ہم ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ  ’’آپ کی عزت‘‘  میں بے وفائی، ازدواجی زندگی، میاں بیوی کے درمیان اعتماد، رشتوں میں پیدا ہونے والی دوری اور محبت کے بدلتے رویوں جیسے موضوعات کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے تحریر کردہ اس ڈرامے کی ہدایت کاری سیف حسن نے کی ہے، جبکہ عروہ حسین، احسن خان، سیف علی خان، ثانیہ سعید اور دیگر اداکار مختلف کرداروں میں نظر آئے ۔ کہانی میں بینا کا کردار عروہ حسین، تابش کا کردار احسن خان اور بہرام خان کا کردار سیف علی خان نے ادا کیا ہے۔

 

پشتون کردار کی آمد کے بعد بحث کا رخ ازدواجی زندگی سے نکل کر پشتون شناخت اور اس کی نمائندگی تک پہنچ جاتا ہے۔ سیف علی خان کا کردار بہرام خان ایک پشتون سبزی فروش کے طور پر دکھایا گیا ہے، جو بینا نامی ایسی خاتون سے قربت اختیار کرتا ہے جو اس سے عمر میں بڑی ہے۔ کہانی میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بہرام کی اس قربت کے پیچھے بینا کی دولت حاصل کرنے کا لالچ موجود ہے۔

 

 

اس کردار کے ساتھ پشتون شناخت، لباس اور بعض رویے جوڑنے پر ناظرین کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک پشتون شخص کو سبزی فروش، لالچی اور اپنی عمر سے کئی سال بڑی خاتون سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کے طور پر پیش کرنا، جبکہ اس کے لباس اور حلیے کو بھی مخصوص انداز میں دکھانا، پشتون معاشرے کی حقیقی تصویر کے برعکس ہے اور اس سے پوری قوم کی تذلیل کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

 

یہ معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی تک بھی پہنچا، جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی رکن ریحانہ اسماعیل نے ’’آپ کی عزت‘‘ کے خلاف قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈرامے میں پشتون کردار کو لالچی سبزی فروش اور غیر اخلاقی رویے کے حامل شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ قرارداد میں پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) سے معاملے کا جائزہ لینے اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

 

 یہ قرارداد 21 ستمبر 2026 کو خیبرپختونخوا اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کی۔ اس میں قومی ذرائع ابلاغ میں پشتون کرداروں کو محدود سماجی پیشوں اور منفی خصوصیات کے ساتھ پیش کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرز کی نمائندگی سے پشتون معاشرے کے بارے میں ایک مخصوص تاثر پیدا ہوتا ہے۔

 

 

سوات سے تعلق رکھنے والی مریم بھی ڈرامے میں پشتون کردار کی پیشکش سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیف علی خان کو بنیان، شلوار اور چادر میں جس انداز سے دکھایا گیا ہے، وہ پشتون ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتا، جبکہ بہرام خان کی اہلیہ کا برقعہ بھی غیر مانوس انداز میں دکھایا گیا ہے جس پر جگہ جگہ کپڑے کے ٹکڑے لگے ہیں۔ 

 

انہیں بہرام خان کو دولت کے لالچ میں اپنی عمر سے بڑی خاتون سے تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتے دکھانے اور اس کی بیوی کی جانب سے بینا کے شوہر تابش سے معافی مانگنے پر بھی اعتراض ہے، کیونکہ ان کے مطابق پشتون معاشرے میں مرد خواتین کو عزت دیتے ہیں اور خاندان کی عزت کو اہمیت حاصل ہے۔ مریم کہتی ہیں کہ ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، لیکن جب کسی منفی کردار کو مخصوص قومیت کے ساتھ جوڑ کر دکھایا جائے تو ناظرین اسے پوری قوم کی تصویر سمجھ سکتے ہیں، اس لیے ڈراموں میں پشتون ثقافت اور معاشرتی حقیقت کو درست انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔

 

 

دوسری جانب معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان شازمہ حلیم اس بحث کو صرف ’’آپ کی عزت‘‘ تک محدود نہیں سمجھتیں۔ ان کے مطابق متعدد ڈراموں میں پشتون کرداروں کو بار بار اغوا کار، ڈرائیور، چوکیدار یا دوسرے محدود اور منفی کرداروں تک رکھا جاتا رہا ہے۔

شازمہ حلیم کہتی ہیں کہ پشتون معاشرے میں صرف ایسے کردار موجود نہیں بلکہ بے شمار مرد اور خواتین ہیں جنہوں نے پاکستان اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نام بنایا ہے۔ ان کے مطابق ڈراموں میں پشتون خواتین کی تصویر بھی کئی مرتبہ ان کی حقیقی زندگی سے مختلف دکھائی جاتی ہے۔

 

وہ کہتی ہیں کہ بعض ڈراموں میں پشتون خواتین کو مردوں کے جرگوں میں بیٹھا ہوا دکھایا جاتا ہے، حالانکہ ان کے معاشرے میں خواتین کا احترام موجود ہے۔ ان کے مطابق جب مردوں کا جرگہ ہو تو خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ وہاں جرگہ ہورہا ہے اور وہ اس جگہ سے گزرنے سے بھی گریز کرتی ہیں۔ شازمہ حلیم کے مطابق ڈراموں میں اس معاشرتی حقیقت کو نظر انداز کرکے پشتون خواتین کی ایک مختلف تصویر سامنے لائی جاتی ہے۔

 

شازمہ حلیم پشتون خواتین کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ملالہ یوسفزئی، نگار جوہر اور دیگر پٹھان خواتین نے قومی اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ ان کے مطابق بہت سی پشتون خواتین پردے میں رہ کر بھی اپنے اپنے شعبوں میں نام پیدا کر رہی ہیں، لیکن ڈراموں میں ان کی کامیابیوں اور اصل شناخت کو سامنے لانے کے بجائے محدود کردار دکھائے جاتے ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ پشتون معاشرے میں بے شمار مرد اور خواتین ایسے ہیں جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دی ہیں، مگر ڈرامہ بنانے والے ان کامیابیوں اور پشتونوں کی اصل شناخت کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کے مطابق پشتون صرف ایک مخصوص لباس، ایک مخصوص پیشے یا ایک مخصوص منفی کردار کا نام نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے والا معاشرہ ہے۔

 

 

“ہم ایک قوم ہیں لیکن ہماری ہزار پہچانیں ہیں”

 

شازمہ حلیم پشتون معاشرے سے سوال کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ اگر پشتون اپنی ثقافت اور شناخت کی نمائندگی خود نہیں کریں گے تو دوسروں سے درست نمائندگی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق پشتونوں میں مالی طور پر مستحکم لوگ بھی موجود ہیں، لیکن اپنی ثقافت اور شناخت کو سامنے لانے کے لیے ان کے پاس اپنا مضبوط ذریعہ ابلاغ موجود نہیں۔

 

وہ مزید کہتی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں مختلف حکومتیں آئیں، لیکن پشتون ثقافت اور نمائندگی کے لیے ایسا مؤثر ذریعہ ابلاغ نہیں بنایا گیا جو پشتونوں کی اپنی کہانیاں اور ثقافت پیش کرسکے۔ شازمہ حلیم کے مطابق خیبر چینل بھی ایک پنجابی کی ملکیت ہے اور یہ بات پشتونوں کے لیے سوال پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی ثقافت اور اقدار کی نمائندگی کے لیے اپنا ذریعہ ابلاغ کیوں نہیں بنا سکے؟ ان کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر خیبرپختونخوا کی حکومت کے لیے بھی ایک سوال ہے کہ پشتون ثقافت اور شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مضبوط ذریعہ ابلاغ کیوں نہیں بنا سکتی، ہمارا اپنا چینل کیوں نہیں ہے؟

 

وہ اداکاروں کی ذمہ داری پر بھی بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کسی اداکار کو کردار قبول کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس سے معاشرے یا کسی مخصوص قوم کے بارے میں کیا تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔ شازمہ حلیم کے مطابق وہ خود کسی کردار کو قبول کرتے وقت اپنی معاشرتی حقیقت کو سامنے رکھتی ہیں، اس کا متن پڑھتی ہیں اور اگر کسی مکالمے یا کردار سے لوگوں کو تکلیف پہنچنے کا خدشہ ہو تو لکھاری سے بات کرکے تبدیلی کی کوشش کرتی ہیں۔

 

 

اداکار سیف علی خان کو مشورہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انہیں اپنے اچھے پس منظر اور اللہ کی دی ہوئی شہرت کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے کرداروں کا انتخاب کرنا چاہیے جو معاشرے کے لیے مثبت تاثر پیدا کریں۔ ان کے مطابق ایک اچھے اداکار کو ایسے کرداروں سے گریز کرنا چاہیے جو کسی مخصوص قوم کی تذلیل کا سبب بنیں۔

 

سینئر صحافی اسلام گل آفریدی پشتون نمائندگی کے اس معاملے کو ذرائع ابلاغ میں قوموں کی مجموعی نمائندگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق فلموں، تھیٹروں اور ڈراموں میں کسی قوم کی تذلیل مناسب نہیں۔ صحافی اسلام گل آفریدی کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف ’’آپ کی عزت‘‘ ڈرامے تک محدود نہیں بلکہ ماضی میں نشر ہونے والے بعض ڈراموں میں بھی پشتون قوم کو محدود اور منفی کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، لیکن کسی پوری قوم کو ایک ہی انداز میں دکھانا مناسب نہیں۔

 

وہ کہتے ہیں کہ جب کسی سیاسی جماعت یا سیاست دان کے خلاف کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو ریاستی سطح پر کارروائی کی جاتی ہے، لیکن جب کسی قوم کی تذلیل کا معاملہ ہو تو ایسا ردعمل دکھائی نہیں دیتا، چاہے معاملہ پشتونوں کا ہو، بلوچوں کا، سندھیوں کا یا پنجابیوں کا۔

 

 اسلام گل آفریدی کے مطابق ریحانہ اسماعیل کی جانب سے قرارداد پیش کرنا اس معاملے کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے، تاہم اسے عملی طور پر آگے بڑھانا اور پیمرا تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پیمرا کے متعلقہ حکام سے بات کی ہے اور ان کے مطابق اب تک اس معاملے پر وہاں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

 

 

اسلام گل آفریدی کے مطابق پشتونوں کو اپنی نمائندگی کے مسئلے میں اپنی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ پشتون لکھاریوں کو اپنی ثقافت اور معاشرے پر زیادہ کام کرنا چاہیے، پشتون اداکاروں کو آگے آنا چاہیے اور اپنی صنعت کو مضبوط بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر پشتون اپنی کہانیاں، کردار اور ثقافت خود سامنے نہیں لائیں گے تو ایسے تخلیق کار جو پشتون معاشرے کو قریب سے نہیں جانتے، وہ اس کی مکمل تصویر کیسے پیش کرسکیں گے؟

 

دوسری جانب معروف پشتو شاعر، محقق اور نقاد ڈاکٹر اباسین یوسفزئی بھی پشتون نمائندگی کے اس سوال کو صرف ایک ڈرامے تک محدود نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق جب کوئی شخص کسی دوسری قوم کے فرد سے ملتا ہے تو اسے اس فرد میں اس کی قوم کی ایک تصویر بھی نظر آتی ہے۔

 

ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کہتے ہیں کہ ایک فرد کے کردار کو پوری قوم سے جوڑ دینا زیادتی ہے کیونکہ ہر قوم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی قوم کی تذلیل کی جائے یا کسی ایک شخص کے منفی عمل کو پوری قوم کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔

 

وہ کہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ڈراموں یا محفلوں میں پنجاب، سندھ یا بلوچستان کے لوگوں کو اس طرح اجتماعی طور پر کمتر دکھایا گیا ہو، تاہم ان کے مطابق پنجاب کی جانب سے بننے والے ڈراموں میں پشتونوں کو طویل عرصے سے ٹرک ڈرائیور، چوکیدار اور اسی طرح کے چند محدود کرداروں تک رکھا جاتا رہا ہے۔

 

 ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کے مطابق پشتونوں کی اصل تصویر، ان کا معاشرہ، ثقافت اور مختلف شعبوں میں ان کی کامیابیاں ان کرداروں میں نظر نہیں آتیں۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف لکھاری تک محدود نہیں بلکہ ذرائع ابلاغ کا بھی ہے، جہاں اس طرح کے منفی کردار بار بار دکھائے جاتے ہیں۔

 

ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ادیب کی ذمہ داری کے بارے میں کہتے ہیں کہ ادیب کا مطلب ہی جوڑنے، قریب لانے اور فاصلے کم کرنے والے شخص کا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی کا قلم قوموں کے درمیان نفرت پیدا کرے اور کسی قوم کی تذلیل کا ذریعہ بنے تو یہ ادیب کے بنیادی کردار کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ قوموں کے درمیان نفرت پیدا کرتے ہیں، وہ ادیب کہلانے کے لائق نہیں اور ملک کے دشمن ہوتے ہیں۔

 

یہاں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ’’آپ کی عزت‘‘ ڈرامے میں بہرام خان کا کردار کیسا لکھا گیا، بلکہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں پشتون شناخت کو کتنی وسعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اگر سکرپٹ سے ہٹ کر سیف علی خان کی مقبولیت کو دیکھا جائے تو ’’تماشا‘‘ کے چوتھے سیزن میں ان کی موجودگی نے انہیں پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت، دبئی اور افغانستان میں موجود مداحوں تک بھی پہنچایا۔ یہی پہلو اس بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ ایک مقبول پشتون اداکار کو جب کسی کہانی میں منفی پشتون کردار دیا جاتا ہے تو اس کردار کے اثرات اس قوم کی نمائندگی پر کیا ہوتے ہیں۔

 

 

حقیقت میں سکرپٹ سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پاکستانی کرکٹ میں بیک وقت پانچ یا چھ ایسے کھلاڑی ہوتے ہیں جن کا تعلق پشتون پس منظر سے ہوتا ہے۔ صحافت، سیاست، تعلیم، طب، فنون، کھیل اور دیگر شعبوں میں بھی پشتون مردوں اور خواتین نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

 

 ملالہ یوسفزئی عالمی سطح پر تعلیم کے لیے آواز اٹھانے والی پشتون خاتون کے طور پر جانی جاتی ہیں، جبکہ نگار جوہر نے پاکستان کی فوج میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ اسی طرح پشتون فنکار، صحافی، ڈاکٹر، اساتذہ، کھلاڑی اور مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین و مرد ملک کے اندر اور باہر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔

 

 

اس وسیع اور متنوع حقیقت کے مقابلے میں جب پردۂ سکرین پر پشتون کردار بار بار سبزی فروش، ڈرائیور، چوکیدار یا دوسرے منفی کرداروں تک محدود نظر آئے تو بحث صرف ایک کردار تک نہیں رہتی بلکہ نمائندگی کے پورے طریقۂ کار پر سوال اٹھتا ہے۔

 

شاید اسی لیے ’’آپ کی عزت‘‘ ڈرامے سے اٹھنے والا اصل سوال یہ نہیں کہ ایک کردار اچھا تھا یا برا، بلکہ یہ ہے کہ جب ایک قوم کو پردۂ سکرین پر دکھایا جائے تو کیا اس کی پوری حقیقت بھی ساتھ دکھائی جاتی ہے؟ کیونکہ ایک کردار کی کہانی ختم ہوجاتی ہے، مگر اس کردار کے ذریعے بننے والی قوم کی تصویر ناظر کے ذہن میں زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے۔

 

 

ملالہ یوسفزئی، نگار جوہر، شاہد آفریدی، شاہین شاہ آفریدی، رحمت شاہ سائل، حامد کرزئی اور دیگر کئی معروف پشتون شخصیات مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ تعلیم، طب، فوج، کھیل، ادب، سیاست اور دیگر شعبوں میں ان شخصیات کی موجودگی اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کسی بھی قوم کی سماجی شناخت کو ایک ہی کردار یا ایک ہی پیشے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔