باجوڑ سلارزو میں مدفون چورک بابا کون ہیں؟

مولانا خانزیب

قاضی عبد الحلیم اثر نے باجوڑ سلارزو میں ایک بزرگ، چورک بابا، کی قبر کا تذکرہ کیا تھا۔ آج کچھ دوستوں مصباح الدین اور نصر اللہ کے ہمراہ ان کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔

آپ کا اپنا نام سید نور محمد بابا تھا اور چورک بابا سے معروف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مغل شہنشاہ سلطان جلال الدین اکبر، جو 1542 کو پیدا ہوئے تھے اور 1605 میں وفات پا گئے، سلطنت مغلیہ کے ایک عظیم بادشاہ گزرے ہیں، 1595 میں جب شدید بیمار تھے تو ان کی ملاقات ایک سید بزرگ سے ہوئی جن کی دعا سے اکبر بادشاہ صحتیاب ہوا۔

اس بزرگ کا نام سید ابراہیم بخاری تھا اور اس وقت کے ایک روحانی پیشوا سالار رومی اجمیری کے مرید تھے اور سلسلہ قادریہ میں ان سے بیعت کی تھی۔ صحتیابی کے بعد اکبر بادشاہ نے سید ابراہیم کو تانبے کے تختے پر ایک بہت بڑی جاگیر، جس میں پورا باجوڑ کا علاقہ شامل تھا، بطورِ ھدیہ یا پختونوں کے عرف میں بطورِ ‘سیرئی’ ایک فرمان پر لکھ کے دی۔ مرزا کامران اور ہمایوں کے دور سے باجوڑ مغل سلطنت کا ایک مقبوضہ علاقہ تھا۔ ان سے پہلے 1519 میں شہنشاہ بابر بھی باجوڑ پر حملہ آور ہوا تھا۔

جاگیر کا یہ فرمان 1004 ھجری اور 1595 عیسوی کو لکھا گیا اور اس فرمان میں شامل جاگیر کی حدود یہ تھیں۔

پورا باجوڑ بشمول جنوب کی طرف مومند میں واقع کمالی نحقی کے پہاڑ، جندول انبار تک۔

شمال کی طرف براول اور کنڑ کے علاقے نرنگ، ھرنوئی، شڑتن، اسمار، شونکڑئی دریائے کنڑ تک۔

اور مشرق کی طرف دریائے پنجکوڑہ تک کے علاقے اس میں شامل تھے اور تاریخی طور پر یہ باجوڑ کی ریاست کی حدود بھی رہی ہیں۔

سید ابراہیم کا ایک بیٹا تھا جس کا نام اسماعیل تھا، سید علی ترمذی المعروف پیر بابا کی ایک بیٹی کی شادی اسماعیل سے ہوئی تھی۔ پیر بابا کے اس بیٹی سے جو لڑکا پیدا ہوا جس کا نام سید نور محمد تھا اور جو تاریخ میں چورک بابا کے نام سے مشھور ہے۔

آپ کی قبر سلارزو میں شمال کی طرف پشت سے تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر چورک بابا گاؤں میں ہے۔ یہاں پر جس قبرستان میں آپ دفن ہیں وہاں جنگلی زیتون کا جنگل اور ایک پورا گاؤں موجود ہے، وہاں کے مشران کے بقول اس گاؤں میں موجود لوگ چورک بابا کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی اولاد کو یہاں کے باسی ”پاچاگان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ پختونوں میں پاچاگان کو سادات، ‘ستانہ دار’ سمجھا جاتا ہے۔

آپ کے دادا سید ابراہیم کا مزار چارمنگ کوٹکی میں ہے جبکہ اسماعیل کی قبر ماموند میں واقع ہہے جس کی تحقیق دوست شاہ ولی خان ماموند کریں گے۔

اپنے مشران کی وفات کے بعد اکبر کی طرف سے دی گئی جاگیر کا مالک چورک بابا تھا اور مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں چورک بابا نے یہ جاگیر اس وقت موجود اقوام و قبائل مختلف شخصیات اور مشران میں تقسیم کی تھی جبکہ اپنی ضرورت کیلئے چورک بابا، نے اسمار کنڑ، امان کوٹ، شینگر گل، چینارگو، گٹکے اور چورک سلارزو میں کچھ زمیں رکھی تھی۔ بعد میں ان کی اولاد ابراہیم خیل کی مختلف شخصیات باجوڑ ریاست پر حکمرانی کرتی آئی ہیں۔

جب یوسفزئی قوم نے باجوڑ کا علاقہ قوم دلہ زاک سے چھینا تو بعد میں ملک احمد اور شیخ ملی کی وفات کے بعد پختونوں کے نامور باچا گجو خان کے دور میں ترکانڑیی قوم لغمان میں جب مغل سلطنت کے ساتھ ان کے تعلقات بگڑ گئے تو اس کے بعد اپنی ریاست کھونے کے بعد باجوڑ آتے ہیں۔

غالباً سن 1550 عیسوی میں گجو خان نے ترکانڑیی قوم کو یوسفزئی قوم کے ساتھ سابقہ اچھے تعلقات اور احسانات کے بدلے باجوڑ کے علاقے میں رہائش کی اجازت دی۔

مغل دور میں باجوڑ پر گورنر رہنے والے سخی عرب خان کے بیٹے سرور خان کو خار کا علاقہ دیا تھا۔ شمشیر خان کو ناواگئی کا علاقہ دیا تھا۔ پشت کا علاقہ ماموت خیل اور قوم شومہ خیل کو دیا تھا۔ سرور خان بعد میں باجوڑ کے حکمران بھی رہے۔

میاں عمر ترکانڑئی چمکنی، خزینتہ الاسرار میں لکھتا ہے کہ سرور خان کے بعد ان کا بیٹا حیات خان باجوڑ کا حکمران تھا اور یہ 1683 میں شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا دور تھا۔ حیات خان کے بعد ان کا بیٹا نظام الدین باجوڑ کا حکمران بنا۔ سخی عرب خان کے خاندان میں ایک اور نامور حکمران میر عالم خان 1575میں گزرا ھے جنک ی حکمرانی باجوڑ اور دوابہ پر تھی
اور اب بھی ان کے دور کی زمینوں کی اسناد کچھ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ گرمی میں باجوڑ عنایت کلی میں رہتا تھا اور سردیوں میں مٹہ مغل خیل شب قدر میں۔

چورک بابا جو باجوڑ کی معلوم تاریخ کا ایک بڑا کردار ہے آج ہم سے گمنام ہے، باجوڑ کے بہت کم لوگ ان کے بارے میں جانتے ہوں گے اور شائد ان کی قبر کی طرف بہت کم لوگ گئے ہوں گے، ان کی قبر مقامی لوگوں نے اپنے طور پر تو پختہ کر کے محفوظ کی ھے مگر اس تاریخی قبر کی حفاظت کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

چورک بابا کی زیارت کیلئے لوگ ناسمجھی کی وجہ سے اپنے حاجات ومرادیں مانگنے کیلئے تو آتے ہیں، جگہ جگہ اپنی مرادوں کیلئے کپڑے لٹکاتے ہیں مگر اس عظیم شخصیت کے حقیقی کردار سے لوگ ناواقف ہیں جس نے اپنی زندگی میں ساری جاگیریں لوگوں میں مفت تقسیم کر کے درحقیقت اسلام کے سرمایہ کی تقسیم کے فلسفے کو عملی طور پر اختیار کیا تھا۔ کیونکہ بقول عبیداللہ سندھی اسلام نے کمیونزم سے بہت پہلے سرمایہ کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا تھا، اسلام سرمایہ اور جاگیروں کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کے خلاف ایک سرمایہ شکن مذھب ہے مگر یہ باتیں آپ کو روایتی مذہبی سکالرز نہیں بتائیں گے۔

باجوڑ کی اراضی کی یہ تیسری تقسیم 1036 ھجری کے دوران ابراھیم بخاری کے نواسے سید نور محمد المعروف چورک بابا نے مغل شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں کی تھی جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

1۔ باجوڑ کے علاقے ناوگئی کو شمشیر خان کے حوالے کیا گیا۔ 2۔ شگئی اور شیوہ کے علاقے حسین خان کو دیئے گئے۔

3۔ اٹکئی، چارمنگ، کوہی کے علاقے جھان خان کو دیئے گئے۔ 4۔ کوٹکی، دوزخ شاہ، رشکئی شریف خان کو دیئے گئے۔

5۔ باجوڑ خار سردار خان ابن سخی عرب کو دیئے گئے۔ 6۔ کُنڑ اور شہزادی شیخ محمد کو دیئے گئے۔ 7..شنجی، شیخ خیل کوٹکی، جونی کلے، بادین، گندیری، گنبیر کے علاقے شیر علی خان بابا کو دیئے گئے۔ 8۔ سنگ پارہ کا علاقہ سامیزی قوم کو دیا گیا۔ 9۔ میاں بانڈہ، انزر بانڈہ، شلکنڈئ درہ کے علاقے چورک بابا نے اپنے لئے پسند کئے۔ 10۔ آسمار کا آدھا علاقہ مُلا شیخو بابا کو دیا گیا اور آدھا علاقہ چورک بابا نے خود لیا۔ 11۔ شنگر اور شال کے علاقے پیر بابا کے نواسے سید جمال ابن عبدالوھاب ابن میاں مصطفی ابن پیر بابا کو دیئے۔ 12۔ ساؤ کا علاقہ گڈلا بابا کو دیا۔ 13۔ ناڑئی کا علاقہ انبار بابا کو دیا۔ 14۔ ارنوی، بھرگام کے علاقے بھرام بابا کو دیئے۔ 15۔ شیگام اور سونک کے علاقے حیدر خان توغچی بابا کو دئے۔

16۔ شوڑتن کا علاقہ ملا سعدالدین بابا کے حوالے کیا گیا۔ 17۔ ڈمہ ڈولہ اور چینگئ کے علاقے گدائی بابا کو دئے۔ 18۔ شیگل کا علاقہ شیخ بابا کو دیا۔ 19۔ امان کوٹ اور شنگر گل کے علاقے چورک بابا نے خود لئے۔ 20۔ سرکانڑی کا علاقہ دولت الدین کو دیا۔ 21۔ نرنگ کا علاقہ سرجان بابا کو دیا۔ 22۔ سور کمر کا علاقہ, مسعود بابا,گربز بابا,اور قندھاری قوم کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ 23۔ دیر,خال ,براول بانڈئی کے علاقے بھادر شاہ خیل کو دئے گئے۔ 24۔ مھرگرام درہ,لعل خان بابا کو دیا۔ 25۔ گل درہ کا علاقہ نور بابا کو دیا۔ 26۔ پشتی,عاریف قلعہ,تور,سین زو,قندھارے,باڑوہ,سورہ,غونڈئ,تنگئ کے علاقے مست علی بابا کو دئے۔ 27۔ مندیزئ ,تنور,حسنی,بازارک,چنگڑئ,کے علاقے موسی خیل قوم کو دئے۔ 28۔ شون ٹالہ اور مابودہ کے علاقے علی خان بابا کو دئے۔ 29۔ سپاہی خان,کوٹکے,تنڈئ,مسکینی کے علاقے شہیداللّہ خان بابا کو دئے۔ 30۔ تڑلہ کا علاقہ رفتار بابا کو دیا۔ 31۔ میچنئ اور ناقے کے علاقے چیرم بابا کو دئے۔ 32۔  کنڈر اور چنگڑے کے علاقے غالی بابا کو دئے۔ 33۔ ساڑوکئ ,ناراضہ اور لاکوئ کے علاقے قلندر بابا کو دئے۔ 34۔ ارکنی ,تندرکہ,تختو منزہ,کے علاقے صاحب خان بابا کو دئے۔ 35۔ کامبیلی,بانجیر,بگندیل کے علاقے حمداللّہ خان بابا کو دئے۔ 36۔ لنڈئ,امبار خانہ,ساکوٹ,بشگل کے علاقے علیم شاہ بن عبدالقدوس بن عبدالوھاب بن میاں مصطفی بن پیر بابا کو دئے۔ 37۔ باٹوار کا علاقہ شغرب بابا کو دیا۔ 38۔ کاڈوک کا علاقہ میرداد بابا کو دیا۔ 39۔ گمبت کا علاقہ تورہ خیل کو دیا۔ 40۔ پشت کا علاقہ شومہ خیل اور ماموت خیل کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ 41۔ غاخے اور تندرکۃ کے علاقے سور خان بابا کو دئے۔ 42۔ کوھے کا علاقہ خوشرنگ بابا کو دیا۔ 43۔ درہ پائین کا علاقہ النگر بابا کو دیا اور درہ بالا کا علاقہ ملنگ بابا کو دیا۔ 44۔ بانڈگئ کا علاقہ ولی بابا کو دیا۔ 45۔ ملا سید کا علاقہ آدم خان بابا کو دیا۔ 46۔ پالم خار کا علاقہ سرمست بابا کو دیا۔ 47۔ چیلارگام کا علاقہ پیر خان بابا کو دیا۔ 48۔ بٹمالی کا علاقہ قندھار بابا کو دیا۔ 49۔ شنگر گل کا علاقہ چورک بابا نے اپنے نواسے محمد بابا کو دیا۔ 50۔ اُڈیگرام کا علاقہ فتح خان بابا کو دیا۔ 51۔ ڈبر کا علاقہ احمد خان بابا کو دیا۔ 52۔ شنگر گام کا علاقہ یارمحمدخان بابا کو دیا۔ 53۔ اکوشین کاعلاقہ خانی بابا کو دیا۔ 54۔ لوئی گرام کا علاقہ غازی بابا کو دیا۔ 55۔ لیٹی کا علاقہ میرو بابا کو دیا۔ 56۔ چورک,گٹکی,چنارگو, کے علاقے چورک بابا نے خود لئے۔

قاضی عبد الحلیم اثر کے مطابق باجوڑ کی اراضی کی تقسیم کی تفصیل باجوڑ کے ابراھیم خیل قبیلے کے اسمار موجودہ کنڑ کے ایک خان غلام خان نے اپنی کتاب تاریخ باجوڑ نامی ایک مخطوطہ میں درج کی ہے جسے قاضی عبد الحلیم اثر نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button