قومی

اس ایمرجنسی جیسی صورتحال میں بھی پی ائی اے کو کمائی کی پڑی ہوئی ہے: مسافر

برلن تحریر مطیع اللہ

کوروناوائرس نے دنیا بھر کو آزمائشوں میں ڈالا ہوا ہے جبکہ پردیسی مزدور پیشہ افراد گھروں سے دور اپنوں سے ملنے کے لیے بے تاب نظر اتے ہیں حکومت پاکستان نے مشرقی وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپسی لانے کے لیے خصوصی فلائٹس چلانے کا اعلان کیا جس کی بدولت دنیا بھر سے پاکستانی پردیسی انتہائی مہنگے ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہوئے، پی ائی اے کا جہاز پندرہ سال سے زائد عرصے کے بعد جرمنی کے شہر فرینکفرٹ پہنچا۔

26 اپریل کو اسلام آباد ائیر پورٹ سے پی ائی اے کا جہاز عملےکے اہلکاروں سمیت 413 مسافروں کو لیکر جرمنی کے شہر فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر پہنچا اس جہاز میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے مسافروں نے پاکستان سے نکلنے میں غنیمت جان کر مہنگے داموں ون وے ٹکٹ خریدا جس میں جرمن باشندے،  پاکستانی طالبعلم مختلف فملیز اور جابس کے ویزے رکھنے والے افراد شامل تھے جبکہ مزکورہ فلائٹ جرمنی سے صرف پچاس افراد کو واپس لیے جانے میں کامیاب ہوا۔

مختلف مسافروں نے پی ائی اے کے مہنگےداموں ٹکٹ فروخت کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ایمرجنسی جیسے صورتحال میں بھی پی ائی اے کو کمائی کی پڑی ہوئی ہے نارمل ٹکٹ سے پچاس فیصد ستر فیصد مہنگا ٹکٹ فروخت کرنا نا انصافی ہے۔

متعدد افراد نے ٹکٹس خریدنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت نے ہمارے ویزے کی معیادبڑھا دی ہے حالات نارمل ہونے پر سفر کو فوقیت دینگے۔

دوسری جانب اسلام اباد سے جرمنی پہنچنے والے مسافروں نے کہا کہ کوروناوائرس کی خوف کے باجود پی ائی اے نے کسی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی اور ناہی احتیاطی تدابیر کو اپنایا گیا۔ اسلام اباد ایئرپورٹ میں بھی کوئی خاص چیکنگ نہیں کی گئی اور ناہی احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اترتے ہی جرمنی ایمیگریشن حکام نے 15 دن گھر پر قرنطینہ پر رہنے کی ہدایت کی اور کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لیے نزدیکی ہسپتال اور فیملی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button