لائف سٹائلکالم

ضم اضلاع میں جنگلات کا فروغ اور ہمارے افسران

محمد سہیل مونس

پاکستان کے نئے ضم شدہ اضلاع میں ملک کے باقی حصوں کی طرح جنگلات کے فروغ پہ کام کرنے کے لئے پر تولے جا رہے تھے جس کا مقصد ملک میں بڑے پیمانے پر جنگلات کی بڑھوتری کو ممکن بنانا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سربراہی میں پچھلے سال دو اگست کو ایک بیٹھک ہوئی تھی جس میں قبائلی عمائدین کے علاوہ محکمہ جنگلات کے افسران، صوبائی وزراء، سیکرٹری قانون، چیف سیکرٹری اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے شرکت کی تھی۔

اس بیٹھک میں یہ طے پایا تھا کہ ضم شدہ اضلاع میں وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ جنگلات میں اضافے کی جانب جائیں گے۔ اس اقدام سے اگر ایک جانب موسمی تغیر و تبدل میں کمی واقع ہو گی تو دوسری جانب ماحول آلودگی سے بچا رہے گا۔ اس کے علاوہ یہاں کے عوام جنگلات کے فوائد سے استفادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے جبکہ ان علاقوں کی خوبصورتی کی وجہ سے سیر و سیاحت میں نمایاں اضافہ نظر آئے گا۔

ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے طے یہی پایا تھا کہ حکومت جنگلات میں اضافہ کی مد میں مقامی لوگوں سے ہر قسم کی مشاورت، تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مدد فراہم کرے گی۔ ان عوامل سے ضم شدہ اضلاع میں جنگلات میں اضافہ ہو گا، یہاں کے لوگ ان جنگلات سے اپنے گھریلو استعمال کے لئے بھی لکڑی حاصل کرنے کے قابل ہوں گے جب کہ زندگی کی گاڑی کو چلانے واسطے انہی جنگلات کی لکڑی کا کاروبار بھی بلاخوف و خطر کریں گے۔ ان جنگلات سے ماحول خوشگوار ہو گا اور مضافاتی علاقوں میں پھیلی آلودگی میں کمی واقع ہو گی جس سے سانس و گلے کے بیشتر امراض کا تدارک بھی ممکن ہو سکے گا۔

انہی جنگلات کی وجہ سے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ سیاح ان علاقوں میں گھومنے آئیں گے صرف مری، گلیات ، سوات، کاغان ناران ہی نہیں تیراہ، باجوڑ، مہمند اور وزیرستانیوں کی سرزمین بھی اس قابل ہو جائے گی جہاں سے کافی آمدن ممکن ہو پائے گی جو علاقے کے مفاد میں ایک خوش کن امر ہے۔ اس بیٹھک میں پہلے تو طے یہ پایا کہ حکومت اگر ہر ممکن کوشش کرے گی تو جنگلات کی آمدن میں سے بیس فیصدی حصہ اس کا ہو گا لیکن بیٹھک کے اختتام پر یہ شرط ختم کر کے مسلسل پانچ برس تک سو فیصد فوائد صرف اور صرف مقامی لوگوں کے لئے چھوڑے گئے اور پانچ برس بعد بیس فیصد آمدن کی شرط لاگو کرنے پر اتفاق ہوا۔ سارے عمائدین اور وزراء سمیت محکموں کے افسران نے اس اقدام کو بڑا سراہا اور صوبائی حکومت سے اس طرح کے دیگر منصوبوں کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا۔

اب نہ جانے ملک کے کتنے ضم اضلاع میں اس منصوبے پر من و عن عمل ہو پایا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ چند ماہ پیشتر ضلع جمرود میں پشاور ٹو لنڈیکوتل ریلوے ٹریک کے قریب چند افسران کو بمع پلے کارڈز اور بینرز کے دیکھا جو پرانے زمانے کے ہرے بھرے کیکروں کے ساتھ کھڑے تھے اور شجرکاری مہم کے لئے ویڈیوز بنا رہے تھے۔ اس حرکت پہ ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی کہ نہ جانے کب یہ مخلوق سدھرے گی، اگر حکومت جنگلات کے فروغ اور شجرکاری مہم چلانے کا قصد کرتی ہے تو یہ افسران اپنے ہتھکنڈوں سے باز کیوں نہیں آتے۔

یہ نظارہ تو اپنے پڑوس میں دیکھا لیکن ذہن اس منصوبے کی جانب گیا جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کر چکے تھے۔ سوچ میں پڑ گیا کہ ان جنگلات کا کیا ہوا ہو گا، آیا ضم شدہ اضلاع میں جنگلات کی بڑھوتری کا کام شروع ہو چکا ہو گا کہ نہیں ابھی ادارے اور وزراء محو خواب تو نہیں۔ ہاں ایک بات نو ماہ پرانی بیٹھک میں یہ بھی طے پائی تھی کہ کئی پہاڑوں پہ جنگلات تو لگائے جائیں گے لیکن ان میں موجود بیش قیمت معدنیات کے حصے کا خاص خیال رکھا جائے گا تاکہ اس سے بھی استفادہ حاصل کرنے میں مسائل درپیش نہ آئیں۔ اب اگر اس مصلحت کے تحت نو ماہ سے یہ منصوبہ رکا ہوا ہو تو ہو ورنہ وہاں کی معدنیات کو بھی کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہو گا۔

خیر جنگلات کے کئی فوائد ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر ایک صرف سیاحت کی انڈسٹری کو دوام ملا اور ترقی ہوئی تو نہ صرف ملک میں بیرون ملک سے آنے والوں کو سیر و سیاحت کے لئے نئے سپاٹس میسر آئیں گے بلکہ ہوٹلنگ انڈسٹری بوسٹ کرے گی، مواصلات کا نظام خودبخود بہتر ہونا شروع ہو جائے گا، اس سے آمدن کے ذرائع بہتر ہوں گے تو ضم شدہ علاقوں کی غربت اور بے روزگاری ختم ہو جائے گی۔ اس ایک منصوبے سے اگر پاکستان پہ خوش قسمتی کے کئی در وا ہو سکتے ہیں تو اس سے بہتر سودا کوئی نہیں۔

اگر حکومت ابھی تک اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہے یا کچھ مسائل آڑے آ رہے ہیں تو بغیر وقت ضائع کئے اس پہ کام بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام کوئی ایران سے سستے تیل کی پائپ لائن تو نہیں جس پر سعودی عرب یا امریکہ اعتراض کرے، اگر مقامی لوگ سکھی ہو رہے ہیں اور ان کے مسائل صرف باعزت روزگار کی فراہمی اور ایک نارمل قسم کی زندگی گزارنے سے حل ہو سکتے ہیں تو کیوں نا حکومت اس طرح کے کاموں میں بدرجہ اتم دلچسپی دکھائے اور اہل علاقہ کو امن سے زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

monis
محمد مونس سہیل بنیادی طور پر ایک شاعر و ادیب ہیں، ڈرامہ و افسانہ نگاری کے علاوہ گزشتہ پچیس سال سے مختلف اخبارات میں سیاسی و سماجی مسائل پر کالم بھی لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button