بلاگزلائف سٹائل

تیسرا راستہ

تحریر نوشین فاطمہ

یہ بیس سال پہلے کی بات ہے کہ جب میں کوہاٹ ڈگری کالج کے ہاسٹل میں اپنی دوست کے ساتھ جوائنٹ پڑھائی کیلئے گئی تھی۔ شام کھانے کے بعد باقی سب سے گپ شپ کے لیے ہم دوسرے روم میں گئے جہاں دو لڑکیاں بحث کر رہی تھیں۔ ایک کا تعلق کوہاٹ شہر سے تھا اور دوسری کا تعلق ہنگو سے تھا۔

تکرار یوں شروع ہوا کہ ایک نے کہا کہ امی نے میرے جہیز کیلیے برتنوں کا سیٹ خریدا ہے۔ پھر امتحان کے بعد نکاح ہے۔ پھر وہ مجھے اپنے ساتھ باہر ملک لے کر جائے گا۔ اس نے شرماتے ہوئے کہا۔ امی نے تقریباً سب کچھ سیٹ کر لیا ہے۔ امی کہتی ہیں اس نے میرے پیدا ہوتے ہی میرے لیے بڑا صندوق خرید لیا تھا  اور ہر دفعہ کمیٹی نکلتے ہی میرے لیے چیزیں لے کر رکھ لیتیں تھیں  اور مہنگی اور خوبصورت چیزیں امی نے لے کر رکھیں ہیں۔ امی کہتی ہیں کہ کسی چیز کی کمی نہیں رہنے دے گی تاکہ سسرال میں ناک اونچی رہے۔

ہنگو والی دوست نے کہا اگر تم نے ملک سے باہر جانا ہے تو کیوں اتنا خرچ کر رہی ہو  سامان خرید رہی ہو۔ سسرال والوں کو تم نہیں سامان چاہیے صرف۔ ماں باپ بیٹی بھی دے اور سامان بھی بس ہمارے ہاں تو ایسا نہیں ہوتا  سسرال والے خود پیسے دیتے ہیں، جب آپ اپنی بیٹی ان کو دیتے ہو ۔ وہی بارہ تولہ سونا بھی بناتے ہیں فرنیچر بھی بناتے ہیں  اور باقی سامان کے ساتھ لڑکی کے گھر والے اچھی خاصی رقم بھی لیتے ہیں تاکہ کل اس کی قدر بھی ہو کہ اس پر اتنے پیسے لگے ہیں۔

میں اس وقت سادہ سی لڑکی ہوا کرتی تھی اور سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں ان دونوں میں کون سا راستہ عزت اور محبت کی طرف جائے گا۔ پہلا راستہ یا دوسرا راستہ کیونکہ میرے خیال میں واقعی اگر ڈھیر سارا جہیز لے کر جائیں گی تو سسرال والے ہماری عزت کریں گے ضرور اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ جب آپ کی وجہ سے خرچہ ہوگا تو لوگ آپ کی عزت کریں گے۔

میری سوچ کا تسلسل تب ٹوٹا جب میں نے غصے میں تیز آواز میں سنا کہ تم لوگ بیٹیوں کو بیچتے ہو اور دوسری طرف سے آواز آئی کہ تم لوگ بیٹیوں سے تنگ ہوتے ہو کہ سامان کے ساتھ رخصت کرتے ہو۔ ہائے یہ دونوں راستے تو غلط ہیں۔ایک ہے جہیز دوسرا ہے ولور  اور دونوں اپنے اپنے رواجوں کیلئے ایسی لڑرہی تھیں جیسے دونوں ٹھیک ہو۔ تب مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ رواج کس نے بنائے کیوں بنائے کس لیے بنائے وغیرہ وغیرہ۔ خیر پھر سب کے سب الگ الگ ہو گئے اور پھر کتنے ہی سال ہم نہیں ملے اور ہر کوئی اپنی زندگی میں مشغول ہو گیا اور سب کی حسب معمول شادیاں ہوگئیں۔

آج کچھ تیئیس سال بعد جب میں کوہاٹ اپنی بھتیجی کے پیچھے ڈگری کالج گئی جہاں اس کا آخری پیپر تھا۔ وہاں اپنی پرانی دوستوں کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی اور یہ اتفاقاً وہی دو دوست تھیں۔ اتنے عرصے بعد ہم ملے کچھ دیر ایک دوسرے کو یاد دلایا اور آخر کار پرانی باتوں کی طرف لوٹ گئے۔ میں نے بتایا کہ میں نے خلع لی ہے اور پھر انہوں نے جب اپنی روداد سنائی تو مجھے احساس ہوا کہ نہ تو جہیز کی وجہ سے وہ عزت لے سکی جس کی مستحق تھی اور نہ ہی ولور والی کو اس کی قیمتی ہونے پر احترام ملا لیکن بدقسمتی سے آج بھی دونوں انہیں رواجوں پر مستحکم کھڑی تھیں۔اور ایک دوسری سے بالکل ویسے ہی مخاطب تھی جیسے سالوں پہلے اپنے بارے میں کہہ رہی تھی کہ میں نے اپنی بیٹی کیلئے دنیا کی ہر چیز تیار کر کے رکھی ہے اجکل دور بدل گیا ہے کپڑے نہیں خرید کر رکھ سکتی بچیاں اپنے پسند کے برانڈ کے کپڑے خریدتی ہیں اور دوسری کہہ رہی تھی کہ لڑکیاں تو بہت ہیں لیکن سب کو میری ہی بیٹی پسند آتی ہے۔ کہتے ہیں سب کچھ کر کے دیں گے۔

میں اتنے سال بعد بھی ان کا وہی حال دیکھ کر ہکہ بکہ رہ گئی۔ پدرشاہی نظام نے کیسے عورت کی خرید و فروخت کے رواج کو الگ الگ ناموں سے دوام بخشا ہے اور تعلیم ان کے خیالات کو ٹس سے مس نہیں کر سکی اور وہ تیسرا راستہ ابھی بھی ان کو نہیں مل سکا  جو مذہب نے سکھایا اور اس راستے کی جھلک آپ کو صرف مغرب میں نظر آئے گی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج بھی ہم خواتین ہی تیسرا راستہ نہ نکال پائیں اور نہ ہی ان دونوں راستوں کو برا سمجھ سکیں۔

کیا ہم کبھی تیسرا راستہ نکال پائیں گے؟؟

نوشین فاطمہ ایک سماجی کارکن اور بلاگر ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button