زلی خیل اور دوتانی پھر مورچہ زن، جنوبی وزیرستان میں حالات کشیدہ

جنوبی وزیرستان اراضی تنازعہ پر قبائل پھر مورچہ زن، ضلع میں حالات کشیدہ جبکہ ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں خوگا خیل قوم نے ایک بار پھر این ایل سی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنڑہ ملکیت تنازعے پر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ جاری مذکرات سے مایوس ہو کر دوتانی اور زلی خیل وزیرقبائل ایک بار پھر مورچہ زن ہو گئے۔

انگریز مثل پر مذکورہ دونوں متحارب قبائل متفق لیکن مقامی ضلعی انتظامیہ مثل دکھانے میں ناکام، دوتانی قبائل حکومتی مثل پر دستخط کرنے سے گریزاں ہو گئے ہیں۔

دوتانی قبائل نے اپنا موقف اپناتے ہوئے ڈی سی جنوبی وزیرستان سے کہا کہ حکومت اور دوتانی و زلی خیل قبائل مثل کے تمام پیجز مشرانوں اور اہلکاروں کے سامنے رکھیں گے جس میں جو بھی درست اور اصلی مثل ہو گا تب فیصلے کیلئے راضی ہوں گے ورنہ مورچہ ہمارا مقدر ہے۔

دوسری جانب زلی خیل قبائل مقامی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مثل پر دستخط کر چکے ہیں لیکن دوتانی قبائل دستخط کرنے میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ڈی سی جنوبی وزیرستان جاوید اقبال نے دونوں متحارب قبائل سے مذکرات کے دوران کہا کہ حکومت کے سامنے اگر کسی فریق نے دستخط کرنے سے روگردانی کی تو حکومت مخالف گروپ کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

عوامی حلقوں کے مطابق مقامی ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس مذکورہ دلخراش واقعے کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں، حکومت کی موجودگی میں ہزاروں کی تعداد میں مسلح مورچہ زن قبائل کیخلاف ایکشن نہ لینا سوالیہ نشان ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو وزیر زلی خیل اور دوتانی قبائل کے مابین مسلح تصادم میں 6 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

لنڈیکوتل بازار میں مخالف مظاہرہ

ادھر لنڈیکوتل بازار میں خوگہ خیل قوم کے مشران نے این ایل سی حکام کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے خوگہ خیل قوم کے رہنماء برکت اللہ شنواری، خیبر سیاسی اتحاد کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنماء مفتی محمد اعجاز شنواری، تاجر یونین کے صدر حاجی جعفر شنواری، کتاب شاہ شنواری و دیگر نے کہا کہ طورخم بارڈر پر این ایل سی حکام اور خوگہ خیل کے درمیان معاہدے کو عملی شکل دیا جائے اور طورخم بارڈر پر خوگہ خیل قوم کی زمین پر مبینہ ناجائز قبضہ ختم کر کے معاہدے سے باقی رہ جانے والی زمین کی حد براری کر کے قوم کے حوالے کر دی جائے۔

 

مقررین نے کہا کہ بارڈر پر این ایل سی میں تمام نوکریاں معاہدے کے مطابق خوگہ خیل قوم کے نوجوانوں کو دی جائیں جبکہ بارڈر پر مزدوروں کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ بھی فوری طور پر بند کیا جائے۔

اس موقع پر مفتی محمد اعجاز شنواری اور برکت اللہ شنواری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طورخم بارڈر پر خوگہ خیل قوم این ایل سی و ایف بی آر کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کرنے پر کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل رضوان نذیر اور دیگر سیکورٹی حکام و اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مظاہرین نے سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام، ایف بی آر اور این ایل سی حکام سے مطالبہ کیا کہ 12 مارچ کو خوگہ خیل قوم کے ساتھ مذاکرات کر کے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button