لائف سٹائلکالم

صبر، شکر اور توکل: خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں

عبد المعید زبیر

اس دور میں ہر شخص خوشیوں کا متلاشی نظر آتا ہے۔ اسی کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے، مال جمع کرتا ہے، اس کی خاطر خون پسینہ ایک کرتا ہے۔ چونکہ آج کل سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی سوچ کا غلبہ ہے تو ہر کوئی یہی سوچ رکھتا ہے کہ پیسہ ہے تو سب کچھ ہے۔ افسوس کہ یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔

خوشی یا سکون اک روحانی چیز ہے جسے پیسے سے کبھی نہیں خریدا جا سکتا۔ اگر ہم اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تین کاموں کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنانا ہو گا۔ صبر، شکر اور توکل۔

صبر سب سے پہلا مرحلہ ہوتا ہے جو کسی بھی شخص کو خوشی کی طرف لے جانے کا سبب بنتا ہے۔ کیوں کہ کبھی انسان کسی چیز کو حاصل تو کرنا چاہتا ہے مگر کر نہیں پاتا، ناکام ہو جاتا ہے۔ یا وہ کام اس کی قدرت اور استطاعت میں ہی نہیں ہوتا کہ اسے حاصل کر سکے۔ تو یہاں انسان ڈپریشن کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بےصبری ہماری خوشیوں کی سب سے بڑی قاتل ہے۔ کیوں کہ جب ہم کسی چیز کو اپنے دماغ میں سوار کر لیتے ہیں اور اسے حاصل نہیں کر پاتے تو کئی مہلک بیماریوں کا شکار بن جاتے ہیں جیسے ڈپریشن، احساس کمتری، حسد اور بغض وغیرہ۔ یہ سب بیماریاں ہماری جلد بازی اور بے صبری کا سبب بنتی ہیں۔ یہاں سے ہماری خوشیاں قتل ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

ایک دوسری وجہ جس کا لوگ اکثر شکار ہوتے ہیں وہ یہ کہ ہم دوسروں سے وہی چاہتے جو ہم سوچتے ہیں یا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کوئی ہماری مرضی کے مطابق کام کرے۔ عموماً عورتیں اس کا شکار ہوتی ہیں جیسا کہ ساس کو پہلے دن سے بہو وہی چاہیے جو اس کے معیار کے مطابق کام کرے۔ حالانکہ خود اس کا تجربہ چالیس پچاس سال کا ہوتا ہے۔ اور بہو کی ٹوٹل عمر ہی بیس پچیس سال ہوتی ہے۔ ساس کی کوشش ہوتی ہے کہ بہو آتے ہی بالکل رچ بس جائے اور چالیس سالہ تجربے والی عورت کے برابر کام کرے۔ گھروں میں بے سکونی اور بدنظمی کی یہی وجہ ہوتی ہے۔ ساس بالکل کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہوتی بلکہ وہ یہی کہتی ملے گی کہ ہم بھی تو ایسے کرتے رہے ہیں، ان کو کیا مسئلہ ہے۔ یہی مسئلہ ہمارے ہر ادارے میں ہوتا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی بھی شخص کو سو فیصد پیدا نہیں کیا کہ اس کے اندر ہر اچھائی موجود ہو اور نہ ہی انسان سے سو فیصد کا مطالبہ کیا کہ وہ سو فیصد ہی معمولات لے کر آئے گا تو بخشش ہو گی۔ جب اللہ تعالٰی نے ہی سو فیصد پیدا نہیں کیا تو ہم کیسے دوسروں سے سو فیصد کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ حالاں کہ ہم خود بھی جامع الاخلاق و افعال نہیں۔ تو یہاں کرنے کا کام یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ کمپرومائز کیا جائے۔ ان کی طبیعتوں کے مطابق ان سے معاملہ کیا جائے۔ کچھ اپنے رویوں میں کمی کی جائے، صبر کیا جائے اور کچھ کا مطالبہ کر لیا جائے۔ اگر سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہونے لگ جائے تو صبر کس چیز کا نام ہو گا، جس کے لیے احادیث میں ڈھیروں مضامیں وارد ہوئے ہیں۔ بلکہ حقیقت میں ہم تو بہت بڑی نعمت اور رحمت سے محروم ہو جائیں گے۔ لہذا دنیا میں خوش رہنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ جو نہ ملے اس پر صبر کیا جائے اور بہتری کی کوشش کی جائے۔

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں، ان پر شکر ادا کیا جائے۔ اگر ہمارے اندر شکر کی عادت پیدا ہو جائے تو معاشرے سے ضد، حسد، عناد اور بغض جیسی مہلک بیماریوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ ناشکرے انسان کے اندر حرص بہت بڑھ جاتی ہے۔ وہ ہر وقت مزید کے چکروں میں الجھا رہتا ہے۔ زیادہ حاصل کرنے کے چکر میں انسان اپنی خوشیاں تک برباد کر لیتا ہے۔ اس کے پاس سب کچھ بھی ہو، خوشیوں کی کمی رہتی ہے۔ حریص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انسان کا پیٹ تو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ یہی حرص ہوتی ہے جو بڑھتی ہوئی ضد اور حسد کی آگ میں جلا کر انسان سے بہت بھیانک کام کروا دیتی ہے۔ اگر ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزاری کا مادہ پیدا ہو جائے تو گویا خوش رہنے کا بہت بڑا گر ہمارے ہاتھ لگ گیا۔ یعنی جو ہے اس پر شکر کر لیا جائے، جو نہ ہو وہ مانگ لیا جائے۔ اس کا انجام سوائے خوشی اور اطمینان کے کچھ بھی نہیں ہو گا۔

تیسرا اور بنیادی اصول توکل علی اللہ ہے۔ توکل اسباب و تدابیر اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالٰی پر بھروسہ کرنے کو کہتے ہیں۔ انسان کے ذمہ کوششں کرنا صرف اسباب کے درجہ تک ہے۔ نتائج اللہ تعالیٰ نے دینے ہیں۔ وہ کیسے ہوں گے، وہی ذات بہتر جانتی ہے۔ نتائج ہمارے حق میں بھی ہو سکتے ہیں اور مخالف بھی۔ لیکن مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ جو بھی ہو گا وہ ہمارے لیے بہتر ہی ہو گا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے بڑھ کر کوئی ہمارا خیر خواہ نہیں، جس نے اپنی قدرت سے ہمیں بنایا۔ لہذا جب معاملات میں صبر اور شکر کے ذریعے ہم نے کام لیا تو اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دینا ہے تاکہ جو نتیجہ بھی آئے وہ ہمارے لیے راحت کو سبب بنے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے لیے یہی منظور تھا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ بسااوقات انسان کو آزماتے ہیں کہ اسے خوشی ملے تو وہ کیا کرتا ہے، غم ملے تو کیا کرتا ہے۔ یہی آزمائش ہمارے لیے بلندی درجات کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہذا جو بھی نتیجہ آئے گا وہ خوشی کا باعث ہی بنے گا۔ ورنہ اگر توکل نہ ہو تو انسان بہک جاتا ہے کہ میں نے تو بڑی محنت کی، بڑی کوشش کی، بڑا صبر کیا، مگر نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ تو یہ آزمائش انسان کے لیے وبال بھی بن سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے لہذا مکمل خوش تب ہی حاصل ہو گی جب اللہ تعالٰی پر توکل ہو گا۔

اس دور میں جہاں ہر طرف نفرتوں کے ڈیرے ہیں، اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنی حد تک خوشیوں کے دیپ جلانا شروع کر دے تو یہ ہمارے معاشرے کی نفرتوں کے اندھیروں کو چیر سکتے ہیں۔ یہی چھوٹے چھوٹے دیپ امید سحر بن کر ابھر سکتے ہیں۔ آئیے! آج سے عزم کرتے ہیں کہ ہم خوش رہیں گے اور خوشیاں بانٹیں گے۔

Moed
عبد المعید زبیر جامعہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم فل اسکالر ہیں اور مختلف اخبارات اور رسائل کے لئے لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button