پشاور میں وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس دو راستے تھے، یا تو صوبے اور اس کے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا یا پھر انہیں دہشت گردی اور بدامنی سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کیے جاتے۔

 

 ان کے بقول عوام کو ریلیف دینے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مجبوراً خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔

 

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم خود صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں اور دہشت گردی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رہیں گی، ایپکس کمیٹی

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا بھی ترقی کرے اور یہاں کے عوام کو وہی سہولیات ملیں جو دوسرے صوبوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔

 

 ان کے مطابق نئے انتظامی سیٹ اپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔

 

امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ 13 سال سے مشکلات کا سامنا کر رہے تھے اور صوبے کے چار کروڑ شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔

 

 انہوں نے تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے عوامی مفادات سے کوئی سروکار نہیں تھا اور صوبے میں گزشتہ 13 سال کے دوران مبینہ طور پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا، جس کا احتساب ہونا چاہیے۔

 

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ عوام تحریک انصاف کی حکومت سے تنگ آ چکے تھے اور انہوں نے پارٹی کے دعووں اور نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کو توقع تھی کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

 

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبے کے عوام نے گورنر راج کے نفاذ پر خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس دن کو یومِ نجات کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی کے آلۂ کار نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

 

امیر مقام نے کہا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔