۔

عید الفطر اور عید الحضی کے موقع پر کئی روز پہلے سے ہی کٹا میر کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔ ہر گاٶں (خیل) کے بچوں اور نوجوانوں کی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ سوکھی لکڑیاں جمع کی جائیں تاکہ کافی لمبا اور بڑا کٹامیر بنایا جاسکے۔

اکثر گاٶں کے بچوں نوجوانوں میں بڑا کٹامیر بنانے کا مقابلہ ہوتا تھا، ہر ایک خیل کی کوشش ہوتی تھی ان کا کٹا میر بڑا ہو جسکی روشنی زیادہ اور دور دور تک دکھائی دے۔

چونکہ سابقہ فاٹا میں پہاڑوں کے بیچ گاٶں ہوتے ہیں، ہر خیل کے نوجوان آمنے سامنے پہاڑوں پر اپنا کٹا میر بناتے تھے جبکہ بچے بھی پیچھے نہیں رہت تھے اور وہ بھی اپنے گاٶں کے باہر میدان میں کٹامیر بنا کر اس مقابلے میں شریک ہوتے تھے۔

عید سے کئی روز پہلے گاٶں کے بچے آپس میں اپنے حصے کی لکڑیاں جمع کرتے تھے۔ اگر کوئی بچہ لکڑیاں لانے میں حصہ نہیں لیتا تھا تو اسے کٹا میر سے دور کھڑے ہونے کیلئے کہا جاتا تھا۔

اس موقع پر عید کی رات گاٶں کے لوگ کٹامیر جلانے کیلئے بہت پرجوش دکھائی دیتے تھے۔ گاٶں کے تمام لوگ جمع ہوتے تھے اور نعرے لگا کر عید کی خوشی میں شریک ہوتے تھے۔ چاروں طرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر کٹامیر کی روشنی دکھائی دیتی تھی اور گاٶں والے گھروں سے نکل کر یہ مناظر دیکھتے تھے۔

دہشتگری کی لہر نے سابقہ فاٹا کی پرامن زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ لوگ در بدر ہوئے، نقل مکانی کرکے ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے اور اس طرح امن کی فضاء خراب ہونے کے ساتھ ساتھ پشتون ثقافت کو بھی نقصان پہنچا۔

قبائل کے لوگوں کی سادہ زندگی تھی، لوگوں کے دلوں میں محبت تھی۔ اس طرح کی ثقافتی سرگرمیاں قبائل میں اتحاد محبت کو فروغ دیتی تھی۔

 

آج ٹیکنالوجی اور اس کے نتیجے میں بننے والے گلوبل ویلج کی وجہ سے ہم اپنی ثقافی ورثہ کھو رہے ہیں۔ اسی طرح آفریدی قبائل کی اس منفرد روایت کی تاریخی حثیثیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے، موبائل انٹرنیٹ نے لوگوں کو اپنے آپ تک محدود کر دیا ہے اور لوگوں کے دلوں سے محبت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ثقافت قوموں کی روح ہوتی ہے، یہ وہ ورثہ ہے جو ہمارے پاس ہمارے آباواجداد کی امانت ہے جسے ہم نے آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا ہے۔

آج بیرونی ثقافتوں کی یلغار سے اباو اجداد کی یہ امانت ہم کھو رہے ہیں۔ قوموں کی تباہی کی ایک اہم وجہ اپنی ثقافتی ورثے کو اہمیت نہ دینا بھی ہے۔ اگر ہم نے اپنی شناخت کو قائم رکھنا ہے تو ہمیں اپنی ثقافت، رسم و رواج، روایات اور علوم فنون کو بھی زندہ رکھنا ہو گا بصورت دیگر ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔!

Show More
Back to top button