کچھ دن پہلے پشاور میں ایک ایسا کیس سامنے آیا، جس نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک نوجوان قبروں سے بچوں اور بچیوں کو نکالتا تھا۔ اگر بچہ ہوتا تو اسے چھوڑ دیتا، لیکن اگر بچیوں کی ہوتی تو اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا۔ بعد ازاں علاقے کے لوگوں نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس ملزم کو جائے وقوعہ پر لے جا رہی تھی کہ راستے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ملزم بھی مارا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی لانگ مارچ کب اور کہاں سے شروع ہوگا؟ شوکت یوسفزئی نے تفصیلات بتادیں
یہ صرف ایک خبر نہیں تھی بلکہ ہر والدین اور خاندان کے لیے ایک صدمہ تھا کہ ہم یہاں زندہ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سزا دلوانے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف قبروں میں دفن مردہ بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

یہاں ہر والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچے محفوظ ہوں، انہیں اچھی تعلیم اور اچھے اسکول میں بھیجا جائے اور ہر ممکن خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔
لیکن خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں آج بھی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
آیات نور، اشمل اور نہ جانے کتنے ایسے بچے ہیں جنہیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ ان کے نام کچھ عرصے کے لیے خبروں میں آئے، لوگوں نے افسوس کیا، انصاف کا مطالبہ کیا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ نام ہماری یادوں سے دھندلے ہوتے گئے۔
ہم اکثر کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، تشدد یا قتل کی خبر سنتے ہیں تو چند دنوں کے لیے غم اور غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوسٹس کی جاتی ہیں، انصاف کا مطالبہ ہوتا ہے اور مجرم کو سزا دینے کی بات کی جاتی ہے۔ پھر کچھ دن بعد وہ واقعہ ہماری خبروں سے غائب ہو جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے: کیا ایک بچے کے لیے بھی یہ واقعہ اتنی جلدی ختم ہو جاتا ہے؟
2026 کے پہلے چھ ماہ، یعنی جنوری سے جون تک، ساحل، جو بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہے، کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف اخبارات میں بچوں کے خلاف زیادتی کے 1,914 رپورٹ شدہ کیسز سامنے آئے۔
ان میں 1,015 جنسی زیادتی، 558 اغوا، 101 گمشدگی، 35 کم عمری کی شادی اور 98 ایسے کیسز شامل تھے جن میں جنسی زیادتی کے بعد فحش مواد بنانے یا اس سے متعلق واقعات کا ذکر تھا۔ 49 نومولود بچوں کو چھوڑے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کے اخبارات سے جمع کیے گئے تھے۔

ساحل پاکستان میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، جو بچوں کے خلاف زیادتی اور تشدد کے رپورٹ شدہ واقعات کے اعداد و شمار جمع اور شائع کرتی ہے۔ اس کی رپورٹس پاکستان میں بچوں کے تحفظ کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
یہ صرف اعداد نہیں ہیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک بچہ ہے۔ ایک خاندان ہے۔ ایک خوف ہے۔ ایک ایسا واقعہ ہے جو شاید اس بچے کی پوری زندگی پر اثر ڈال دے۔اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہو سکے۔

بہت سے واقعات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو پولیس، عدالت یا میڈیا تک پہنچ ہی نہ پاتے ہوں۔ یہیں سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: آخر ہمارے بچے غیر محفوظ کیوں ہیں؟
خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی سے نہیں ہوتا۔ ہم اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ اجنبی کے ساتھ نہیں جانا، کسی اجنبی سے چیز نہیں لینی اور کسی نامعلوم شخص سے بات نہیں کرنی۔ لیکن ہم اکثر انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ اگر کوئی جاننے والا شخص انہیں غیر آرام دہ محسوس کروائے تو انہیں کیا کرنا ہے۔
اگر کوئی انہیں غلط طریقے سے چھوئے، کوئی تحفہ دے کر خاموش رہنے کو کہے، کوئی ایسا راز رکھنے پر مجبور کرے جس سے وہ پریشان ہوں، یا کوئی بھی ایسا رویہ اختیار کرے جو انہیں غیر محفوظ محسوس ہو تو انہیں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

ساحل کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ رپورٹ شدہ کیسز میں بڑی تعداد ایسے مبینہ ملزمان کی تھی جنہیں بچے جانتے تھے، جبکہ تقریباً 45 فیصد واقعات بچوں کی اپنی رہائش گاہوں میں رپورٹ ہوئے۔ یہ حقیقت ہمیں اپنے گھروں اور قریبی تعلقات کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے عمران ٹکر سے گفتگو کی۔
عمران ٹکر بچوں کے حقوق اور بچوں کے تحفظ کے شعبے میں طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر قتل کے واقعات کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مسئلے کو صرف ایک فرد کے جرم کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ معاشرتی اور حکومتی دونوں سطحوں کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی۔

ان کے مطابق ہمارے معاشرے میں والدین میں بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ والدین اکثر بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن بچے کو تحفظ دینا، اس سے مسلسل بات کرنا اور اس کی بات سننا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ان کے مطابق مسئلہ صرف والدین تک محدود نہیں۔ اساتذہ، مدارس، سیاسی نمائندگان، مقامی عمائدین، جرگہ ارکان، نوجوان، میڈیا، رضاکار اور سماجی تنظیمیں بھی معاشرے کا حصہ ہیں۔

ہر طبقہ اپنے طور پر سڑکیں، پل، صحت، تعلیم، غریبوں کی مدد اور دیگر کاموں پر توجہ دیتا ہے، لیکن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل جیسے جرائم کی روک تھام پر وہ توجہ ہمیشہ نظر نہیں آتی جس کی ضرورت ہے۔
عمران ٹکر نے حکومتی اداروں کی ذمہ داری کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق پولیس، فرانزک، سماجی بہبود، بچوں کے تحفظ کے ادارے، انسانی حقوق کے متعلقہ ادارے، عدالتیں، صحت اور تعلیم کے محکمے سب بچوں کے تحفظ کے نظام کا حصہ ہیں۔
صرف قانون بنانا کافی نہیں۔ ان قوانین پر عمل درآمد، اداروں کے درمیان رابطہ، مناسب بجٹ، فرانزک سہولیات، بروقت تفتیش اور عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر کارروائی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے ایک اور اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی کہ بعض علاقوں میں کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے یا روایتی جرگوں اور صلح کے ذریعے معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض اوقات متاثرہ خاندان پر بھی صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔لیکن جب ایک بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اسے خاموش کرا دینا مسئلے کا حل نہیں۔
عمران ٹکر کے مطابق بچے جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بڑوں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد موجود بڑوں پر اعتماد کرتے ہیں، اور بعض اوقات یہی اعتماد ان کے خلاف استعمال ہو جاتا ہے۔
اسی لیے بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہر بڑے کے ساتھ احترام اپنی جگہ، لیکن اس کے جسم کی حدود کا احترام بھی ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض واقعات میں بچے کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی ایک وجہ جرم کو چھپانا بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ملزم کو خوف ہوتا ہے کہ بچہ گھر والوں کو حقیقت بتا دے گا اور اس کے خلاف کارروائی ہو جائے گی۔ ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہے۔
بچے کے ذہن پر اس واقعے کا کیا اثر ہوتا ہے؟اسی سوال پر میں نے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بشریٰ سجاد سے بھی گفتگو کی۔
ڈاکٹر بشریٰ سجاد ماہرِ نفسیات اور تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں شعبۂ نفسیات سے وابستہ رہی ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ سجاد کے مطابق ہر واقعے کی صورتحال ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض کیسز میں نفسیاتی عوامل شامل ہو سکتے ہیں جبکہ بعض میں سماجی اور ماحول سے متعلق عوامل بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بڑے عمر کے لوگ چھوٹی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کیسے کر سکتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس کی چار وجوہات ہو سکتی ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس بڑے عمر کے انسان کے ساتھ خود بچپن میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو، جس کی وجہ سے وہ آگے بچوں کے ساتھ ایسا کرتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بڑے عمر میں بعض لوگ غربت کا شکار ہو جاتے ہیں یا بے گھر ہو جاتے ہیں، یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

تیسری وجہ طاقت اور اختیار کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ گھر کا کوئی بڑا فرد، انکل، چچا یا کوئی مولوی، استاد یا کوئی بھی ایسا شخص جس کے پاس اختیار ہو، وہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے بچوں کو ہراساں کر سکتا ہے یا ان کے ساتھ زیادتی کر سکتا ہے۔
چوتھی وجہ سماجی عوامل ہو سکتے ہیں، یعنی بچے کے اردگرد کا ماحول اور معاشرتی حالات بھی اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق بچے جسمانی، ذہنی، جذباتی اور مالی طور پر بڑوں پر انحصار کرتے ہیں، اسی وجہ سے وہ بعض اوقات آسان ہدف بن جاتے ہیں۔انہوں نے ہمارے مشترکہ خاندانی اور سماجی ماحول میں حدود کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ہمارے معاشرے میں رشتہ داروں، پڑوسیوں اور اردگرد کے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہوتے ہیں۔

بچے اکثر ان لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں، ان کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں اور کبھی کبھی ان کی گود میں بھی بیٹھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر شخص کی نیت ظاہری طور پر نہیں جان سکتے۔اسی لیے بچوں کو اپنی ذاتی حدود کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر بشریٰ کے مطابق بچپن میں جنسی زیادتی کا تجربہ بچے کے ذہن اور شخصیت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ بچہ اس واقعے کو بھول نہیں پاتا اور اس کے اثرات اس کی زندگی میں دیر تک رہ سکتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے سب سے ضروری چیز صرف نگرانی نہیں بلکہ اعتماد کا رشتہ ہے۔بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کبھی کوئی غلط بات ہو تو وہ اپنے والدین سے ڈر کے بغیر بات کر سکتا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو اچھا اسکول اور بہتر مستقبل دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں اپنی حفاظت کے بارے میں بھی سکھا رہے ہیں؟بچوں کو بتانا ہوگا کہ ان کا جسم ان کی اپنی ملکیت ہے، "نہیں" کہنا غلط نہیں اور مدد مانگنا کمزوری نہیں۔
بچوں کا تحفظ صرف والدین کی نہیں، بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کیونکہ ہر بچہ محفوظ بچپن اور محفوظ مستقبل کا حق رکھتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
