پاراچنار کے ایک ہاتھ دونوں ٹانگ سے محروم مفت پڑھانے والے استاد

علی افضال افضال

پاراچنار سے تعلق رکھنے والے دونوں ٹانگوں اور ایک ہاتھ سے معذور نوجوان ماسٹر کرنے کے باوجود بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، گلزار حسین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں جو بھی وعدہ کرتا ہے پورا نہیں کرتا۔

پاراچنار کے نواحی علاقے لقمان خیل سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ گلزار حسین 1999 میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گئی بارودی سرنگ دھماکے میں شدید زخمی اور نتیجتاً ایک ہاتھ اور دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئے۔

گلزار حسین کا کہنا ہے کہ معذوری اور غربت کے باوجود انہوں نے گدھے پر سکول آمد و رفت کر کے بڑی مشکل سے تعلیم حاصل کی، والد اور والدہ اللہ کو پیارے جبکہ بڑے بھائی جعفر حسین کے سہارے زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں، ماسٹرز کرنے کے بعد علاقے کے ایک سکول میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں باوجود اس کے کہ تحریک انصاف حکومت کے قیام کے بعد مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والی چھ ہزار روپے تنخواہ بھی بند ہو گئی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ خصوصی گفتگو میں گلزار حسین کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ معذور افراد کے لیے اپنا کوٹہ مختص ہے مگر ہماری آواز کوئی نہیں سن رہا ہے اور نہ ہی معذوروں کے کوٹے پر کوئی بھرتی ہو رہا ہے۔

گلزار حسین نے بتایا کہ وزیر تعلیم اور دیگر اعلی حکام سے انہوں نے بار بار ملاقاتیں کیں مگر کوئی اپنا وعدہ پورا نہیں کرتا جس کی وجہ سے ان کے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، ”میں معذوری کو اپنی مجبوری نہیں سمجھتا اور معاشرے کا کارآمد شہری بن کر ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔

پاراچنار کے سوشل ایکٹوسٹ جاوید حسین جے جے کا کہنا ہے کہ سابقہ ادوار میں معذور اور نادار افراد کے لیے انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ سکالرشپ ملتی تھی، زکوٰۃ اور بیت المال کی جانب سے بھی معاونت کی جا رہی تھی اور وقتاً فوقتاً انہیں مصنوعی اعضاء بھی دیئے جاتے تھے مگر تحریک انصاف حکومت میں ایسی تبدیلی آئی کہ ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح معذور افراد بھی اپنے مسائل کے حل کیلئے پریشان ہیں۔

جاوید جے جے کا کہنا تھا کہ معذور ہونے کے باوجود گلزار حسین کا معاشرے کیلئے جو کردار ہے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے قومی سطح پر ایوارڈ دینے اور خصوصی پیکج دینے کی ضرورت ہے۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close