خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو مقدس کو ایک عجیب خوف نے آن گھیرا

نسرین جبین

ماں بننے جیسے خوبصورت ترین احساسات سے پہلی مرتبہ گزرنے والی کوہاٹ روڈ پشاور کی رہائشی مقدس اپنا حمل ٹھہرنے کے دوسرے مہینے سے ہی جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ، خیالات اور نفسیات میں بھی تبدیلیاں محسوس کرنے کرنے لگیں اور اپنے وجود کے اندر ایک ننھی جان کے پلنے اور اسے دنیا میں لانے کے مراحل سے پہلی مرتبہ گزرنے والی ہر ماں کی طرح ایک انجانے وہم اور خوف نے پہلے ہی اس کے دل و دماغ میں گھر کر رکھا تھا اور وہ ہر روز انگلیوں پر دن گن رہی تھی کہ کب یہ تمام مراحل طے ہوں گے اور وہ ماں اور اولاد کے خوبصورت و انمول رشتے میں بندھ جائے گی کہ اچانک سے ایک انجانے خوف اور دہشت نے آن لیا جو نا صرف اسے محسوس ہوئی بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی اور وہ تھا کرونا کی وبا کے پھیل جانے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا اس وبا کا شکار ہو جانے کا خوف جس نے 9 ماہ کے حمل کے دوران مقدس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

کرونا کی وباء کے آغاز میں تو وہ باقاعدگی سے چیک اپ کراتی رہی لیکن جیسے ہی لاک ڈاؤن شروع ہوا تو سب کچھ بند ہو گیا، سرکاری ہسپتال ایمرجنسی تک محدود ہو گئے اور پرائیویٹ کلینکس یا نجی ہسپتالوں تک رسائی ممکن نا رہی، اس دوران مقدس اور اس کے گھر والے ایک اذیت سے گزرے جس نے سب پر منفی نفسیاتی اثرات مرتب کیے، مقدس کو یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ کہیں کوئی مسئلہ ہو گیا تو کدھر جائے گی چونکہ قدرتی طور پر بچے کی پیدائش کے وقت کا باقاعدہ علم پہلے سے نہیں ہو سکتا کہ دن یا رات کے کس لمحے دنیا میں اس کی آمد ہو گی، آپریشن کروانا پڑے گا یا نارمل ڈیلوری ہو گی، اور اگر آپریشن کی ضرورت پڑی تو کس سے اور کیسے کرائے گی اور چیک اپ کے لیے گھر سے نکلنے یا علاج و ڈیلیوری کے دروان کہیں کرونا کا عذاب اسے یا اس کے نوزائیدہ بچے کو نا چمٹ جائے۔

ان خیالات یا خدشات نے مقدس کے نفسیاتی مسائل میں اضافہ کر دیا اور حمل کے عرصے کے دوران خوشحال اور مطمئن رہنے کی بجائے وہ ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار رہی جس نے اس کی اور اس کے شکم میں پلنے والی معصوم جان کی صحت کو شدید متاثر کیا، مقدس جیسے حالات کرونا اور لاک ڈاؤن کے دوران تمام حاملہ خواتین کے رہے۔

یونیسیف کے مطابق کرونا کی عالمگیر وباء میں 11 مارچ اور 16 دسمبر کے درمیان دنیا بھر میں 116 ملین یعنی 11 کروڑ 60 لاکھ بچے پیدا ہوں گے، جن میں سے تقریباً ایک چوتھائی 2 کروڑ 90 لاکھ بچے جنوبی ایشیا میں پیدا ہوں گے جبکہ پاکستان میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے دسمبر تک کے عرصے میں پاکستان میں 5 ملین یعنی 50 لاکھ بچوں کی پیدائش کا امکان ہے۔

یونیسیف نے تمام حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ کرونا کے حوالے سے حاملہ خواتین کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ انہیں بر وقت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ جنوبی ایشیاء میں زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح پہلے ہی اچھی نہیں ہے، بیمار نوزائیدہ بچوں کو طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں ان کی ہلاکت کا خطرہ زیادہ ہے۔ نئے خاندانوں میں ماؤں کی صحت اور تندرستی کو یقینی بنانے، دودھ پلانا شروع کرنے میں مدد، اور اپنے بچوں کو صحت مند رکھنے کے لیے دواؤں، ویکسین اور خوراک مہیا کی جائے۔

خیبر پختون خوا کے سب سےبڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ پشاور میں گائنی او پی ڈی (آؤٹ ڈور پیشنٹس ) میں روزانہ 500 خواتین چیک اپ کرواتی ہیں جبکہ ہسپتال ترجمان محمد عاصم کے مطابق روازانہ 100 خواتین کو مختلف پیچیدگیوں کے ساتھ ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے، تقریباً 60 بچوں کی پیدائش روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور 15 سی سیکشن کیے جاتے ہیں جبکہ لیبر رومز میں 59 اور وارڈز میں 159 خواتین کا علاج کیا جاتا ہے جو کرونا اور لاک ڈاؤن کے دوران بند رہے اور صرف ایمرجنسی کا شعبہ کھلا رہا جس سے ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور خاص طور پر حاملہ خواتین کو مسائل درپیش رہے جس کے ساتھ ساتھ انہیں نفسیاتی پیچیدگیوں کا بھی سامنا رہا جن کے علاج کی سہولت نا تو مذکورہ ہسپتال میں اور نا ہی نجی کلینکس میں دستیاب رہی۔

ہمارے ہاں شرح تعلیم کی کمی تو ہر مسئلے کی بنیادی وجہ ہے تاہم بدقسمتی سے نفسیاتی مسائل و تکالیف کے علاج کی شرح تو تعلیم یافتہ افراد میں بھی نا ہونے کے برابر ہے، لوگ نفسیاتی بیماری کو ذہنی مرض سمجھتے ہوئے علاج نہیں کرواتے اور اس مرض کا علاج بھی ایلوپیتھی ڈاکٹرز سے کرواتے رہتے ہیں جس سے انہیں کوئی آفاقہ نہیں ہوتا جبکہ عام طور پر ڈاکٹرز بھی انہیں ٹیسٹ، الٹراساؤنڈز اور ایم آر آئی کروانے کے بعد یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ٹینشن نا لیں جبکہ ڈاکٹرز انہیں یہ مشورہ نہیں دیتے کہ آپ کسی سائیکالوجسٹ یا سائکیٹرسٹ سے بھی چیک اپ یا علاج کروا لیں، کرونا کی وبا پہلی لہر کے دوران بھی نفسیاتی مسائل میں بے تحاشا اضافہ ہوا لیکن لوگوں کو نا تو آگاہی تھی اور نا ہی نفسیاتی علاج سے متعلقہ ڈاکٹرز ،ہسپتال، کلینکس تک رسائی ممکن تھی جبکہ پاکستان میں حاملہ خواتین کے حمل کے عرصے کے دوران نفسیاتی چیک اپ یا علاج کرانے کا رجحان 1. فیصد بھی نہیں ہے، ایسی خواتین کو عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ بچے کی پیدائش کا مرحلہ جب مکمل ہو گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا جبکہ ماں اس سارے عرصے کے دوران جسمانی ،ذہنی اور نفسیاتی اذیت سے گزرنے پر مجبور رہتی ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ سفینہ

کلینیکل سائیکالوجسٹ سفینہ کے مطابق اگر ایک چھوٹی سی بات سے کوئی ایک ہفتے سے ذہنی تناؤ کا شکار ھے تو اس کا مطلب ھے کہ کہ اسے نفسیاتی مسئلہ ہو سکتا ھے اور اگر مزید جاری رہے تو اسے ڈپریشن ہو سکتا ھے، ڈپریشن میں انسان خفا رہتا ھے، نیند مکمل نہیں ہوتی، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ھے، چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ آ جاتا ھے، بھوک نہیں لگتی یا بہت زیادہ لگتی ھے، وزن بہت کم یا زبہت زیادہ ھو جاتا ھے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈپریشن ایک ہفتہ جاری رہے تو انزائٹی کی شکل اختیار کر لیتا ھے جس سے جسمانی علامات ظاہر ھونا شروع ھو جاتی ہیں جن میں حرکت قلب کا تیز ھو جانا، زیادہ پسینہ آنا ،چکر آنا، ہاتھوں اور ٹانگوں کا کنپنا زیادہ کھیل، تنگ، یا بلندی والی جگہوں پر خوف آنا جبکہ کرونا کے دوران با ربار ہاتھ دھونے کی ہدایات نے او سی ڈی (Obsessive-Compulsive Disorder) جیسے نفسیاتی مسائل پید اکیے جس سے انسان کو یہ یقین ھو جاتا ھے کہ اس کے ہاتھ دھونے سے بھی صاف نہیں ھوئے اور وہ بار بار ہاتھ دھوتا رہتا ھے، اسے یہ سوچ بار بار آتی ھے کہ اس کے ہاتھ گندے ہیں، یہ نفسیاتی بیماری کرونا کے دوران حاملہ خواتین میں زیادہ نظر آیا جس کی وجہ سے اداسی، بے چینی، چڑچڑاپن، بلاوجہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا یا خود کو گنہگار سمجھنا جیسی علامات شامل ہیں جس سے دوسری جسمانی بیماریاں لگ جاتی ہیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے جبکہ پینڈیمک کے دوارن بچے اور ماں کی صحت بھی متاثر رہی تاہم منفی سوچ کے آتے ہی اسے مثبت سوچ سے تبدیل کر کے اچھی باتیں سوچیں تو مرض بڑھنے کی بجائے رک جائے گا۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں سائیکاٹری وارڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شیر ایوب داوڑ کے مطابق کرونا وائرس کی خبروں سے خود کو دور رکھیں، جتنا آپ کو جاننا تھا آپ جان چکے مزید جاننے کی بجائے احتیاط کی ضرورت ہے، سوشل میڈیا کی خبروں پر بغیر تصدیق کے بھروسہ نہ کریں، عام طور پر سُنی سنائی باتوں کو بغیر کسی تحقیق کے کاپی پیسٹ کر کے آگے شئیر کیا جاتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے جو لوگوں میں نفسیاتی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ لوگوں سے سماجی فاصلہ رکھیں، فون کے ذریعے باہمی گفتگو کر کے اپنے ذہنی تناؤ کم کر سکتے ہیں، خدا کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ یہ بیماری ٹل جائے گی اور ہم ایک بار پھر نارمل زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے اور وضو اور نماز کا اہتمام باقاعدگی سے کریں کیونکہ ماہرین اس وباء کے دوران یوگا (yoga) کی جن مختلف ورزشوں کا مشورہ دیتے ہیں ان میں سے 15 سے زائد تو نماز ہی میں موجود ہیں، مثبت رویے اپنائیں اور ذہنی اور جسمانی طور پر اس وباء سے محفوظ رہیں۔

محکمہ بہبود آبادی خیبر پختون خوا کی ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر فارینہ باسط نے اس حوالے سے کہا کہ ’اس وبائی دور میں حاملہ خواتین کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی پریشان ہو رہی ہوتی ہیں لہٰذا میٹرنٹی ہوم میں ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور ان خواتین کا باقاعدگی کے ساتھ طبّی معائنہ ہونا چاہیے، ایسے میں گھر والے بھی انہیں گھر پر خوشگوار ماحول فراہم کریں۔ ان کا باقاعدگی سے روٹین کا طبّی معائنہ نہ ہونا، ڈاکٹرز سے دُوری، علاج کی بہتر سہولیات نہ ملنے اور گھروں میں محصور ہونے سے ان میں نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں اور ماں اور بچے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ حسن نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجاویز کے مطابق حمل ٹھرنے سے بچے کی پیدائش تک 4 سے 7 مرتبہ چیک اپ کرانا ضروری ھے تاہم زیادہ خطرے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر بیماری کی صورت زیادہ چیک اپ کی ضرورت ہوتی ھے لیکن کرونا کے دوران خواتین کے چیک اپ کرانے کی شرح بہت کم رہی، وہ گھروں میں رہیں ایل ایچ ڈبلیوز اور دایئوں سے مشورے لیتی رہیں جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، ہمیں سال ہا سال گزر گئے خواتین کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ وہ گھروں میں غیر تربیت یافتہ خواتین سے ڈیلوریز نا کروائیں لیکن لاک ڈاؤن اور کرونا نے ایک مرتبہ پھر ان کی سوچ بدل دی ہے اور اب خواتین کی ایک بڑی تعداد ایک مرتبہ پھر دائیوں اور غیر تربیت یافتہ خواتین پر بھروسہ کرنے لگی ہیں۔

نفسیاتی مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حمل ٹھرنے کے دوران مائیں پہلے ہی وہمی ہو جاتی ہیں کہ یہ وقت خیر عافیت سے گزر جائے اور مجھے یا میرے بچے کو کوئی نقصان نا ہو جائے لیکن کرونا نے اس ڈر میں اضافہ کیا، اگرچہ کرونا ایک نئی بیماری ہے، نیو یارک میں ہونے والی تحقیق کے مطابق کرونا کی بیماری حمل کے دوران ماں سے بچے میں منتقل نہیں ہوتی اور اس کا براہ راست اثر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ کرونا اور لاک ڈاؤن کے دوران حاملہ خواتین کے لیے تو ان حالات میں دوہرا خطرہ ہوتا ہے اور انہیں زیادہ احتیاط اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے تاہم حاملہ خواتین اگر خدانخواستہ کورونا وائرس کا شکار ہو جائیں تو ڈرنے کے بجائے اپنے علاج پر توجہ دیں اور اطمینان رکھیں، ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر بچے کی پیدائش نارمل یا سی سیکشن سے ہو تو پیدائش کے دوران یہ وائرس ماں سے بچے تک نہیں پہنچتا البتہ بعد میں ماں سے قربت کے نتیجے میں یہ بچے تک منتقل ہو سکتا ہے، پیدائش کے بعد بچے سے سماجی فاصلہ رکھا جائے تو ان کا یہ مرض بچے میں منتقل نہیں ہوتا جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس نوزائیدہ بچوں میں اس لیے منتقل نہیں ہوتا کیونکہ یہ انسانی خلیوں میں ایک مخصوص پروٹین ACE2 سے خود کو منسلک کر لیتا ہے، یہ پروٹین نوزائیدہ بچوں میں یا تو ہوتا نہیں ہے یا پھر اس کی شکل مختلف ہوتی ہے۔

لیاقت میموریل گورنمنٹ ہسپتال کوہاٹ کی ڈاکٹر نرگس خاتون نے کہا کہ حاملہ خواتین کا کوئی بھی مہینہ چل رہا ہو انہیں غیر ضروری طور پر ہسپتال آنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے اور فون پر مشاورت اور دواؤں کے بارے میں معلومات لیتی رہیں، ضروری ٹیسٹ کی رپورٹس بھی ڈاکٹر واٹس ایپ پر دیکھ کر مشورہ دے سکتی ہیں، بہت سے ڈاکٹروں نے ٹیلی میڈیسن یا آن لائن مشاورت کی سہولیات شروع کی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین ہسپتال صرف اس وقت آئیں جب ڈیلیوری کا وقت آجائے تاہم ہر حال میں ہسپتال میں ڈیلیوری کروائیں، گھروں میں ڈیلوریز کروانا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ڈیلیوری سے قبل یا اس کے دوران کسی بھی قسم کی غیر متوقع پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جنہیں گھر میں حل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین ڈیلیوری کے لیے ہسپتال آئیں تو ماسک ضرور لگائیں بلکہ ڈیلیوری کے دوران بھی ماسک پہنے رہیں چاہے وہ کورونا کی مریض ہوں یا نہ ہوں، ”دراصل حاملہ خواتین کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ پھیپھڑوں کے کچھ امراض بھی نومولود بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، کورونا کی وباء ہر انسان کے سر پر تلوار بن کر لٹک رہی ہے جس سے ہمیں ایسی ماؤں کو جو نئی زندگیوں کو جنم دینے کے مراحل سے گزر رہی ہیں انہیں نا صرف کرونا بلکہ نفسیاتی مسائل سے بچانا ہے بلکہ تمام مراحل مکمل ہونے تک ان کا علاج و معالجہ اور انہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کرنا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button