جرائم

مردان میں توہین رسالت کے الزام میں قتل کیا گیا مولوی نگار عالم بے گناہ قرار

 

 عبدالستار

مردان کے علاقے ساولڈھیر میں توہین رسالت کے الزام میں قتل کئے گئے مولوی نگارعالم کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ علماء انکے خاندان اور ملزمان کے درمیان راضی نامہ کرلیا ہے اور کہا ہے کہ مولوی نگار عالم پر غلط الزام لگایا گیا تھا۔

جرگے نے مولوی نگار عالم کے بچوں کی کفالت کے لئے ملزمان سے 35 لاکھ روپے دیت کے طورپر بھی لئے۔

اس حوالے سے ساولڈھیر میں مقامی جرگہ ممبر ظہور داد نے بتایا کہ اس جرگے میں ساولڈھیر کے مقامی جرگہ مشران شامل تھے جس میں  علاقے کا قاضی مولانا ادریس، طفیل استاد، حاجی وکیل، محمد یاسر اور گل مست شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے علماء نے مولانا محمد ادریس کی سربراہی میں متفقہ فیصلہ دیا 8 مئی کو مولوی حافظ نگار عالم کے منہ سے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے میں غیرشرعی الفاظ نکلے تھے لیکن اس الفاظ پر نہ اسے گستاخ رسول ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نہ وہ قتل کرنے کا حقدار تھا۔ علماء نے کہا کہ اگر اس نے غیر شرعی الفاط ادا کئے تھے تو اسے قانون کے حوالے کرنا چائیے تھا لیکن اس کے خلاف اشتعال پیدا کرکے اسے قتل کیا گیا جو کہ ظلم اور زیادتی ہوئی ہے اورمولوی حافظ نگار عالم کا قتل ناحق ہوا ہے۔

جرگہ ممبر ظہورداد نے بتایا کہ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل کئے گئے نگار عالم کے خاندان نے جرگے کو بتایا کہ اگر ہمارا بھائی واقعی گستاخ ثابت ہوا تو ہم اپنے خاندان کی جانب سے ملوث لوگوں کو ہار پہنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولوی نگار عالم بے گناہ تھے اور علماء کی نگرانی میں تحقیق کرکے فیصلہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے علماء کا متفقہ فیصلے آنے کے بعد نگار عالم کے خاندان والے راضی ہوگئے اور ملزمان کو معاف کردیا۔

جرگہ ممبر نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے ساولٖڈھیر سے تعلق رکھنے والے 104 افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے جس کچھ نے بی بی اے حاصل کئے تھے جبکہ کچھ افراد جیل میں ہیں۔ جرگے نے فیصلہ کیا کہ مرحوم مولوی نگار عالم کے بچوں کی کفالت کے لئے ملزمان  45 لاکھ روپے دیت میں دینگے جس میں مرحوم کے خاندان والوں نے دس لاکھ روپے جرگے کو واپس کرکے 35 لاکھ روپے رکھ لئے۔

ساولڈھیر کے ایک سماجی کارکن بشارت علی نے بتایا کہ جرگہ ساولڈھیر کے ایک جامع مسجد برہ جومات میں منعقد کیا تھا جس میں چارسو تک افراد نے شرکت کی تھی۔

اس موقع پر علاقے کے قاضی مولانا ادریس نے بتایا کہ علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مولوی نگار عالم کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور وہ ادا کئے گئے الفاظ پر قتل کے مستحق نہیں تھے۔  متاثرہ خاندان کے افراد اور مقدمے میں نامزد افراد کے درمیان قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر ایک دوسرے کو معاف کردیا۔

جرگے نے فیصلہ کیا کہ علاقے کے عوام آئندہ اس قسم اشتعال پھیلانے والے کاموں سے گریز کرے جس سے علاقے میں بدامنی پھیلنے کا خدشہ ہو۔

مولوی نگار عالم کے خاندان والوں سے رابطہ کرنے پران کے بھائی علی گوہرنے کہا کہ ہم جرگے کے مشران کے مشکور ہیں کہ انہوں نے علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے لئے کوشیشیں کی اور ہمارے اور ملزمان کے درمیان صلح کیا۔

انہوں نے کہاکہ کہ ہمارے خاندان کا مطالبہ تھا کہ گستاخی کے الزام میں تشدد سے قتل کئے گئے ہمارے بھائی مولوی نگار عالم کے منہ سے نکلے الفاظ کے بارے میں علماء تحقیق کرے۔ انہوں نے کہاکہ ہم علاقے کے علماء کے مشکور ہیں کہ انہوں نے متفقہ فیصلہ جاری کیا اور میرے بھائی نگار عالم کو بے گناہ قرار دیا گیا اور اس پر لگائے گئے گستاخ کا تہمت (الزام) کو غلط قراردیا گیا۔

یاد رہے کہ رواں برس 8 مئی کو مردان کے علاقہ ساولڈھیر میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک احتجاجی مظاہرے میں اختتامی دعاکے وقت مقامی عالم کے منہ سے مبینہ طورپر کچھ  الفاظ اداہوئے جس کے بعد ان پر گستاخ رسول کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم نے اسے بیدردی سے قتل کیا اور قتل کرنے کے بعد علاقے میں نہ اس کی نمازجنازہ کرنے دیا گیا جبکہ تدفین بھی صوبہ پنجاب میں کی گئی اور خاندان والوں کو تعزیت اور فاتحہ کرنے بھی نہیں دیا گیا۔

بعدازاں واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ریاست کی مدعیت میں قتل اور دہشت گری کے مقدمات درج کئے گئے جس مین جے یو آئی ف کے سابق ڈسٹرکٹ کونسلر مولانا عرفان اللہ سمیت 104 افراد نامزد کئے گئے تھے۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button