قومی

کورونا وائرس، چین میں پھنسے طلبہ اور ہماری تیاریاں

ٹی این این رپورٹ

حکومت پاکستان کی جانب سے چین کی پروازوں پر پابندی ہٹائے جانے کے بعد چائنا کی تین پروازیں 200 سے زائد پاکستانیوں سمیت مجموعی طور پر 288 مسافروں کو لے کر اسلام آبا ائیر پورٹ پہنچیں جن میں 40 پاکستانی طلبا بھی شامل ہیں۔

مذکورہ پروازوں میں دو اورومچی جبکہ ایک پرواز بیجنگ سے اسلام آباد پہنچی جبکہ چین کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے پاکستان کو ”ریپڈ ٹیسٹ کٹس” فراہم کر دی گئی ہیں۔

واJح رہے کہ چین میں کورونا وائرس پھیلنے کے باعث پاکستان کی جانب سے 29 جنوری تا 2 فروری تک چین کے لئے پروازوں پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی، گزشتہ روز حکومت پاکستان کی جانب سے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کے باضابطہ اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کا سلسلہ بحال ہو گیا ہے۔

ہوائی اڈے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا چین کے سفیر اور چینی سفارتی عملہ ایئر پورٹ پر موجود تھا، اورومچی سے آنے والی مسافروں کے ہیلتھ کاؤنٹر پر سکریننگ ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد انھیں امیگریشن کے مرحلے سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

حکام کے مطابق کسی بھی مسافر میں کورونا وائرس کی علامات نہیں پائی گئیں، اسلام آباد ائیر پورٹ پر آنے والی غیر ملکی پروازوں کے مسافروں کی مکمل سکریننگ کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام تر احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جا رہی ہیں اور کسی بھی مسافر کو معمولی بخار کی صورت میں بھی فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔

چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی اپیل

قبل ازیں یہ اطلاعات تھیں کہ چائنہ شہر ووہان کی مختلف اعلیٰ درسگاہوں میں زیر تعلیم  میڈیکل، انجینئرنگ اور میٹریل سائنس سمیت دیگر مضامین کے  تقریباً  1300 پاکستانی طلبہ پھنسے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کیلئے چائنہ حکومت کی اِجازت کے باوجود پاکستانی سفارتحانے کی طرف سے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اُٹھائے گئے ہیں۔

ان طلبہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے ووہان سے سارے پاکستانیوں کو نکالنے کیلئے 14 دن کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن 14 دن پر پاکستانیوں نے اعتراضات اُٹھائے ہیں کہ یہ دو ہفتے کب سے شروع ہیں اور کب ختم ہو ں گے، یہاں ہم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اور کمروں میں بند ہیں جبکہ سفاترحانے کے فارم بھی تمام پاکستانیوں نے پُر کئے ہیں لیکن سفارتحانہ کوئی ایکشن نہیں لے رہا، باقی ُدنیا کو پروازیں شروع ہیں اور وہ اپنے طلبہ اور شہریوں کو ووہان سے نکال رہے ہیں صرف پاکستانی رہ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں:

کیا کورونا وائرس کے خیبر پختونخوا میں پھیلنے کا خدشہ ہے؟

تھائی لینڈ کا کورونا وائرس کے علاج میں کامیابی کا دعویٰ

مردان سے کورونا کا مشتبہ مریض ایل آر ایچ منتقل

شانگلہ میں چینی باشندوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا فیصلہ

کورونا وائرس، چین میں پھنسے پختون کس حال میں ہیں؟

بٹگرام کے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے الگ وارڈز

ووہان میں موجود بنوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم امجد نے ویڈیو پیغام میں حکومت پاکستان سے اپیل کی اور کہا کہ ابھی ہم وائرس سے محفوظ ہیں تاخیر ہوئی تو ہمیں بھی لاحق ہوسکتا ہے، شبلی فراز کا چائنہ میں زیر تعلیم طلبہ کو پیسے اور خوراک بھیجنے کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے، ہمیں پیسے نہیں چاہئیں، بس پاکستان فوری طور پر خصوصی طیارے بھیج کر ہمیں پاکستان لے جائیں، اگر پاکستان کے پاس پیسے نہیں تو ٹکٹ بھی ہم خود پے کریں گے لہذا جس طرح بھی ہو مزید تاخیر نہ کی جائے۔

چین میں سترہ ہزار سے زائد متاثر، 361 ہلاک

خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے مزید 57 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد چین میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تعداد 2002 سے 2003 کے درمیان چین میں سارس کی وبا سے مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے، سارس کی وبا سے چین میں 349 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس کے 2 ہزار 829 نئے کیس بھی رپورٹ ہوئے جس کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار 200 سے زائد ہو گئی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق 24 ممالک میں بھی اب تک کورونا وائرس رپورٹ ہو چکا ہے جن کی تعداد 149 ہے، چین کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 20 کیسز جاپان میں سامنے آئے، امریکا میں متاثرہ افراد کی تعداد 9 ہوگئی ہے جبکہ بھارتی ریاست کیرالا میں کورونا وائرس کا دوسرا کیس سامنے آ گیا ہے۔

اسی طرح ووہان سے فرانس لوٹنے والے 20 افراد میں کورونا کی علامات پائی گئی ہیں جس کے بعد تصدیق کے لئے ان افراد کے خون کے نمونے لے لیے گئے ہیں۔

کورونا کی روک تھا، پاکستان تیار ہے؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

پیر کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد ائیر پورٹ کا دورہ کیا اور چین سے آنے والی پرواز کے مسافروں کی پاکستان آمد پر کورونا وائرس کی اسکریننگ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا اور کہا کہ تمام ہوائی اڈوں پر کورونا وائرس کی اسکریننگ کا جامع نظام موجود ہے لہذا انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن کی سفارشات کے مطابق قواعد پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ادارہ صحت میں ممکنہ کورونا وائرس کیسز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے اور حکومت پاکستان ہر ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب وزارتِ صحت نے بندرگاہوں میں آنے والے جہازوں کی فیومگیشن کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز کے تحت کوئی اضافی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ نیول کورونا وائرس کمیٹی نے چین اور دیگر ممبر ممالک کے ساتھ تجارت یا سفر پر پابندی عائد نہیں کی، بندرگاہ پر تعینات عملہ مال بردار جہازوں سے متعلق قواعد پر عمل درآمد کو سختی سے یقینی بنائے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے ٹیسٹ کا آغاز

ادھر قومی ادارہ برائے صحت نے کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے ٹیسٹ کا آغاز کردیا ہے، وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ 24گھنٹے میں تیار ہو گی، ایک ٹیسٹ پر سات ہزار روپے لاگت آئے گی۔

ذرائع وزارت صحت کے مطابق کورونا وائرس ٹیسٹ کی رپورٹ 24 گھنٹے میں تیار ہوگی، وائرس کی تشخیصی کٹس چین سے درآمد کی گئی ہیں۔ اس کٹ کی مالیت دو ہزار امریکی ڈالر ہے، ایک تشخیصی کٹ سے 50مریضوں کے ٹیسٹ ممکن ہو سکیں گے، کورونا وائرس کے ایک ٹیسٹ پر 7 ہزار روپے لاگت آئے گی۔

قومی ادارہ صحت نے کورونا وائرس ٹیسٹ کیلئے معیار کا تعین کرلیا، ہر مشتبہ مریض کے نمونے کا کورونا ٹیسٹ نہیں کیا جائے گا، مشتبہ مریض میں اہم علامات اور تجویز کردہ ہسپتالوں سے موصول نمونوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جائے گا، ہسپتال کورونا کے مشتبہ مریض کا نمونہ اور علامات بھجوانے کا پابند ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں کورونا مریضوں کیلئے علیحدہ ہسپتال

دوسری جانب محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے میں کورونا وائرس کے ممکنہ کیسز کے پیش نظر علیحدہ ہسپتال مختص کردیا ہے تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا اور اس کا تدارک کیا جا سکے۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے اور مشتبہ مریضوں کے علاج کے لیے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال پشاور کو مختص کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے مذکورہ ہسپتال میں کورونا وائرس کے لیے نیشنل گائیڈ لائنز کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ ہسپتال میں آنے والے مشتبہ کیسز کے نمونے تصدیق کے لیے قوی ادارہ برائے صحت (NIH) اسلام آباد کو بھیجے جائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق ہسپتال میں کورونا وائرس کے علاج کے پیش نظر ایمرجنسی اور دیگر روزمرہ صحت سہولیات کی فراہمی روک دی گئی، روزمرّہ علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو شہر کے دیگر سرکاری ہسپتالوں سے استفادہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تھرکول ایریا بلاک ٹو کے 700چینی شہریوں کی واپسی روک دی گئی

چین میں کورونا وائرس کے بعد چھٹی پر گئے تھرکول ایریا بلاک ٹو کے 700چینی شہریوں کی واپسی روک دی گئی ہے، متعلقہ کمپنی نے ان چینی شہریوں کی واپسی کو دونوں ممالک کے کلیئرنس سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا ہے۔

ترجمان اینگروکول مائنز کمپنی محسن ببر کے مطابق تھر کول ایریا بلاک ٹو میں کام کرنے والے 700 سے زائد چینی شہریوں کی واپسی روک دی گئی ہے، تھرکول ایریا میں کام کرنے والے چینی شہری نئے سال کے موقع پر اپنے ملک چین گئے تھے۔

ترجمان کے مطابق واپس آنے والے چینی شہریوں کے لئے کورونا وائرس سے دونوں ممالک کے حکومتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیاگیا ہے، تتھر کول بلاک ٹو پر تقریبا 750 چائینز کام کرتے ہیں جن میں 700 چھٹی پر اپنے ملک گئے ہیں جہاں کورونا وائرس کے سبب ان ملازمین کے لئے یہ پالیسی ترتیب دی گئی ہے ۔

چین کا امریکا کی مدد کی پیش کش قبول کرنے سے انکار

چین ماضی کے بحرانوں کی نسبت کورونا وائرس سے نمٹنے میں زیادہ شفاف ہے لیکن اس نے ابھی تک امریکا کی جانب سے اس مہلک وائرس پر قابو پانے کے لیے مدد کی پیش کش کو قبول نہیں کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہاکہ اب تک چینی ماضی کے بحرانوں کی نسبت یقینی طور پر زیادہ شفاف واقع ہوئے ہیں اور ہم اس کو سراہتے ہیں، امریکا نے چین کو میڈیکل اور صحت کا پیشہ ور عملہ بھیجنے کی پیش کش کی تھی لیکن ہمیں چین کی جانب سے اس پیش کش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے لیکن ہم ان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

چین میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین پر پابندی عائد

چین کے شہر ووہان سے متعدد ممالک میں پھیل جانے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چینی حکام نے اس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین پر پابندی عائد کردی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) کی جانب سے نئے ضوابط جاری کیے گئے جس میں کہا گیا کہ وائرس سے ہلاک مریضوں کی تدفین کی بجائے ان کی لاشوں کو قریبی مرکز میں جلایا جائے گا۔

یہ نئے ضوابط اس وقت سامنے آئے جب اس وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 361 اور 17 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جو چین بھر میں پھیلنے کے بعد 2 درجن ممالک تک پہنچ چکا ہے۔

ایچ ایچ سی ضوابط کے تحت اگر کورونا وائرس کے مریض کی موت ہوتی ہے تو جس حد تک ممکن ہو، آخری رسومات کی ادائیگی کی جائے، اسی طرح طبی عملے کی جانب سے موت کا سرٹیفکیٹ لیا اور خاندان کو اس موقع پر آگاہ کرنے کے ساتھ مقامی تدفین کے اداروں سے رابطہ کیا جائے گا اور ان کا کوئی نمائندہ لاش کو لے کر متعلقہ مرکز تک پہنچائے اور اسے جلائے گا۔

اس کے بعد جلائے جانے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا جائے گا، کسی کو بھی یعنی رشتے داروں کو اس عمل کے دوران مرکز میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم جلائے جانے کے بعد باقیات ان کے حوالے کی جائیں گی اور دستاویزات مکمل کیے جائیں گے۔

"مشکل گھڑی میں پاکستان کے اعتماد اور حمایت پر شکر گزار ہیں”

پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ نے ووہان کے سوا باقی شہروں سے پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل گھڑی میں پاکستان کے اعتماد اور حمایت پر شکر گزار ہیں، وائرس کی روک تھام کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، پچاس سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، دنیا کو اپنے اقدامات سے آگاہ کر رہے ہیں، امید ہے اس وبا سے نمٹ لیں گے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی تشخیص کی کٹس ملی چکی ہیں ، ہم نے سات کیس ٹیسٹ کئے ،تمام نیگٹو ہیں ،چین سے آنے والوں میں کوئی بھی متاثرہ یا مشتبہ شخص نہیں ملا، چین موجود لوگوں کو چودہ دن میں پراسیس مکمل کر نا ہوگا، اگر سو لوگ وائرس سے متاثر ہیں تو تین کی موت ہو سکتی ہے، ہمارے پاس وقت وائرس کا کوئی مخصوص علاج اور ویکسین نہیں، وائرس متاثرہ کئی لوگوں کو شدید نمونیا ہو سکتا ہے، آنے والے دنوں میں لاہور کراچی اور دیگر شہروں میں بھی کٹس پہنچائیں گے۔

پیر کو وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا  بائیس جنوری سے چائنیز حکومت سے وائرس کے خلاف سنجیدہ اقدامات شروع کر رکھے ہیں، وائرس کی وجہ سے چائنہ میں ہم نے لوگوں کی نقل و حرکت کو روک دیا ہے، تمام قسم کے ایونٹس اور سیلیبریشنز پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔

چینی سفیر نے کہاکہ ہم وائرس سے سنجیدگی سے نمٹ رہے ہیں، ہم اپنی پوری ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، ورلڈ ہیلٹھ آرگنائزیشن کی ہیلتھ ایمرجنسی کو سراہتے ہیں، اس وائرس کا سامان کرنے کے لئے چائنہ ہر اعتماد ہے، چائنہ اپنے اور وہاں رہنے والے دیگر ممالک کے لوگوں کی صحت کا ذمہ دار ہے، چائنہ پر پاکستان کا اعتماد قابل تعریف ہے، پاکستانی حکومت چائنہ حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے یہ اقدام قابل تعریف ہے۔

یاؤ جنگ نے کہا کہ چائنہ لوگوں کی صحت کے بارے میں فکر مند ہے، ووہان میں پانچ سو آٹھ پاکستانی طلبا ہیں، ووہان میں گیارہ ملین چائنیز بھی ہیں، ہماری حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، پاکستانی اور چائنیز دفتر خارجہ رابطے میں ہیں، پاکستانی طلبا بھی ہمارے اپنے ہیں، ہم پاکستانی دوستوں کا علاج اپنوں کی طرح کررہے ہیں، ہم ووہان میں رہنے والے کوگوں کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دے رہے۔

پاکستان آنے والے چینی باشندوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ ہم اپنے شہریوں کی بیرون ملک سفر کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہے، پاکستان آنے والے 12 چینی باشندوں میں 4 بزنس مین بھی شامل ہیں، ان تمام افراد کو سخت سکریننگ کے بعد سفر کی اجازت دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہم نے اپنے انتظامات مکمل کر لئے ہیں، صوبوں کے ساتھ بھی مشاورت ہو گئی ہے، ہماری کچھ ٹیمیں صوبوں میں روانہ ہوں گی جو صوبوں کے ساتھ ملکر کام کریں گی۔

اس بارے میں مزید پڑھیں:

کورونا وائرس کا علاج کرنے والا واحد پاکستانی ڈاکٹر

"صحتیابی تک پاکستانی چین ہی میں رہیں گے”

کورونا وائرس، چین کیلئے فضائی آپریشن معطل

"ہمیں جلد از جلد چین سے نکالا جائے”

کراچی میں کورونا کے 8 مشتبہ کیسز رپورٹ

کورونا وائرس، پاکستان نے الرٹ جاری کر دیا

کورونا وائرس جرمنی بھی پہنچ گیا

کورونا وائرس، صورتحال ہنگامی ہے۔ عالمی ادارہ صحت

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی تشخیص کی کٹس ہمیں مل گئی ہیں، کٹس سے ہم نے سات کیس ٹیسٹ کئے، وہ ساتوں کیسز نیگٹو ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق چائنیز فلائٹس کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، چائنہ سے آنے والے مسافروں کو میں نے خود ریسیو کیا، ہمیں کوئی بھی متاثرہ یا مشتبہ شخص نہیں ملا، کوئی بھی پاکستانی یا چائنیز چودہ دن سے پہلے چائنہ نہیں چھوڑ سکتا۔، چودہ دن میں چائنہ میں پراسیس مکمل کرنا ہوگا، صوبوں میں ہم نے صورت حال کا ریویو کیا ہے، ہم نے چینی سفیر کو خاص طور پر پاکستانی عوام سے بات کرنے کی دعوت دی ہے، ہم پاکستانی طلبا کے بارے میں کافی فکر مند ہیں، چائنہ میں متاثرہ پاکستانی چار طلباء ووہان سے باہر ہیں، وہ چار طلبا تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں، ان چار کے علاوہ اور کوئی بھی پاکستانی وائرس سے متاثر نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ  چائنہ کوشش کر رہا ہے کہ یہ بیماری عالمی سطح پر نہ پھیلے، بیماری کو عالمی سطح ہر پھیلنے سے روکنے کے لئے ووہان کو بند کرنا ضروری ہے، عالمی ادارہ صحت بھی کہہ چکا ہے کہ یہ اقدام ضروری ہے، ڈائگنوسٹک کٹس کی تعداد پوری دنیا میں محدود ہے، یہ کٹس ابھی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں ہیں، آنے والے دنوں میں لاہور کراچی اور دیگر شہروں میں بھی کٹس پہنچائیں گے۔

چینی سفیر نے کہا کہ ہمیں کوئی اندازہ نہیں کہ کب تک کورونا وائرس پر قابو پر پا لیں گے لیکن ہماری خواہش ہے کہ جلدی اس وائرس سے نجات مل جائے، پاکستان چائنہ کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا ہوتا ہے، چائنہ کے لئے پاکستان کی سپورٹ کا یہ وقت بہت اہم ہے، پاکستان ہمارا سچا اور وفادار دوست ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کا سفر کرنے والے ہر چائنیز کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں، چائنہ سے آنی والی فلائٹس میں اسی فیصد پاکستانی لوگ واپس آرہے ہیں ، ہم پاکستانی طلبا کے علاج ، حفاظت اور خوراک کی پوری ذمہ داری لے رہے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button