جنوبی وزیرستان: اراضی تنازعے پردو اقوام مورچہ زن ہوگئے

جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی کے قریب سپرکئی وزیر اور نانو خیل محسود اقوام کے درمیان گزشتہ شب سے لڑائی جاری ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق دونوں اقوام کے درمیان زمینی تنازعے پرلڑائی شروع ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں اطراف کے جنگجووں پہاڑوں میں مورچہ زن ہیں، مورچوں سے ایک دوسرے پر چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی خبر نہیں ملی۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس لڑائی کو رکوانے میں کردار ادار نہیں کررہی۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ ڈپٹی کمشنر حمیداللہ خٹک نے اے سی سرویکئی اور مشران کا جرگہ بھیج دیا۔ ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر اور مشران کو فوری طور پر لڑائی رکوانے کا ٹاسک دیا ہے۔ انہوں نے ہدایات جاری کی ہے کہ دونوں اطراف کے افراد سے مورچے خالی کرائے جائیں۔

واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں زمینی تنازعات پرجھگڑوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ضلع کرم کے بالش خیل قبائل کے سینکڑوں خاندانوں نے احتجاجاً اپنے علاقے سے نقل مکانی کر کے احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے اور پاڑہ چمکنی قبائل کا زمینوں پر قبضہ ختم کرانے میں حکومت کی عدم دلچسپی اور ناانصافیوں پر احتجاجاً گھروں کی چابیاں حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرین کے مطابق بار بار انتظامیہ سے رجوع کرنے اور احتجاج کے باوجود مسئلے کے حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور گذشتہ دنوں اس اراضی جھڑپوں کے بعد انتظامیہ اور پولیس سمیت متعلقہ حکام نے بالش خیل قبائل کو حقوق دینے کی بجائے ان پر مزید مظالم ڈھائے گئے اور بے گناہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناانصافی پر مبنی فیصلوں کے خلاف احتجاجاً بالش خیل قبائل کے سینکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کر لی اور مین شاہراہ سمیت فٹبال گراؤنڈ پر احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دے رہے ہیں جو مسلے کے حل تک جاری رہے گا۔

رہنماؤں نے کہا کہ ہماری ہزاروں ایکڑ اراضی پر پاڑہ چمکنی قبائل نے قبضہ کیا ہے اگر ہماری زمینیں واگزار نہ کی گئیں تو حکومت ہمارے گھر بھی قابضین کے حوالے کر دے جس کیلئے ہم اپنے مکانات کی چابیاں حکومت کے پاس احتجاجاً جمع کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے مئی 2020 میں شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ میں بھی دو قبیلوں کے مابین زمین کے تنازعہ پر خونریز جھڑپ میں 21 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق میرانشاہ کے گاؤں تپی میں زمین کے تنازعے پر خونریز جھڑپ ہوئی جس میں ڈنڈوں اور چھریوں کا کھل کر استعمال کیا گیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button