ضم اضلاع کے طلباء 2 سال بعد بھی وظیفہ سکیم سے محروم

خیبر پختونخوا حکومت کے صوبے میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں کے طلبہ کو ماہانہ وظیفے کے طور پر 2 ارب 60 کروڑ روپے جاری کرنے کا پروگرام تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود غیرفعال ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم (ای اینڈ ایس ای) کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) برائے 2019ـ20 میں اس کی منظوری کے بعد سے صرف اس پر غور کیا جا رہا ہے کہ وظیفہ اسکیم کو کس طرح عمل میں لایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈرل گورنمنٹ کی جانب سے تیزرفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت اس پروگرام کی مالی اعانت فراہم کی گئی تاکہ وہ عسکریت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں اسکولوں میں داخلے کی تعداد بڑھائی جا سکے، ضم شدہ سات اضلاع میں خیبر، مہمند، باجوڑ، کرم، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان شامل ہیں، اس پروگرام کے تحت نرسری سے لے کر سیکنڈری کلاس تک کی ہر طالبات کو ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اور پرائمری اسکولوں اور سیکںڈری اسکول کے ہر ایک طلبا کو بالترتیب 500 روپے اور ایک ہزار روپے دیے جانے تھے، اس اسکیم پر عمل درآمد نہ ہونے سے 6 لاکھ 31 ہزار 376 طلبہ کو، جن میں ایک لاکھ 74 ہزار 32 لڑکیاں بھی شامل ہیں، منصوبہ بند وظیفہ سے محروم کر دیا گیا ہے۔

محکمہ ای اینڈ ایس ای کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری اسکولوں میں کْل طلبہ میں سے ایک لاکھ 30 ہزار 322 طلبہ ضلع باجوڑ، 60 ہزار 962 مہمند، ایک لاکھ 8 ہزار 609 خیبر، 36 ہزار 516 اورکزئی، 75 ہزار 192 کرم، 85 ہزار 11 شمالی وزیرستان اور 45 ہزار 661 جنوبی وزیرستان کے علاوہ مختلف سب ڈویڑنز، حسن خیل سب ڈویڑن میں شامل 14 ہزار 774، درہ آدم خیل میں 17 ہزار 459، وزیر میں 26 ہزار 544، بیٹنی میں 7ہزار 8، جنڈولا میں 13 ہزار 265 اور درہ میں 10 ہزار 53 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

صوبے کے وزیر تعلیم شہریار خان ترکئی معاملے پر رائے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے تاہم محکمہ تعلیم کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ عہدے داروں نے وظیفہ کی فراہمی کے لیے متعدد طریقوں پر غور کیا مگر فاٹا کی موجودہ صورتحال میں انہیں ناقابل عمل پایا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم نے بینکوں اور موبائل فون کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے حال ہی میں اخباروں میں ٹینڈر جاری کیا تھا، ”جواب میں مختلف بینکوں اور موبائل کمپنیوں نے معاہدے کے لیے درخواست دی جس میں سے محکمہ تعلیم نے تین بینکوں اور دو موبائل کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا ہے، سرکاری اسکولوں میں اندراج شدہ طلبہ کے مصدقہ اعداد و شمار کا نہ ہونا وظیفہ پروگرام پر عمل درآمد میں تاخیر کی ایک اور وجہ ہے۔”

ایک ماہر تعلیم نے بتایا کہ ایسے وظیفے پروگرام کے حوالے سے پنجاب میں اثرات کے جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button