سفر انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اپنے اندر کئی تجربات بھی سمیٹے ہوتا ہے۔ خاص طور پر طویل سفر کے دوران راستے میں مختلف ضروریات سامنے آتی رہتی ہیں۔

 

 کبھی پیاس لگتی ہے، کبھی چائے پینے کو دل چاہتا ہے اور کبھی بچے بھوک کی وجہ سے کسی چیز کی فرمائش کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں راستے میں موجود سہولتیں سفر کو آسان بنانے اور مسافروں کو کچھ دیر آرام کا موقع دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

 

موٹروے پر قائم سروس ایریاز میں مسافروں کو کھانے پینے اور آرام کرنے کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، لیکن یہاں اشیا کی قیمتیں عام مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا معاملہ اکثر توجہ کا باعث بنتا ہے۔ طویل سفر کے دوران ان مقامات پر رکنا بعض اوقات ضرورت بن جاتا ہے، اس لیے مسافروں کے پاس خریداری کے متبادل مواقع بھی محدود ہوتے ہیں۔

 

موٹروے پر جوس کی قیمت میں کتنا فرق ہوتا ہے؟

 

موٹروے پر سفر کے دوران مجھے بھی اشیا کی قیمتوں میں فرق کا تجربہ ہوا۔  پیاس لگنے پر ایک سروس ایریا میں جوس خریدنے کے لیے رکی تو قیمت دیکھ کر حیرت ہوئی۔ عام دکانوں پر 50 یا 60 روپے میں ملنے والا جوس موٹروے پر بعض جگہوں پر 100 یا 150 روپے میں دستیاب تھا، جبکہ کچھ مصنوعات کی قیمت 200 روپے تک تھی۔ قیمت کا فرق برانڈ اور بوتل کے سائز کے لحاظ سے بھی ہو سکتا ہے۔

 

 

عام بازار میں خریدار کو مختلف دکانوں پر قیمتیں معلوم کرنے اور اپنی پسند کے مطابق چیز خریدنے کا موقع ملتا ہے، لیکن موٹروے پر اگلے سروس ایریا تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مسافر اکثر قیمت زیادہ ہونے کے باوجود ضرورت کے تحت خریداری کرتا ہے۔

 

چائے اور دوسری اشیا بھی مہنگی

 

چائے کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ عام دکانوں پر چائے کی ایک پیالی تقریباً 50 سے 100 روپے میں ملتی ہے، جبکہ موٹروے کے بعض سروس ایریاز میں اس کی قیمت 200، 250 یا 300 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

 اسی طرح پانی، چپس، بسکٹ اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی مسافروں کے اخراجات بڑھا سکتی ہیں۔

 

اگر ایک گاڑی میں خاندان کے کئی افراد سفر کر رہے ہوں تو چائے اور کھانے پینے کی چیزیں خریدنے پر مجموعی خرچ خاصا بڑھ جاتا ہے۔ ہر شخص کی مالی استطاعت بھی یکساں نہیں ہوتی، اس لیے ضروری ہے کہ ان مقامات پر اشیا کی قیمتیں مقرر کرتے وقت عام صارف کی قوت خرید کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

 

 

ٹول ٹیکس کے بعد اضافی خرچ کیوں؟

 

موٹروے استعمال کرنے والے مسافر پہلے ہی ٹول پلازوں پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر انہیں بنیادی ضروریات خریدنے کے لیے عام مارکیٹ سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے تو قیمتوں کے تعین پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

 

 مسافروں کی توقع ہوتی ہے کہ ٹول ٹیکس ادا کرنے کے بعد انہیں راستے میں مناسب سہولتیں میسر ہوں اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں غیر ضروری فرق نہ ہو۔

 

 

دوسری جانب سروس ایریاز میں کاروبار کرنے والوں کے اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ دکان یا جگہ کا کرایہ، بجلی کے بل، ملازمین کی تنخواہیں اور سامان کی ترسیل کاروباری لاگت میں شامل ہیں۔ تاہم ان اخراجات کی بنیاد پر قیمتوں میں کتنا اضافہ مناسب ہے، اس کا تعین شفاف انداز میں ہونا چاہیے تاکہ کاروبار بھی جاری رہے اور صارفین پر غیر ضروری بوجھ بھی نہ پڑے۔

 

 

 قیمتوں کی نگرانی ضروری ہے

 

سروس ایریاز کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو اشیا کی قیمتوں اور معیار کی نگرانی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ دکانوں پر قیمتوں کی فہرست واضح طور پر آویزاں ہو تاکہ مسافر خریداری سے پہلے قیمت جان سکیں۔

 

 اس کے علاوہ مختلف اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لے کر یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ان میں فرق کاروباری اخراجات کے مطابق ہے یا اس میں غیر ضروری اضافہ کیا گیا ہے۔

 

میرے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر جوس کی قیمت سے متعلق تھا، لیکن حقیقت میں یہ موٹروے پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے ایک وسیع مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

 

 سوال صرف ایک جوس کی بوتل مہنگی ملنے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سفر کے دوران مسافروں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عام مارکیٹ سے زیادہ قیمتیں کیوں ادا کرنا پڑتی ہیں اور اس فرق کو مناسب حد میں رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

 

موٹروے پر سروس ایریاز کا مقصد مسافروں کو سفر کے دوران سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری مفادات اور صارفین کی ضروریات کے درمیان توازن رکھا جائے، تاکہ مسافر راستے میں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر معمولی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

 

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔