کھیل

باغ امن میلہ: شدت پسندی کے خاتمے کا پیغام

شاہد خان

ضلع خیبر کے سماجی کارکن سعید خان، مختلف سکولوں کے بچے اور علاقہ مشران تیراہ میدان میں بچوں کے ٹیبلوز، ملٹری پولیس کے بائیک رائیڈرز کی مہارت، خٹک ڈانس اور علاقائی رقص کے بعد فوج کے جوانوں کی پیراگلائیڈنگ سے محظوظ ہو رہے ہیں اور بہت خوش بھی دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ایک عرصے بعد ضلع خیبر کا امن لوٹ آیا ہے۔

ضلع خیبر کے تیراہ میدان میں پاک آرمی اور ایف سی کی جانب باغ امن میلے کے مناظر دیکھ کر سعید خان سمجھتا ہے کہ میلے کا انعقاد دنیا بھر کو یہ پیغام دینے کے لئے کافی ہے کہ اب صوبہ بھر خصوصاً قبائلی اضلاع سے شدت پسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے اور امن بحال ہو چکا ہے، شدت پسندی کے خلاف طویل جنگ میں خیبر سمیت تمام قبائلی اضلاع کی عوام نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، باغ امن میلے میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر کے یہاں کی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ضلع خیبر خصوصاً وادی تیراہ سے شدت پسندی کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔

سعید خان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ اس پسماندہ ضلع کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے، یہاں پر ترقیاتی کاموں کو ترجیح دی جائے، امن کی بحالی کے ساتھ ہی حکومت ضلع خیبر کے سیاحتی مقامات کو توجہ دے تو ضلع خیبر کی وادی تیراہ خوبصورتی کے لحاظ سے دنیا کے کسی بھی صحت افزا مقام سے کم نہیں، یہاں کا موسم، یہاں کی آب و ہوا اور دلکش نظارے سیاحوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کافی ہیں، ایک بار کسی سیاح نے تیراہ دیکھ لیا تو دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ پھر وہ کسی اور جگہ سیر کے لئے جانے کا سوچے گا بھی نہیں، تیراہ میں سیاحت کے فروغ کے لئے کام کیا گیا تو یہاں کی سیاحت ملکی معاشی استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ضلع خیبر کی وادی تیراہ جتنا خوبصورت علاقہ ہے اتنے ہی اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ تیراہ میں سکول اور مراکز صحت نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو سکول و مراکز صحت موجود ہیں ان میں سہولیات کا فقدان ہے۔ تیراہ کے بیشتر بچے سکول کی کمی کے باعث تعلیم ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اگر کوئی طالب علم میٹرک تک تعلیم کے حصول میں کامیاب ہو جائے تو پھر کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ کئی ہونہار طلبہ غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اسی طرح قبائلی ضلع خیبر خصوصاً تیراہ کے عوام کو صحت کی سہولت بھی میسر نہیں، لوگوں کو معمولی بیمار کی صورت میں بھی پشاور کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے، بعض اوقات مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتا ہے۔ تیراہ کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں جبکہ شدت پسندی کےخلاف جنگ میں مکینوں کا کاروبار بھی تباہ ہو گیا ہے۔

سعید خان اور میلے میں شریک دیگر مقامی عمائدین نے وفاقی و صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امن کے قیام کو براقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس علاقے کے بچے بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کیاجائے، ضلع خیبر میں سکول قائم کئے جائیں، پہلے سے موجود سکولوں کو سہولیات دی جائیں، وادی تیراہ میں کالجز اور ایک یونیورسٹی کا قیام ضروری ہے تاکہ یہاں کے بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع اپنے ہی علاقے میں میسر ہوں، حکومت سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پورے ضلع میں صحت کی سہولیات مہیا کرے تاکہ شہریوں کو زندگی آسان ہو اور قبائلی لوگ بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

اس سے قبل میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران پاک فوج کے افسران سمیت دیگر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وادی تیراہ میں امن کی بحالی کےلئے جوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اس لئے علاقے میں امن کی فضاء کو برقرار رکھنے کے لئے شہری اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، حالات جیسے بھی ہوں فوج کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button