تعلیم

گورنمنٹ مڈل سکول ماموند باجوڑ: گیارہ سو طلباء بجلی، واش روم اور پانی سے محروم

مصباح الدین اتمانی

گورنمنٹ مڈل سکول ماموند باجوڑ کے طلبہ نے سکول میں واش روم، پانی، بجلی اور چوکیدار نہ ہونے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے لغڑئی تا عنایت کلے روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کر دیا جبکہ انہوں نے کلاسز کا بھی بائیکاٹ کیا۔ مذکورہ سکول کے پرائمری سیکشن میں 600 جبکہ مڈل سیکشن میں 550 طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ سٹاف کی تعداد 8 ہے،
طلبہ سے مذاکرات کرتے ہوئے ایجوکیشن آفیسر شیرین زادہ نے کہا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں لیکن فنانس ڈیپارٹمنٹ اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کر رہا۔

ٹی این این کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو میں احتجاج میں شریک قاسم نام طالب علم نے بتایا کہ احتجاج میں مڈل اور پرائمری سیکشن کے تمام طلبہ شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمہ تعلیم کو کئی بار درخواست کی ہے، ہمارے طالبات تسلیم بھی ہوئے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ قاسم نے بتایا کہ مارچ 2018 میں سکول کا چوکیدار ریٹائر ہوا لیکن ابھی تک دوسرا چوکیدار نہیں بھیجا گیا، ہمارے سکول میں واش روم نہیں ہیں، ضرورت پڑنے پر طلبہ گھر جاتے ہیں، کلاس رومز میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں، سکول کی کرسیاں، پنکھے اور سولر بھی غائب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم صبح سکول آتے ہیں تو رات کو کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوا ہوتا ہے، پھر ہم اس میں پھنس جاتے ہیں، سکول کی صفائی بھی ہم خود کرتے ہیں جس سے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ سکول میں چوکیدار کا بندوبست کیا جائے، پانی اور بجلی کی سہولت فراہم کی جائے، چاردیواری بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی تعلیم افسر اور ایس ایچ تھانہ لغڑی کے ساتھ ہمارے مذاکرات ہوئے، ہمیں پانچ دن کا وقت دیا گیا اور یقین دہانی کرائی گئی کہ آپ کے مسائل حل کریں گے۔

عمر سعید قبائلی مشر اور پاکستان مسلم لیگ کے ضلعی رہنماء ہیں، وہ بھی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی غرض سے اس احتجاج میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات جائز تھے، بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے سکول چھوڑنے پر مجبور ہیں، محکمہ تعلیم ان بچوں کے مستقبل کی فکر کرے، اگر ان طلبہ کے مسائل حل نہ کئے گئے تو ہم ان کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ضم اضلاع میں تعلیم کی انتہائی ابتر صورتحال ہے، صرف سوشل میڈیا پر تشہیر ہو رہی ہے، اساتذہ تین تین اور چار چار سو طلبہ کو پڑھاتے ہیں، اگر یہی صورت حال رہی تو ہم طلبہ کو سکول نہیں بھیجیں گے۔

گورنمنٹ مڈل سکول ترخو ماموند باجوڑ کے ان اکتالیس سکولوں میں سے ایک ہے جن میں چوکیدار، نائب قاصد یا پھر سویپر کی آسامیاں موجود نہیں، ان سکولوں میں 6000 سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہے، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد اب بھی کئی سکولوں پر مالکان کا قبضہ ہے، فنانس ڈیپارٹمنٹ خالی آسامیوں کی منظوری دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، جن سکولوں میں چھ چھ اساتذہ کا ہونا لازمی ہے ان سکولوں میں صرف دو دو اساتذہ پڑھاتے ہیں، اس کیلئے چار بار ایس این آئی جمع کروائی گئی لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

احتجاج کی خبر ملتے ہی ضلعی ایجوکیشن افسر شیرین زادہ طلبہ کے پاس پہنچے، انہوں نے کہا کہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ذریعے ہم نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے رابط کیا ہے کہ یہاں چوکیدار پوسٹ کی آسامی پُر کی جائے لیکن وہ ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں، ہم اپنی طرف سے چوکیدار تو نہیں دے سکتے لیکن حل کیلئے کوشش ضرور کریں گے۔ شیرین زادہ نے بتایا کہ سکول میں بجلی کا مسئلہ ہم حل کریں گے، ہم اس سکول کو سولرائز کریں گے، پاور اینڈ انرجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ڈائریکٹوریٹ لیول پر معاہدہ ہوا ہے، اس سکول کی چاردیواری بھی ایمرجنسی بنیاد پر بنا دیں گے اور اس کے اوپر باڑ لگائیں گے، واٹر سپلائی کا بھی ہم بندوبست کر لیتے لیکن ان کے تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں، یہاں سے سولر پینلز چرائے جاتے ہیں، چوکیدار کا مسئلہ حل ہو جائے تو ہم تمام سہولیات دینے کو تیار ہیں۔

شیرین زادہ نے بتایا کہ کہ یہاں مڈل اور پرائمری دونوں سیکشن میں چوکیدار کی پوسٹ موجود نہیں، صرف ایک نائب قاصد ہے جو دن کے وقت ڈیوٹی کرتا ہے جبکہ رات کو دیکھ بھال کیلئے کوئی موجود نہیں ہوتا، لوگ سکول میں گھس جاتے ہیں، ہم نے ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر کو درخواست بھی دی ہے لیکن ابھی تک سکیورٹی نہیں دی گئی، اب ہم نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر کریں گے تاکہ ان ملزمان کو گرفتار کیا جائے جو سرکاری ملکیت کو نقصان پہنچاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سکول میں چوکیدار کی بھرتی کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ سینکشن دے تو ہم کسی بھی مقامی بندے کو بھرتی کریں گے جس کے بعد یہ سکول محفوظ ہو جائے گا۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں سکول کے ہیڈ ماسٹر خان زرین نے بتایا کہ حالات خراب ہیں، ہم پڑھانے کے ساتھ ساتھ سکول کی چوکیداری نہیں کر سکتے، 2012 سے میں بطور ہیڈماسٹر ڈیوٹی کر رہا ہوں، 1991 سے 1995 تک میں یہاں طالب علم تھا، پہلے یہاں چوکیدار موجود تھا، 2018 میں چوکیدار ریٹائرڈ ہوا، اب اس کی پوسٹ خالی ہے، ایجوکیشن افیسر اس پر بندہ بھرتی کر سکتا ہے، اس کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں لیکن پتہ نہیں وہ ایسا کیوں نہیں کر رہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button